Home متفرقاتمراسلہ کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

by قندیل

کچھ دنوں پہلے خبر آئی تھی کہ دہلی میں سکھوں کے زیر انتظام ایک اسپتال میں 700 روپے میں ڈائی لیسس (dialysis) کی جارہی ہے ۔ منتظم نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ فیس ان لوگوں کے لیے ہے جو اسے ادا کرسکتے ہیں ، ورنہ غریبوں کے لیے یہ سروس بالکل مفت ہے ، ان کے لیے کوئی فیس نہیں ۔ اب ایک ویڈیو کے ذریعے معلوم ہوا کہ دہلی کے گردوارہ بنگلہ صاحب میں ایک ایسا دواخانہ کھولا گیا ہے جس میں انتہائی کم قیمت پر دوائیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ منتظم نے بتایا کہ اس دواخانے میں دہلی ہی نہیں ، بلکہ پورے ملک میں سب سے کم قیمت پر دوائیں دی جا رہی ہے _ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ یہاں دوا اسی قیمت پر دی جارہی ہے جتنی کمپنی میں اس پر لاگت آتی ہے۔ ایک مثال دینے کی غرض سے انھوں نے ایک دوا اٹھائی جس پر 118 روپے MRP لکھی ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ دوا ہمارے یہاں صرف 15 روپے میں ملتی ہے۔

سکھوں میں خدمتِ خلق کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے _ ہر گردوارہ میں لنگر ضرور چلتا ہے، جہاں مذہب کی تفریق کے بغیر کوئی بھی شخص پہنچ کر کھانا کھا سکتا ہے _ اس طرح کی خبروں کو پڑھ کر ، سن کر اور دیکھ کر خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس طرح کے رفاہی کام کیا ہم مسلمان نہیں کرسکتے؟ مخلوق کی خدمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خدمت سے تعبیر کیا ہے اور اس کی انجام دہی کی بہت ترغیب دی ہے _ مسلمانوں کی جانب سے ایسے کام ضرور ہوتے ہوں گے ، لیکن ان کی خبر عام نہیں ہوپاتی _ مثلاً مجھے نہیں معلوم کہ دہلی میں کہیں مسلمانوں کے زیر انتظام کسی پرائیوٹ اسپتال میں اتنی کم فیس پر ڈائی لیسس ہوتی ہے ، یا مسلمانوں کے زیر انتظام کسی دواخانے میں اتنی کم قیمت پر دوائیں فراہم کی جاتی ہیں ۔

کاش ہم نام و نمود کے لیے نہیں ، بلکہ خدمت کے جذبے سے عبادت سمجھ کر ایسے کام انجام دے سکتے ۔

You may also like

Leave a Comment