کیا مدارس دلت مخالف ہیں؟ ـ ہمایوں اقبال ندوی

پہلی بارسرزمین بہارسےمدرسہ کے خلاف ایک ایسی آواز اٹھی ہے جوکسی نے اس سے قبل نہیں کہی ہےاورنہ سننے میں ہی یہ بات آسکی ہے۔ ایک نیااورتازہ الزام مدرسہ پرایک بی جے پی ممبراسمبلی نے رکھ دیا ہےجس کی ہمت آج تک کسی نے نہیں کی ہے۔مورخہ 9/جون بروزمنگل ریاست بہار کے ضلع بانکا میں ایک مدرسہ میں دھماکہ ہوا،اس کی جانچ ڈی آئی جی سجیت کمارجی اورہیڈ کوارٹر کی ٹیم کے ذریعہ کی جارہی ہے ۔اس کی اصل وجہ ہنوز سامنے نہیں آئی ہے،باوجود اس کے بسفی اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی ہری بھوشن میدان میں کود گئے ہیں اور وہی پرانی باتیں اور مدرسہ مخالف زہر افشانی انہوں نے شروع کردی ہےکہ مدرسہ میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا گھسا پٹا مدرسہ پربوسیدہ وفرسودہ الزام ہےجو آج تک ثابت نہیں ہو سکا ہےاورنہ اس کے ثبوت کی کوئی امیدکی جاسکتی ہے۔اس الزامیہ بیان کا قابل توجہ پہلو یہ ہےکہ انہوں نے مدرسہ کے خلاف ایک نیا شوشہ بھی چھوڑا ہےاور مدرسہ کو دلت مخالف بھی کہا ہے۔ ان کے الفاظ میں سنئے جذبات کی رو میں بہتے ہوئے یہ کیاکہ رہے ہیں؟” بانکا مدرسہ میں دھماکہ سے ثابت ہوجاتا ہے کہ مسجداورمدرسہ جیسی جگہوں پرصرف دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے،مدرسوں میں دلت اورپسماندہ طبقہ کو ہراساں کرنےکی تعلیم دی جاتی ہے۔وہاں پڑھایا جاتا ہےکہ کمزورطبقہ کوپریشان کرکے اسلام قبول کرنےپر مجبور کرو، بہارکےکشن گنج،دربھنگہ،جموئی اور گوپال گنج میں لگاتار دلت طبقہ کےاوپراقلیتوں کے ذریعہ ہراساں کئے جانے کی واردات کو انجام دیا گیا”ـ(روزنامہ انقلاب، شائع شدہ 10/جون 2021)
یہ الزام مدرسہ پر پہلی بار اپنی ریاست بہار سے لگا ہے،کچھ جگہوں کی تعین سے الزام دہندہ کے ناپاک عزائم کا پتہ چلتا ہے اور اس معاملہ کوایک نیا رخ دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے،اسی لئے حکومت بہار سے مدارس کو بند کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔اور ریاست بہار کی ایک بڑی آبادی جو دلت اور پسماندہ ہے،اسے ورغلانے اور اشتعال دلانے کااس نےکام کیا ہے۔دیکھنے میں یہ محض ایک الزام ہے مگرغورکرنےپرمدارس اسلامیہ کی بنیاد کو ہلانے کی ایک کوشش ہے۔یہ مدرسہ کی بنیاد پر حملہ ہے۔مدرسہ کی بنیادی تعلیم ہی غریب ومظلوم کے حقوق پر تحریک کرتی ہے۔ مدرسہ کی ابتدا صفہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہے۔صفہ مسجد نبوی کے سامنے ایک چبوترے کا نام ہے۔جہاں مظلوم ، غریب اور پسماندہ ومفلوک الحال اور کمزوروبےسہارا لوگ بیٹھے رہا کرتے ،وہاں سے ان کی اعانت ونصرت اور امداد وتعاون کی تحریک شروع ہوئی ہے۔اس لئے آج اس عنوان پر مدارس میں خاص تعلیم دی جاتی ہے اور دنیا کے تمام مدارس کی کڑی اسی صفہ نبوی سے جڑی ہے۔حضرت علی میاں فرماتے ہیں:پہلے مدرسہ کی بنیاد مسجد نبوی میں رکھی گئی اور اس مدرسہ کانام صفہ تھا۔آپ مجھے معاف کریں میں مدرسوں میں صحیح النسب مدرسہ اور عالی نسب مدرسہ اسی کو مانتا ہوں جس کا شجرہ نسب صفہ نبوی پر جاکرختم ہوـ (پاجاسراغ زندگی ص:191)
حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں مدارس کا مطلب ؛جنہوں نے ہدایت کا پیغام دیا،جنہوں نے قربانی کا پیغام دیا،جنہوں نے خودنقصان اٹھاکردوسروں کو نفع پہونچانے کاپیغام دیا کہ اپنازیاں مقصود ہے، اپنازیاں گوارا ہے،لیکن دوسروں کازیاں گوارہ نہیں۔جنہوں نے یہ پیغام دیا کہ اپنے گھر میں اندھیرا رکھ کردوسروں کے گھروں میں روشنی کا انتظام کرو،اپنے پیٹ پرپتھر باندھ کر دوسروں کے بچوں کاپیٹ بھرنےاوران کو کھلانےکا انتظام کرو(حوالہ سابق)
وطن عزیز میں مدارس کا مطالعہ بھی یہی کہتا ہے،ملک وملت کے لئے ان کی قربانیاں اظہر من الشمس ہے۔ازہرہنددارالعلوم دیوبند کی بنیاد ہی قربانیوں سے اور قربانیوں کے لئے ہی ڈالی گئی ہے۔جامعہ مظاہر،دارالعلوم ندوةالعلما اورملک میں پھیلے تمام مدرسوں کا سلسلہ صفہ نبوی سے ہی جڑا ہے۔ان مدارس کی بنیادی تعلیم مذکورہ بالا اصولوں پر دی جارہی ہے۔ان مدارس سے پڑھ کر بیشمار علماء انسانیت کا درس دیتے ہیں اور غریب ومظلوم کی اعانت کرتے ہیں۔کل ہند پیام انسانیت فورم کو قائم کرنے والے یہ مدارس کے پڑھے لوگ ہیں جو اپنے جسم کا خون دیکر انسانیت کو زندگی بخش رہے ہیں، اس میں کوئی تفریق نہیں کرتے ہیں،بلکہ دلت اور کمزور طبقہ کے لئے ہر موڑ پر کھڑے رہتے ہیں۔جمعیت علماء ہند ہو یامدارس سے نکلنے والے فارغین کی کوئی بھی تنظیم ہو،نام الگ ہوسکتے ہیں مگر اہل مدارس کے کام یکساں ہیں ،یہ انسانیت کی فلاح،بھلااورخدمت خلق ہے،مدارس قربانی کا پیغام دیتے ہیں۔پیٹ میں پتھر باندھ کر ملک وعوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔موجودہ وزیراعظم نے بھی کھل کر اعتراف کیا ہے کہ یہ علما خدمت کا کام کرتے ہیں اور اسمیں کوئی بھید بھاو نہیں کرتے ہیں۔ ریاست بہار میں بھی مدارس کی تاریخ اس پر گواہ ہے ۔اس کے لئے ہمیں بہت پیچھے جانے کی بھی ضروت نہیں ہے۔حالیہ لاک ڈاون میں مدارس نے جو غریب ومظلوم اور دلت وپسماندہ لوگوں کے لئے جو کام کیا ہے،سڑکوں پر مسافروں اور مزدوروں کی راحت رسانی کا فریضہ انجام دیا ہے۔پوراملک اور پوری ریاست بہار کی توجہ ادھر مبذول ہوئئ ہے۔یہ چیزیں ممبراسمبلی کو ہضم نہیں ہورہی ہیں،اسے دھندھلا کرنے کی کوشش ہےاور اس پہلو پر مدارس کو زک پہونچانے کاناپاک ارادہ ہے۔یہ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔اس چھوٹے سے بیان سے بڑی سازش کی بو آتی ہے۔ناچیز اس تحریر کے ذریعہ ارباب مدارس اور علماء کرام سے گزارش کرتا ہے کہ اس بو کو محسوس کریں اور لائحہ عمل تیار کریں ۔ریاستی حکومت سےبھی گزارش ہے کہ ایسے لوگوں کو لگام دے،اس بے تکے بیان سے جو بغیر کسی سند کے ہےاس سے حکومت کی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔