19 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

کیا مہمیز کے بغیر ہم نہیں چل سکتے ؟مسعود جاوید

ہم مسلمانوں کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ جب ہمیں مصیبتیں گھیر لیتی ہیں تو ہم وقتی طور پر سدھر جاتے ہیں:-

١- فرقہ وارانہ فسادات ہمیں مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر صرف ایک دین اور اس کی شریعت پر متحد ہونے اور ذات برادری اعلی و ارذل امیر و غریب کے فرق کو نظر انداز کرکے ایک ملت کی طرح سینہ سپر ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ مشکلات کی ان گھڑیوں میں ہی ہم حقیقی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں ہم یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں کہ کون سنی ہے اور کون شیعہ کون دیوبندی ہے اور کون بریلوی کس کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور کس کا اہل حدیث سے کون اشرافیہ طبقہ سے ہے اور کون ارذال کون صاحب ثروت مالدار ہے اور کون متوسط hand to mouth اور کون مسکین غریب اور مفلوک الحال، کون سرکاری عہدے پر فائز ہے اور کون درجہ چہارم کا ملازم کون تاجر ہے اور کون کسان اور کون کھیتوں میں کام کرنے والا مزدور۔۔۔۔ مصیبت کی گھڑی میں صرف یہ جاننا کافی ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اسی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کا دفاع اور حفاظت کرنے کے لئے میدان میں نکل آتے ہیں۔

٢- موجودہ کورونا وائرس کی وباء نے مسلمانوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اس لئے کہ تمام مادی وسائل، ترقی پذیر ملکوں کے اطباء سائنسدان اور میڈیکل فیلڈ میں غیر معمولی ترقیوں کے باوجود اٹلی بھی جو میڈیکل سائنس اور سروس میں پوری دنیا میں نمبر ٢ پر ہے اس کے وزیر اعظم نے روتے ہوئے موجودہ مہلک وباء پر قابو پانے میں اپنے مادی وسائل کی عدم افادیت اور اپنی بے بسی کا اعلان کرتا ہے کہ ” میں نے زمین پر میسر تمام اسباب اپنا کر دیکھ لیا پھر بھی اس عذاب سے اپنے لوگوں کو بچا نہیں پا رہا ہوں اس لئے اب آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں” عرش بریں سے ہی التجاء ہے کہ وہ اس وباء سے ہمیں نجات دے۔

فاخذناهم بالباساء والضراء لعلهم يتضرعون (قرآن) تو ہم نے ان کو فقر و فاقہ تنگدستی اور امراض و آلام سے پکڑ لیا کہ ممکن ہے اس طرح وہ اللہ کے سامنے گڑگڑائیں.
یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت ہے جب سرکشی عام ہو جاتی ہے تو وہ چاہے تو سکنڈ میں پوری دنیا کو زیر زبر کر دے مگر وہ بڑا رحیم و کریم ہے وہ چھوٹے چھوٹے آلام و مصائب بھیج کر ہمیں سدھرنے کا موقع دیتا ہے کہ شاید بڑے عذاب سے پہلے انسان اللہ کی قدرت تامہ کا اعتراف کر لے اور بے بسی کا احساس کرکے اللہ کی طرف رجوع ہو اپنی غلطیوں کا اقرار کرے اور گڑگڑا کر اللہ قادر مطلق سے معافی مانگے۔ ۔۔۔ آج ہم توبہ واستغفار کر رہے ہیں قنوت نازلہ کا اہتمام ہو رہا ہے اور نماز کی پابندی ہو رہی ہے! کیا بغیر مہمیز ہم اپنے رب کی رضا کے لئے عبادت نہیں کر سکتے؟

متعلقہ خبریں

Leave a Comment