کیاحکومتی فیصلے کی تنقیداشتعال انگیزی ہے؟،17000صفحات کی چارج شیٹ میں نام آنے پرسلمان خورشیدکاطنز

نئی دہلی:کانگریس کے سینئر لیڈراورسابق وزیر خارجہ و وزیرقانون اورسنیئروکیل سلمان خورشیدنے دہلی تشددکے الزام میں نامزد ہونے کے بعد دہلی پولیس پرطنزکیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ دہلی پولیس نے مکمل تحقیقات کیے بغیر چارج شیٹ کے نام پر کوڑا کرکٹ داخل کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 17000 صفحات میں کیاکیاکوڑا کچرا ہوگا۔سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہاہے کہ اشتعال انگیزتقریرکی تعریف کیا ہے؟ آئین کی کس شق کاکہناہے کہ اشتعال انگیز تقریرنہیں کی جاسکتی ہے۔پارلیمنٹ میں روزانہ اشتعال انگیز تقریرکی جاتی ہے۔ کون روک رہا ہے اور کون رک رہاہے؟ میں وہاں حکومت اور سی اے اے کی تعریف کرنے نہیں گیاتھا۔کانگریس کے لیڈر سلمان خورشید نے پوچھاہے کہ کیا اب حکومت اور ان کے بل یا قانون پر تنقید کرناتشددبھڑکاناہے؟ یہاں تک کہ میں نے اس سلسلے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے ، لیکن گوڈسے والے کتاب نہیں پڑھتے،ورنہ وہ اسے اشتعال انگیزی کہہ کر اس پر پابندی عائدکردیتے۔ اہم بات یہ ہے کہ دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں سلمان خورشید کا نام بھی شامل ہے۔دہلی تشدد پر پولیس نے 17 ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں کانگریس کے سینئرلیڈروں سلمان خورشید ، برندا کرات اور ادت راج وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ان پرسی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران اشتعال انگیز تقریرکرنے کا الزام ہے۔ دہلی میں رواں سال 24 فروری سے 27 فروری تک تشددہواتھا۔پولیس چارج شیٹ میں کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں نے کہا ہے کہ میں اورخالد سیفی نے جے سی سی کی ہدایت پر سلمان خورشید ، راہل رائے ، بھیم آرمی کے ممبر ہمانشو ، چندن کمار کو بلایا۔ انہوں نے حکومتی فیصلے کی تنقیدکی تھی ۔