19 C
نئی دہلی
Image default
مباحثہ

کیا دستورِہندکو تسلیم کرنا مغلوبیت ہے ؟ مسعود جاوید

 

عصر حاضر میں جب بھی کوئی اسلامی تحریک شروع ہوئی تو اس کا پہلا حملہ سیکولرازم کے اصولوں پر مبنی ماڈرن سوسائٹی پر ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی تحریکیں ناکام ہو ئیں۔ جمہوری سیکولر ملک مصر میں اخوان المسلمین اور الجزائر، تونس اور مراکش سے لے کر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس جنہوں نے اخوان کے اس کے نظریاتی ماڈل کو اپنایا جدو جہد کیا لیکن بالآخر عوامی مقبولیت سے محرومی ہی ہاتھ آئی۔
ہمارے یہاں بھی آج کل اور اس سے قبل بھی یہ موضوع زیر بحث رہا کہ سیکولر نظام حکومت اسلامی نظام حکومت سے متصادم ہے۔ ایسی حکومت سازی میں بحیثیت امیدوار یا بحیثیت ووٹر شریک ہونا درست نہیں اس نظریہ کے تحت ایک عرصے تک جماعت اسلامی کے متفقین نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ طاغوتی نظام حکومت کی ملازمت درست نہیں اس رایے کے پیش نظر کئی منتسبین نے سرکاری ملازمتوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس طرح کی رائے یا نظریہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک عملی ہے اور نہ قابلِ قبول۔ چنانچہ بعد میں جماعت نے اپنے موقف میں تبدیلی کی تاہم اب بھی اس کے اہم عہدیدار فعال انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہیں۔
ایک اور بیانیہ : سیکولر ملک کے دستور کو محض ایک سمجھوتہ مانا جائے؟ کن باتوں پر سمجھوتہ کیا جائے کس طرح پابندی کی جائے اور کن حالات میں سمجھوتہ ٹوٹنے کا اعلان کر دیا جائے یہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں میں فکری انقلاب لانے والے طے کریں گے ! الامان و الحفیظ
ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں جہاں ٨٠% غیر مسلم شہری ہیں جہاں مسلمانوں اور دیگر تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اس ملک کا آئین مذہبی آزادی دیتا ہے کیا اس طرح کی سوچ کو فروغ دینا مناسب ہے؟ میرے خیال میں بالکل نہیں اس لئے کہ حکومت الہیہ اور خلافت علی منہاج النبوۃ کی تطبیق آج کے دور میں عملاً ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے ہندوستان کیا نام نہاد مسلم ممالک میں بھی رائج نہیں ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں:
١- ان میں سب سے بڑی وجہ ہے ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ سماجی سیاسی تجارتی اور ثقافتی تعلقات۔ کوئی بھی ملک دنیا کے ممالک سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر کے رکن ہیں۔ بینکنگ کا نظام ورلڈ بینک اور کرنسی کا نظام انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ IMF کے تحت ہے۔ ظاہر ہے اس کا نظام سود پر مبنی ہے اس کے باوجود دنیا کا ہر ملک اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے مجبور ہے۔
٢- اسلام اور اس کے اصول کے تئیں بیشتر ممالک کا رویہ اگر عمومیت کے ساتھ معاندانہ نہ بھی کہیں تو ان کے لئے یہ موضوع بہت حساس ہے۔ اس لئے اسلامی بینک جو ادنی اور متوسط طبقے کے لیے بہت بڑی راحت ہو سکتی ہے اسے قائم کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ ملیشیا کے صدر مہاتیر محمد صاحب نے برسوں کوشش کی کہ ڈالر کی جگہ مسلم ممالک کی اپنی کرنسی دینار رائج ہو لیکن کامیابی نہیں ملی۔
٣- مہذب دنیا نے کے بیشتر ممالک مختلف ممالک کے نظام حکومت اور مذہبی ریاستوں کے تجربات کو بغور جائزہ لینے اور اچھی طرح پرکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ جمہوری حکومت اور سیکولرازم ہی ان کے عوام کی تعمیر وترقی، رفاہ عامہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مناسب ترین نظریہ ہے۔ radicalism رجعت پسندی اور کمیونزم کے تجربات معاشرے کے لئے بہت مفید ثابت نہیں ہوۓ اس لئے بیشتر ممالک نے معلنہ یا غیر معلنہ مذہبی مساوات کے نفاذ کے لئے سیکولر ازم اور سماجی مساوات کے لئے سوشل ازم کو اپنایا۔
٤- آج دنیا کے کسی خطے میں اسلامی ریاست موجود نہیں ہے۔ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک تجربہ گاہ کی حیثیت سے دیکھا جائے تو وہ مکمل طور پر ناکام ہے۔ عرب ممالک میں اسلامی نظام محض چوروں کے ہاتھ کاٹنے زانیوں کو سنگسار کرنے اور قتل کے عوض قتل یا دیہ(blood money جو رقم مقتول کا وارث مطالبہ کرے) اور اسی کے مماثل دیگرحدود نافذ کرنے تک محدود ہے ۔ تمام تر مالی وسائل کے باوجود کسی ملک نے آئیڈیل اسلامی ملک بننے کی کوشش نہیں کی اور اگر کوئی ملک کوشش بھی کرے تو کامیابی نہیں ملےگی اس لئے کہ وہ اسی ورلڈ سسٹم کا حصہ ہے اور اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت اس کی زندہ مثال ہے۔ اسے محض conspiration theory کہہ کر خارج نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور بین الاقوامی سازش کے علاوہ بھی بہت ساری پیچیدگیاں تھیں۔
زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا، یہاں کے آئین میں مذکور حقوق، ذمہ داریاں اور قوانین کی پابندیوں کو اہمیت نہیں دینا یا یہ کہتے ہوئے کہ وہ قرآن و سنت سے ماخوذ نہیں ہیں اس لئے ثانوی ماننا خود فریبی ہے۔ جو لوگ مسلمانان ہند کا سیاسی سفر صحیح سمت میں جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے بھی اولین شرط اور موثر ہتھیار دستور ہند ہے۔ سیکولرازم مذہب کی آزادی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضمانت ہے۔ برادران وطن کا روادارانہ مزاج اور انسان دوستی نے مسلمانان ہند کی ہمیشہ پشت پناہی کی ہے۔ لیکن مذہب کے نام پر ١٩٩٠ میں رتھ یاترا سے فرقہ پرستی کا جو زہر اکثریتی طبقہ کے لوگوں کی رگوں پیوست کرنے کی شروعات ہوئی تھی اب اس کے مسلم مخالف نمونے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ فرقہ پرست عناصر الیکشن جیتنے کے لیے مسلمانوں کو ٹارگٹ کر رہےہیں جس کی وجہ سے مسلمان آج ڈر کے ماحول میں جی رہا ہے ۔ اس ملک کے شریک مالک ہونے والے آج اپنے شہری حق اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کی شہریت یقینی بنانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اسی دستور ہند میں دی گئی ضمانت کے تحت اپنے وجود کی بقاکی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ آج اس ملک کے دستور اور سیکولرازم کی اہمیت کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے ۔
پہلے کرونولوجی سمجھیں۔ موجودہ حکومت کی آمد سے چند مہینے قبل سیکولرازم پر لعن طعن کا بیانیہ شروع کیا گیا اسے sickularism یعنی بیمار نظریہ کہا جانے لگا اس میں پیش پیش ہندو احیاء پرست رجعت پسند متعصب لوگ تھے اور ہیں انہوں نے سیکولرازم کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا آلہ بتایا۔ اس کے بعد فرقہ پرست عناصر نے بالتدریج ہندو مذہب کو فروغ دینے کی مہم شروع کی۔ غیر حکومتی سطح پر فروغ دینا عیب کی بات نہیں تھی مگر اسے ہندو اور ہندوازم بنام مسلمان اور اسلام کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس کے مقابلے میں اب بعض مسلمان اسلام احیاء پرست کی شکل میں فکری اور عملی انقلاب لانے کی بات کریں گے تو اس کا انجام کس قدر سنگین ہوگا اس کا اندازہ کریں۔ مسلمان گاندھی جی کو فاشسٹ کہہ کر سیکولرازم پر لعنت بھیج کر اور آئین ہند کو کمتر سمجھ کر کس کا مقصد پورا کرنے میں معاون ہوں گے؟ ظاہر ہے ان متعصب عناصر کا جو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آئین اور اس میں یقینی بنائے گئے سیکولرازم میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت ہے۔
کیا تصادم مسئلے کا حل ہے ؟ مسئلے کا حل دعوت کا کام کرنا تھا جس میں ہم سے کوتاہی ہوئی ہے۔ دعوت کا کام اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کا کام برادران وطن کے برہمنوں دانشوروں اور شرفاء میں، متوسط طبقے کے ساتھ باہمی میل جول اور ادنیٰ طبقے کے ساتھ سالیڈریٹی کرنے سے نتیجہ خیز ہوگا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment