کیا قربانی معصوم جانداروں کا ناحق قتل ہے ؟-عاطف سہیل صدیقی

چوپایوں کی قربانی دین اسلام کا ایک اہم فریضہ اور دینی روایت ہے۔ لاعلمی میں مبتلا انسانوں کا ایک طبقہ قربانی کو ایک ظالمانہ رسم اور جانداروں کا نا حق قتل سمجھتا ہے ، جبکہ قرآن کریم میں تمام جانداروں کی جانوں کی حرمت کے متعلق واضح پیغام موجود ہے: وَالَّـذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّـٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُـوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا (الفرقان آیت 68)
(ترجمہ: اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے اور زنا نہیں کرتے، اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا۔)
مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کسی بھی جاندار کو بلا وجہ قتل کرنے کی ممانعت بیان کر دی ہے ، اور جو شخص ناحق کسی مخلوق کو مار ڈالتا ہے وہ گنہگار ہے ، کسی جاندار بالخصوص انسان کا ناحق قتل شریعت اسلامیہ کی نظر میں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ قربانی جانداروں کا قتل نہیں ، بلکہ جان لینے کا وہ حق ہے جو انسانوں کو خدا تعالی نے عطا کیا ہے۔ یعنی انسانوں اور دیگر تمام جانداروں کے خالق نے یہ حق انسانوں کو دیگر جانداروں پر عطا کیا ہے۔ چونکہ زندگی اللہ تعالی کا عطا کردہ تحفہ ہے اور خالق کو ہی اس زندگی کو واپس لینے کا حق بھی ہے ، لہذا خدا کسی بھی جاندار کی زندگی کو واپس لینے کے لئے کسی بھی اصول اور طریقے کو نافذ کرنے کے لئے انسان کی مرضی کا پابند نہیں ہے۔ یعنی اگر کچھ انسان اپنی محدود عقل کی بنیاد پر جاندار کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے خدا تعالی کے قائم کردہ کسی اصول یا عمل کو پسند نہیں کرتے ہیں تو کیا خدا ان کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لئے پابند ہوگا؟ ہرگز نہیں! خدا کسی بھی اصول اور طریقۂ کار کے ذریعہ کسی بھی جاندار کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے آزاد ہے اور وہ اس کے لیے کسی بھی انسان کو جواب دہ نہیں ہے۔ جبکہ یہ انسان کی سعادت ہے کہ وہ خدا تعالی کے قائم کردہ اصول و نظام کے تابع ہوکر بلا چوں و چراں اسکی اطاعت کرے۔ اور خدا تعالی کے قائم کردہ نظام کی اطاعت ہی خدا کی ذات کے ساتھ سچی عقیدت کا اظہار ہے۔ انسان کا خدا تعالی کے حکم پر عمل کرنا ہی انسان کی معراج ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہے کہ جاندار کا قتل اور قربانی کرنے میں جو فرق موجود ہے وہ خدا تعالی کے حکم کی اطاعت اور اسکے حکم کی نافرمانی میں مضمر ہے۔ وہ چوپایا جسے اللہ تعالی نے قربانی کے لئے منتخب کیا ہے ، اسی جانور کو اللہ کے سوا یعنی غیر اللہ کے نام پر اگر قربان کیا جاتا ہے تو اس عمل کو ایک جاندار کا قتل کہا جائیگا۔ یعنی کوئی بھی جاندار جسے خدا کے نام پر قربان کیا جاسکتا ہے اسے اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا زندگی بخشنے والا ہے اور اسے ہی زندگی کو واپس لینے کا حق حاصل ہے۔ اللہ تعالی کا واضح حکم ہے: وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّـٰهِ عَلَيْهِ وَاِنَّهٝ لَفِسْقٌ ۗ وَاِنَّ الشَّيَاطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓى اَوْلِيَآئِـهِـمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ۖ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُـمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُـوْنَ ( الانعام آیت 121)
(ترجمہ: اور جس چیز پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اس میں سے نہ کھاؤ اور بے شک یہ کھانا گناہ ہے، اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں باتیں ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں، اور اگر تم نے ان کا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔)
مذکورہ آیت کریمہ کے ذریعے اللہ رب العالمین نے یہ بات واضح کردی ہے کہ زندگی دینے والے کو ہی زندگی لینے کا حق حاصل ہے ، وہ لوگ جو زندگی دینے والے خدا کے علاوہ اپنے معبودان باطل کے نام پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ، در حقیقت وہ ہی جانداروں کے ناحق قتل میں ملوث ہیں، لہذا انکا خون بہا حرام ہوا اور غیر اللہ کے نام پر انکی جان لینا بھی حرام ہوا لہذا ناحق قتل کے سبب انکا گوشت بھی حرام ہوا۔ چونکہ مخلوق کو زندگی اللہ تعالی نے عطا کی ہے ، تو یہ زندگی صرف اللہ کے نام پر ہی قربان کی جاسکتی ہے۔ خدا کے سوا کوئی زندگی نہیں دے سکتا ، لہذا کسی دوسرے کے نام پر ایک جاندار کی جان بھی تلف نہیں کی جاسکتی ہے۔ اور یہی ناحق قتل ہے۔

اللہ تعالی انسان کے خلوصِ عبادت اور اس کے تقوی کو قبول کرتا ہے۔ اسے قربانی والے جانور کے گوشت اور خون سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، اسی لیے رب کائنات نے اپنے نام پر قربان کئے گئے جانور کے گوشت کو انسان کا پیٹ بھرنے کے لئے انسان کے لیے حلال کردیا ہے۔ اس حلت کی شرط بھی یہی ہے کہ یہ قربانی اللہ تعالی کی طرف سے نازل کئے گئے اصول و ضوابط کے مطابق اللہ تعالی کی ربوبیت اور وحدانیت کے اعتراف کے ساتھ کی گئی ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے: لَنْ يَّنَالَ اللّـٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُـهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ ۚ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَـبِّـرُوا اللّـٰهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّـرِ الْمُحْسِنِيْنَ (الحج آیت 37)
(ترجمہ: اللہ کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیزگاری اس کے ہاں پہنچتی ہے، اسی طرح انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بزرگی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی، اور نیکوں کو خوشخبری سنا دو۔)

گوشت خوری کے اخلاقی اور غیر اخلاقی پہلو سے قطع نظر یہ بات تو واضح ہے کہ گوشت خوری فطری اور سائنسی عمل ہے۔ انسان کی آنتوں اور دانتوں کی بناوٹ اور ساخت کے علاوہ ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ سبزہ خور مخلوق گوشت خوری نہیں کرتی اور گوشت خور مخلوق سبزہ خوری نہیں کرتی۔ جب کہ انسان کا ہمہ خور (omnivirous) ہونا انسان کے فطری طور پر گوشت خور ہونے کی دلیل ہے۔ لہذا قربانی کا عمل فطرت کے مطابق ایک خدائی قانون ہے ، جس میں بہت سے نکات موجود ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل کرے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی فرماں برداری کا ثبوت پیش کرے ، اسلامی عقیدے کے مطابق اس زمین پر انسان اللہ تعالی کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کوئی بھی غلام اپنے آقا کی مکمل اطاعت کے بعد ہی آقا کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا مخلوق کو عطا کردہ زندگی کو واپس لینے کے لئے کوئی بھی قاعدہ اور ضابطہ مقرر کرسکتا ہے اور وہ بحیثیت رب و آقا اس کے لیے پوری طرح آزاد ہے ، انسان کی خواہش اور ناپسندیدگی خدا کو کسی دوسرے قواعد و ضوابط کا پابند نہیں کرسکتی ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنی محدود عقل کا استعمال کرکے خدائی قوانین کا تجزیہ کرنے کی حماقت کرتا ہے اور لامحدود عقل اور لامحدود طاقت والے خدا کے قوانین اور طریقۂ کار کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے ، لہذا انسان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا امتحان خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے میں ہے۔ یہاں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں۔ جب کوئی عدالت کسی مجرم کو موت کی سزا سناتی ہے اور اس سزا پر عمل کیا جاتا ہے تو اسے کوئی بھی شخص جاندار کے قتل سے تشبیہ نہیں دیتا۔ انسانی ذہن اور عقل نے سزائے موت کو جان تلف کرنے کے حق کے طور پر قبول کر لیا ہے ، انسانی فکر اور تخیلات سزائے موت کو جاندار کا قتل قرار نہیں دیتے۔ یعنی انسانی عقل نے قبول کر لیا ہے کہ زندگی تلف کرنے کا یہ عمل جاندار کا قتل نہیں ہے جبکہ خدا جو قادر مطلق ہے اور زندگی دینے والا ہے اور لینے والا ہے ، انسان اس کے حکم کے مطابق کسی جاندار کی قربانی کے عمل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ، خدا کی تخلیق کردہ کسی مخلوق کی زندگی کو تلف کرنے کے خدائی قانون پر انگلی اٹھانا دراصل انسان کی کج فہمی ہے اور اس کج فہمی کے لیے اس کی ناقص عقل ذمہ دار ہے نہ کہ خدا تعالی کا ابدی اور فطری قانون ۔ خدائی قوانین ہمیشہ فطری تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*