کیا فرماں بردار اولاد کی ذاتی زندگی نہیں ہوتی؟ ـ مسعود جاوید

 

سلیم صاحب کا شمار شہر کے مانند لوگوں میں ہوتا ہے ۔ بچوں کی تربیت کے تعلق سے ان کی مثال دی جاتی ہے۔ دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی اور تیسری گریجویشن کر رہی ہے۔ گھر کا ماحول بہت پیارا ہے صبح کا ناشتہ ہو یا رات کا کھانا دونوں بیٹے اور بیٹی والدین کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر کھاتے ہیں۔ گھر میں باہر سے کھانے پینے کی اضافی اور شوقیہ اشیاء پیتزا ، فرائڈ چکن ، آئس کریم ، موموز ، چاؤمن ، گرم سموسے، جلیبیاں اور گاجر کے حلوے موسمی پھل وغیرہ جو کچھ آتا ہے اسے سب ساتھ میں انجوائے کرتے ہیں ۔

بڑے ارمان سے بڑے لڑکے سلمان کی شادی کی گئی اور شروعات کے چند دن سلمان اور اس کی بیوی حسب معمول ڈائننگ ٹیبل پر ساتھ کھاتے رہے مگر رفتہ رفتہ تبدیلی آتی گئی اور سلمان اپنی بیوی کے لئے کچھ نئے پھل ، میوہ جات اور مٹھائیاں لانے لگا جسے دونوں اپنے بیڈ روم میں کھاتے اس کے بعد بسا اوقات صبح کا ناشتہ بھی بیڈ روم میں دونوں ساتھ میں کھانے لگے‌ ۔‌

بادی النظر میں یہ عام سی بات تھی لیکن والدین کو یہ گوارہ نہیں تھا اور اب بہو کے تئیں ساس سسر اور نند بالخصوص بیاہی نندوں کی نظر اور نظریہ بدلنے لگا اور سارا الزام بہو پر کہ اس نے ان کے بیٹے اور بھائی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب بہو کے ہر کام میں نقص نکالا جاتا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بہو نے اس گھر میں رہنے سے انکار کر دیا۔

 

ایک روز لڑکی کے والد نے ماجرا سنایا ۔ کافی متفکر تھے۔ لڑکی کی والدہ جذباتی قسم کی خاتون ہیں دور اندیشی سے کوسوں دور ہونے کی وجہ سے دوران گفتگو بار بار "علحدہ رہائش نہیں تو علحدگی” کا جملہ دہراتیں۔

میں لڑکی کے والد کے ساتھ معاملہ سمجھنے اور دونوں فریق کو سمجھانے کی غرض سے لڑکی کے گھر گیا۔ سفر کے دوران والد کے اندر قدرے لچک اور معاملہ فہمی محسوس کیا۔ وہاں پہنچ کر دونوں فریق کی باتیں سنیں۔

لڑکے کے والدین نے بتایا کہ ان کا لڑکا اتنا فرمانبردار تھا کہ ان کی اجازت کے بغیر کہیں جاتا نہیں تھا آفس سے گھر آتا اور یہیں اپنا وقت گزارتا تھا۔ کام سے لوٹنے کے بعد گھنٹوں ماں کے پاس یا باپ کے پاس بیٹھتا تھا بھائی بہن گپ شپ کرتے تھے لیکن پھر یہ لڑکی (بہو) آئی اور اس گھر کے خوشگوار ماحول کو مکدر کر دیا اب سلمان بمشکل پانچ سات منٹ ماں باپ کے پاس بیٹھتا ہے۔ اب کچھ لاتا ہے تو سیدھے اپنے بیڈ روم میں لے کر چلا جاتا ہے اور وہیں سے نکال کر ہم لوگوں کو کچھ دیتا ہے۔ کنواری بہن پر بیوی کی خوشیوں کو ترجیح دیتا ہے۔ پہلے اس کے جوڑے وہ اپنی پسند سے لاتا تھا مگر اب میں (والد) اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر جاتا ہوں اور اس کی پسند کے کپڑے اور جوتیاں وغیرہ دلاتا ہوں۔

میں نے پوچھا کہ سر آپ کا بیٹا سلمان شادی کے بعد جو کچھ کر رہے ہیں کیا وہ غلط ہے ؟ کیا اس کی اپنی ذاتی زندگی نہیں ہے ؟۔ کیا وہ آپ لوگوں کے حقوق اور فرمانبرداری کے ساتھ اپنی بیوی کا حق اور تالیف قلوب کے لئے اس کے ساتھ بیڈ روم میں ناشتہ کھانے اور کبھی کبھی باہر جاکر ریسٹورانٹ میں کھانے سے آپ والدین کے احترام اور اطاعت میں کمی ہوتی ہے ؟ اگر بفرض محال کمی ہوتی بھی ہے تو اس میں اس کی بیوی کا کیا قصور ہے کہ اسے ٹارچر کیا جاتا ہے طعنے دیئے جاتے ہیں ؟ اگر آپ کے خیال میں آپ کے صاحبزادے غلطی کر رہے ہیں تو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔‌ دوسری بات یہ کہ چوبیس پچیس سال تک آپ نے بیٹے کی تربیت کی کیا وہ اتنی کمزور تھی کہ کوئی لڑکی چند مہینے میں ،بقول آپ کے، آپ سے چھین لیا یا قابض ہو گئی !

 

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ نے اپنی شادی کے شروعاتی دور میں یہ سب نہیں کیا تھا ؟

اگر آپ لوگ اپنے رویے میں اصلاح کریں تو میں نہیں سمجھتا کہ آپ کی بہو علحدہ مکان میں رہنا چاہے گی۔

 

لڑکی کو کئی مشاہدات اور واقعات کے حوالے سے سمجھایا کہ علاحدہ رہنے میں جو پریشانی ہوتی ہے اس کا احساس پہلے بچے کی ولادت کے بعد اتنی شدت سے ہوگا کہ تم اپنی ساس سے دست بستہ معذرت چاہو گی۔ نومولود کی دیکھ ریکھ آیا کر لے گی لیکن اپنائیت اور شفقت و محبت سے گوندھی ہوئی لوریاں دادی جان ہی سنا سکتی ہیں اور بچے دادا دادی کی جان ہوتے ہیں ۔

تمہارے والد تمہارے لئے نہ صرف تمہارے شوہر سلمان کو پسند کیا تھا بلکہ سلمان کے والدین اور خاندان سے رشتہ جوڑا تھا اور اسی گھر کو دیکھ کر گئے تھے تو پھر آج اس مکان میں گھٹن کیوں محسوس کرتی ہو۔

 

تم پڑھی لکھی گریجویٹ لڑکی ہو اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھو ۔ یہ ہر دوسرے تیسرے روز اپنی ماں کو ہر چھوٹی بڑی بات کیوں بتاتی ہو۔ فالٹی لائن کو خود درست کر کے مینیج کرنا سیکھو ۔

اپنی امی اور شادی شدہ بہنوں سے ٹیوشن لیتی رہو گی تو امتحان میں فیل ہو جاؤ گی۔ اس لئے اس کام کے لئے موبائل کا استعمال جتنا کم ہو خوش حال زندگی کی گارنٹی اتنا ہی زیادہ ہو گی ۔

  • Md Minhajuddin Nomani
    8 مئی, 2022 at 17:36

    ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ مضمون ہے،
    جس میں حالات حاضرہ کی عکاسی کی گئی ہے۔

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*