کیا مسلمان باغی ہیں…؟-معصوم مرادآبادی

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ایک بار پھر اس موضوع پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ آخر اس قانون کا اطلاق مسلمانوں کے خلاف اتنی آسانی سے کیوں کردیا جاتا ہے۔ کیا ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی اور وطن دوستی کا معاملہ اتنا نازک ہے کہ کسی معمولی واقعہ کے بعد انھیں وطن پرستی کی کسوٹی پر کھرا اترنا ضروری ہے۔ جب کہ اس معاملے میں دیگر فرقوں کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ انھیں کبھی اس بات کا ثبوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی کہ وہ حب الوطن ہیں یانہیں۔آئیے پہلے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے معاملے پر نظر ڈالتے ہیں جو تعزیرات ہند کی دفعہ 124 A (بغاوت اور فتنہ انگیزی) کا تازہ ترین شکار بنائے گئے ہیں۔دراصل انھوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے حکومت کویت کا شکریہ ادا کیا تھا اور اس کے ساتھ ہیں ان جارحیت پسند ہندتوا عناصر کو متنبہ کیا تھاجنھوں نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کی انتہائی شرمناک مہم چلارکھی ہے۔اس پوسٹ کی بنیاد پر نیوزچینلوں نے ان کے خلاف زبردست محاذ آرائی شروع کردی اور ملک کے اندرونی معاملات کو بیرونی ملکوں تک پہنچانے کے ’جرم‘ میں ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انھیں دہلی اقلیتی کمیشن کی چیئرمین شپ سے برخاست کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا ماحول بنایا جانے لگا۔ انھوں نے جو بات جارحیت پسند ہندتوا عناصر کے بارے میں کہی تھی، اسے ہندومذہب سے جوڑ دیا گیا، جبکہ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔اس معاملے میں سوشل میڈیا پر سرگرم فرقہ پرست اور فسطائی جماعتوں کی ٹرول آرمی نے انھیں انتہائی برے الفاظ سے پکارا اور ان کی کردارکشی شروع کردی گئی۔بی جے پی کے ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کرکے انھیں عہدے سے برخاست کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد وسنت کنج کے رہنے والے ڈاکٹر کوشل کانت نے ان کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ان کے خلاف بغاوت اور فرقہ وارانہ منافرت کا تحت مقدمہ درج کرلیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹرظفرالاسلام خان کے خلاف بغاوت کی دفعہ 124 A کے تحت جو کارروائی کی گئی ہے،وہ کس حد تک حق بجانب ہے اور انصاف کی عدالت میں وہ کتنی قابل قبول ہوگی۔انھوں نے اپنی پوسٹ میں جو کچھ کہا تھا، اسے محض اس بنیاد پر وطن دشمنی کے زمرے میں رکھا گیا کیونکہ فرقہ پرست اور فسطائی عناصر نے ایسا کرنے کامطالبہ کیا تھا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی مسلمان کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت کارروائی کی گئی ہے بلکہ جب سے بی جے پی مرکز میں مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے تب سے مسلسل یہی ہورہا ہے۔ جہاں کہیں مسلمانوں کا معاملہ ہوتا ہے وہاں پولیس اور سرکاری مشینری دو قدم آگے بڑھ کر کارروائی کرتی ہے اور مسلمانوں کو سخت ترین دفعات کے تحت ماخوذ کیا جاتا ہے۔ان میں بغاوت اور ملک دشمنی کی دفعہ حکومت کو سب سے زیادہ مرغوب ہے۔اس کی ایک مثال ہم کرناٹک کے بیدر ضلع میں ہوئے ایک واقعے سے دینا چاہیں گے، جہاں شاہین پبلک اسکول کے سالانہ پروگرام میں طلباء نے شہریت ترمیمی قانون کے تعلق سے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا تھا۔ وہاں وشوہندوپریشد کے ایک مقامی کارکن نے پولیس کو یہ اطلاع دی کہ اسکول میں وطن دشمنی پر مبنی ڈرامہ اسٹیج کیا گیا ہے اور اس میں وزیراعظم کی توہین بھی کی گئی ہے۔ لہٰذا پولیس فوراً حرکت میں آگئی اور بی جے پی کے اقتدار والی اس ریاست میں اسکول انتظامیہ کو وطن دشمنی کے نرغہ میں لے لیا گیا۔اسکول کے پرنسپل، اساتذہ، طلباء اور ان کے والدین سے سخت پوچھ تاچھ کی گئی اور ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جن لوگوں پر اس معاملہ میں کارروائی کی گئی ہے، ان میں ڈرامے میں حصہ لینے والے ایک کمسن بچے کی ماں بھی شامل ہے۔اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں اب مسلمانوں کی حب الوطنی کا معاملہ کتنا نازک ہوگیا ہے اور اس معاملے میں وہ کس حد تک تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں کہ کمسن طلباء اور ان کے والدین کو بھی ایک ڈرامے میں حصہ لینے کے عوض اپنی وطن پرستی کا امتحان دینا پڑرہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیے ہم ایک نظر بغاوت کے اس قانون پر ڈالتے ہیں جوانگریزسامراج کی یادگار ہے۔ اس قانون کوانگریزوں نے اپنے ان مخالفین کوسبق سکھانے کے لئے 1870میں بنایا تھا جواس کے ناجائز اقتدار کے لئے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتے تھے۔آزاد ہندوستان میں اس قانون کو ختم کرنے کی بجائے اسے جوں کا توں اپنالیا گیا اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ قانون انہی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جس کے لئے انگریزوں نے اسے بنایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت برطانیہ نے اس قانون کو اپنے یہاں ختم کردیا ہے، لیکن یہ قانون ہمارے ملک میں جاری و ساری ہے۔تعزیرات ہند کی دفعہ124Aمیں ملک سے غداری کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص حکومت مخالف مواد لکھتا ہے یا بولتا ہے یا پھر ایسے کسی مواد کی حمایت بھی کرتا ہے تو اسے عمر قید یاتین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔قابل ذکربات یہ ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں اس قانون کا استعمال مہاتما گاندھی اور بال گنگا دھر تلک کے خلاف بھی ہوچکا ہے۔
جو لوگ ہندوستان میں اس قانون کو ختم کراناچاہتے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس قانون کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف استعمال کیا جاتا جارہا ہے۔ مہاتما گاندھی پر 1922میں اپنے اخبار’ینگ انڈیا‘ میں سیاسی طور حساس مانے گئے تین مضامین لکھنے کے لئے بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ ان کے مضامین برٹش سرکار کے خلاف بے اطمینانی پیدا کرنے والے تھے۔ اس مقدمہ میں انھیں چھ سال کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں 26مئی 1953 کو فارورڈ کمیونسٹ پارٹی کے ممبر کیدار ناتھ سنگھ پر حکومت مخالف تقریر کرنے کے معاملے میں جب مقدمہ چلا تواس معاملے کو فیصل کرتے ہوئے 1962 میں سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ ”کسی شہری کو سرکار پر تنقید کرنے اور اس کے خلاف بولنے کاپورا حق ہے، جب تک کہ وہ تشدد کو بڑھاوا نہ دے۔“
ظاہر ہے کہ ہم ایک جمہوری نظام میں رہتے ہیں اور یہاں اظہاررائے کی آزادی کوبنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ان لوگوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کئے جارہے ہیں جو اپنے اس جمہوری حق کو استعمال کررہے ہیں۔ اس کا تازہ ثبوت شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ حکومت کا ظالمانہ سلوک ہے۔ جن لوگوں نے اس قانون کے خلاف اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے تحریک چلائی یا اس کی حمایت کی وہ سب کے سب حکومت کے نشانے پر ہیں۔ ایسے درجنوں لوگوں کو لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاکر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے اور ان کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق انتہائی سخت قانون یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے تاکہ وہ آسانی سے ضمانت نہ حاصل کرسکیں۔ ان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک طالبہ صفورہ زرگر بھی ہے جو تین ماہ کی حاملہ ہے۔ یہ طالبہ اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرول آرمی کا سب سے بڑا نشانہ ہے ۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ شاہین باغ یا اس جیسے دوسرے احتجاجی پروگرام پوری طرح پرامن تھے اور ان میں ملک گیر سطح پر لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا۔ یہ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال تھا جس پرکوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔لیکن دہلی میں ان احتجاجی پروگراموں میں حصہ لینے والوں کو شمال مشرقی دہلی میں فساد پھیلانے کا ملزم بنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیاہے۔ اس کے برعکس کپل مشرا، انوراگ ٹھاکراور پرویش ورما جیسے بی جے پی لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جنھوں نے کھلے عام ’دیش کے غداروں‘ پرگولیاں برسانے کی باتیں کہیں اور پولیس کی موجودگی میں دھمکیاں دیں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح حکومت آخر کیا پیغام دیناچاہتی ہے۔انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں پر غداری کے مقدما ت اور انسانیت کو تاراج کرنے والوں کو پولیس کا تحفظ آخر کیا معنی رکھتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا اور خود ہمارا ملک کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے جوجھ رہے ہیں تو سرکاری مشینری اور میڈیا مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کررہا ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں یہ مذموم طرزِ عمل انسانیت کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)