کیا اسماعیل اور اسحاق ایک ماں کی اولاد تھے؟ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

سوال :

ہمارے یہاں ایک مولانا صاحب نے تقریر کی تو اس میں بعض عجیب و غریب باتیں کہیں ، جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھیں ـ مثلاً انھوں نے فرمایا :

(1) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وطن ‘اُر’ (عراق) سے ہجرت کی تو سیدھے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہیں بقیہ زندگی گزاری ـ حرّان ، کنعان ، مصر اور آخر میں مکہ مکرمہ جانے کا تذکرہ کرنے والی روایات غلط اور بے بنیاد ہیں ـ

(2) قرآن میں ہے : وَنَجَّیۡنَـٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِی بَـٰرَكۡنَا فِیهَا لِلۡعَـٰلَمِینَ (الانبیاء :71) اس آیت میں حضرت ابراہیم کی ہجرت کا تذکرہ ہے _ جن آیات میں صرف ‘التی بارکنا فیھا’ ہے ان سے ارضِ شام مراد ہے ، لیکن مذکورہ آیت میں ‘ للعالمین’ کا اضافہ ہے ، اس سے سرزمینِ مکہ کی طرف اشارہ ہےـ

(3) حضرت ابراہیم کی صرف ایک بیوی تھیں ـ انہی کے ساتھ انھوں نے ہجرت کی اور انہی کے ساتھ پوری زندگی گزاری ـ

(4) اسماعیل اور اسحاق دونوں سگے بھائی تھے ، جو ایک ماں کے بطن سے پیدا ہوئے تھےـ

(5) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اسماعیل کو ان کی ماں کے ساتھ مکہ میں آباد کیا تھا اس وقت وہ صحرا اور بے آب و گیاہ وادی نہیں تھا ، بلکہ وہاں مختلف قبائل پہلے سے آباد تھےـ

(6) جن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں : ایک سارہ ، دوسری ہاجرہ ، جنھیں شاہِ مصر نے تحفے میں دیا تھا اور حضرت ابراہیم ہاجرہ و اسماعیل کو ایک ایسے علاقے میں تنِ تنہا چھوڑ آئے تھے جہاں نہ پانی تھا نہ سبزہ نہ آبادی ، وہ تمام روایات جھوٹی ، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں _

مولانا صاحب کی ان باتوں سے ہمارے یہاں بہت تشویش پائی جاتی ہےـ اس لیے کہ یہ باتیں کبھی سنی گئیں نہ پڑھی گئیں ـ مولانا نے جن روایات کو گھڑی ہوئی بتایا ہے وہ حدیث کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں ـ اس نظریے کو ماننے سے ان احادیث کا انکار لازم آتا ہےـ

کیا مولانا صاحب کی یہ باتیں درست ہیں؟ اس سلسلے میں آپ کی کیا تحقیق ہے؟ براہ کرم وضاحت فرما دیں ـ

 

جواب :

(1) علمی میدان میں کوئی نئی بات سامنے آئے ، یا کوئی شخص نئی تحقیق پیش کرے تو تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ دیکھنا چاہیے کہ نئی تحقیق کے پیچھے کیا دلائل ہیں؟ اگر وہ تحقیق دلائل سے آراستہ ہو تو اسے قبول کرنا چاہیے اور اگر دلائل سے عاری ہو تو اسے رد کردینا چاہیےـ آپ کی باتوں سے معلوم نہیں ہوتا کہ مولانا صاحب نے اپنی تحقیق کے کیا دلائل پیش کیے ہیں؟

(2) مولانا صاحب نے جو دعوے کیے ہیں ان کا تعلق دینی عقائد سے نہیں ہے ، بلکہ تاریخ سے ہے _ اگر ان کی نئی آراء قابلِ قبول ہوں تو اس سے دینی مسلّمات کی تردید نہیں ہوجاتی ، بلکہ محض تاریخ کی بعض ایسی باتوں کا علم ہوتا ہے جن سے اب تک واقفیت نہیں تھی ـ علم کا قافلہ ایسے ہی آگے بڑھتا ہےـ

(3) تاریخ نویسی خواہش کے اظہار کا نام نہیں ہےـ جو چیز کسی کو اچھی لگے اسے وہ تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کردے ، علمی دنیا میں یہ رویّہ قابلِ قبول نہیں ہوتا _ اسی طرح کسی معروف اور متداول رائے کو رد کرنے کے لیے بھی مضبوط دلائل کی ضرورت پڑتی ہےـ

(4) بائبل میں حضرت ابراہیم کے اُر سے ہجرت کے بعد مختلف مقامات پر جانے کا ذکر ملتا ہے _ بائبل کی ہر بات غلط ہو ، یہ ضروری نہیں ہےـ بائبل کا بیانیہ غلط ہے ، اسے دلائل سے ثابت کرنا ہوگاـ

(5) ٱلَّتِی بَـٰرَكۡنَا فِیهَا کے الفاظ قرآن میں جن دیگر مقامات پر آئے ہیں ، اگر سب کا اشارہ ارضِ شام کی طرف ہے ، تو سورۂ انبیاء کی آیت 71 کا اشارہ بھی اسی طرف ماننا چاہیے ، محض لِلۡعَـٰلَمِینَ کے اضافہ سے اس کا مُشار الیہ دوسرا ہوجائے ، یہ مضبوط بات نہیں ہےـ پھر اگر بالفرض یہ بات تسلیم کرلی جائے تو اس کا اشارہ مکہ مکرمہ کی طرف ہے ، اس کی قطعی دلیل کیا ہے؟

(6) یہ دعویٰ کہ حضرت ابراہیم کی ایک ہی بیوی تھیں ، جن سے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ، دونوں پیدا ہوئے ، محتاجِ ثبوت ہے، بلکہ قرآن مجید کے اشاروں سے اس کے خلاف معلوم ہوتا ہے _ یہ بات بائبل اور دیگر تاریخی مصادر سے ثابت شدہ ہے کہ حضرت اسماعیل پہلے پیدا ہوئے تھے ، اس کے تقریباً 14برس بعد اسحاق کی پیدائش ہوئی ـ فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو ان کے یہاں پیدائش کی بشارت دی تو وہ فوراً بول پڑیں :

قَالَتۡ یَـٰوَیۡلَتَىٰۤ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزࣱ وَهَـٰذَا بَعۡلِی شَیۡخًاۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیبࣱ ( ھود: 72)

” وہ بولی : ” ہا ئے میری کم بختی ! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی ، جب کہ میں بڑھیا پُھونس ہوگئی اور یہ میرے میاں بھی بُوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔“

قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ الفاظ آئے ہیں :

فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِی صَرَّةࣲ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِیمࣱ ( الذاریات :29)

” یہ سُن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پِیٹ لیا اور کہنے لگی : ” بوڑھی ، بانجھ ! “

یہ انداز بتارہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سے یہ پہلی پیدائش تھی _ اگر ایسا نہ تھا تو فرشتوں کے بشارت دینے پر انہیں انتہائی حیرت کیوں ہوئی؟ ان کے یہاں تو اسماعیل پہلے پیدا ہو چکے تھےـ سورۂ الذاریات کی آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ بوڑھاپے کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد بھی کوئی اولاد نہ ہونے پر انھوں نے خود کو بانجھ سمجھ لیا تھاـ پھر کیا اُن سے حضرت اسماعیل کی پیدائش حضرت اسحاق کے بعد ہوئی تھی؟

(7) یہ دعویٰ کہ جب حضرت ابراہیم نے اسماعیل کو ان کی والدہ کے ساتھ ‘ وادی غیر ذی زرع’ میں چھوڑا ، اس وقت وہ علاقہ آباد تھا اور وہاں مختلف قبائل بسے ہوئے تھے ، یہ بھی محتاجِ ثبوت ہے _ قرآن مجید سے اس کے خلاف اشارے ملتے ہیں ـ حضرت ابراہیم کی دعا کے الفاظ یہ ہیں :

” پروردگار ! میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے ۔ پروردگار ! یہ میں نے اِس لیے کیا ہے کہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کی طرف مائل کردے اور انہیں کھانے کو پھل دے ، تاکہ یہ شکر گزار بنیں ـ”

(ابراہیم :37)

اگر پہلے سے وہاں آبادی تھی تو یہ دعا مانگنے کی کیا ضرورت تھی کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوجائیں؟ اور اگر پہلے سے وہاں پانی ، سبزہ ، ہریالی اور پیداوار تھی تو یہ دعا مانگنے کا کیا موقع تھا کہ انھیں کھانے کو پھل دے؟

(8) حضرت اسماعیل اور ان کی ماں کے مکہ میں بسنے کا واقعہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں مروی ہےـ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اس وقت غیر آباد علاقہ تھا ، معجزہ کے طور پر وہاں زم زم کا چشمہ جاری ہوا ، بعد میں وہاں جرہم نامی قبیلہ آباد ہوا _ صحیح بخاری کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، لیکن مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بجا طور پر لکھا ہے کہ جس طرح درمیان میں ایک سے زائد مقامات پر حضرت ابن عباس نے ‘ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم’ فرمایا ہے ، یہ انداز اسے حدیثِ مرفوع کا درجہ دے دیتا ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*