کیا کانگریس نریندر مودی کو مضبوط کرنے کی اندرونی مہم کا حصہ ہوگئی ہے؟-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس ، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
ہندی زبان کے مشہور ظرافت نگار شرد جوشی نے ایک بار ہندستان کی اولمپک میں ہر مورچے پر شکست کو موضوع بناتے ہوئے جو مضمون لکھا تھا، اس کی سرخی یہ بنی تھیں: ’لو ہم آگئے، ہمیں ہرائو‘۔ ہندستان کی سب سے قدیم سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس جب سے راہل گاندھی اور ان کی والدہ یا بہن کے حصار میں قید ہوئی ہے، اس وقت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سیاسی جماعت انتخابات ہارنے کے لیے بنی ہے۔ دس برس مرکز میں منموہن سنگھ وزیر اعظم رہے اور کانگریس کا سکہ چلتا رہا مگر ایک ایک کرکے ریاستوں سے کانگریس غائب ہونے لگی۔ اترپردیش ، بہار اور مغربی بنگال میں اس کی سیاسی طاقت بڑھ سکے، اس کے لیے کانگریس نے تماشے تو بہت کیے مگر کبھی ایسی کوئی سنجیدہ کوشش نہیںہوئی جس سے یہ محسوس ہو کہ یہ جماعت جمہوریۂ ہند کی نگہبان ہے۔ کانگریس کے سامنے مدھیہ پردیش کی وزارت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں پہنچ گئی اور پندرہ سال تک اسے کوئی چیلنج نہیں کرسکا۔ ۲۰۱۹ء میں عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھک ہار کر پھر سے کانگریس کو چنا مگر حکومت سازی کے پیچ اور پینترے کانگریس یا تو بھول گئی ہے یا پورا پورا موقع دیتی ہے کہ ان کے حریف ہی انھیں زیر کرکے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔ آخر کار مدھیہ پردیش کی حکومت ہاتھ سے نکل گئی ۔ اس سے پہلے کرناٹک میں بھی جیتی ہوئی بازی ہارنے کا کانگریس کوایک ٹھوس تجربہ حاصل تھا۔ راجستھان میں بھی وہ تو کہیے کہ وہاں کے وزیر اعلا بھیرو سنگھ شیخاوت کا پختہ سیاسی شعور ابھی تک کام آرہا ہے ورنہ صرف اعلا کمان کا چلنا ہوتا تو وہاں کی سرکار بھی ہاتھ سے نکل ہی جاتی۔
ابھی بہار کے انتخابات میں کئی باتیں کانگریس کے حوالے سے کہی جانے لگی ہیں۔ کانگریس نے اپنی سیاسی طاقت کو زمینی سطح پر تولنے کی کوشش نہیں کی اور زبردستی زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔ کانگریس نے جن سکریٹریز کو یا نام نہاد بڑے لیڈروں کو بہار کی کمان سونپی، وہ اسمبلی ٹکٹ بیچنے کے کاروبار میں از اول تا آخر ملوث پائے گئے۔ جس کی وجہ سے چالیس پچاس بے اثر اور نااہل لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا اور جو بھارتیہ جنتا پارٹی یا نتیش کمار کی جماعت کو جیتنے کے لیے کھلا موقع دینے جیسا تھا۔ اب یہ صاف الزام عاید ہورہا ہے کہ کانگریس نے عظیم اتحاد کی سیٹوں کو لے کر اور شکست کھاکر بھارتیہ جنتا پارٹی کو حکومت سازی کے لیے باضابطہ موقع فراہم کردیا۔ورنہ یہ بات سب کی سمجھ میں آتی ہے کہ کانگریس کی ہاری ہوئی دس سیٹیں عظیم اتحاد کی کوئی دوسری جماعت جیت گئی ہوتی تو آج عظیم اتحاد کی حکومت ہوتی اور سارے سیاسی ماحول میں واضح تبدیلی آچکی ہوتی۔ کانگریس پر بہار کے اسمبلی انتخاب میں یہ بھی الزام ہے کہ جگہ جگہ ایسے امیدواروں کو میدان میں اتارا گیا جو حقیقتاً پردے کے پیچھے سے اپنی ذات اور برادری کے بی۔جے۔پی۔ یا جنتا دل یونائیٹڈ کو فتح یابی عطا کرنا چاہتے تھے۔ کمال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ٹکٹ لینے سے لے کر خرید فروخت ، وعدہ خلافی اور جان بوجھ کر مخالفین کو جیتنے دینا اور آخر کار چاروں خانے چت ہونے کے معاملات میں کانگریس ہائی کمان نے کھلے بندوں کبھی مداخلت نہیں کی۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کی منظوری کے بعد ہی بہار میں یہ سیاسی کھیل منعقد ہوا اور بڑی مشکلوں سے عظیم اتحاد کی سرکار بننے کی صورت پیدا ہوتے ہوتے کانگریس کی غلطیوں کی وجہ سے وہ معاملہ ختم ہوگیا۔
آنے والے دنوں میں مغربی بنگال میں صوبائی انتخاب ہونے ہیں۔ کانگریس کمیونسٹ حکومتوں سے لڑتے لڑتے پہلے مرحلے میں ممتا بنرجی کی تاج پوشی کے لیے موقع فراہم کرنے کے لیے اپنی خاص پہچان رکھتی ہے۔ پارلیمنٹ کے گذشتہ دونوں انتخابات میں مغربی بنگال میں کانگریس کی سیاسی حکمتِ عملی سے صرف اور صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ حاصل ہوا۔ آنے والے مہینوں میں اگر کانگریس نے انھی بداندیشیوں کو جاری رکھا تو اس بات کے اندیشے ظاہر ہورہے ہیں کہ کل مغربی بنگال میں بھی خاکی وردی کا جوش ابال پر ہوگا۔ اس کے بعد سیاسی اعتبار سے نہایت مشکل ریاست اتر پردیش میں جب انتخابات ہوںگے، وہاں بھی اگر کانگریس سماج وادی پارٹی، یا بہوجن سماج پارٹی سے سمجھوتہ کرتی ہے چاہے وہ الگ الگ ہو یا مشترکہ طور پر محاذ بنے، اگر اس میںکانگریس نے اپنی قومی حیثیت کی شایانِ شان بڑی تعداد میں سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی پالی تو یہ بات بھی سمجھ لی جائے گی کہ پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی اقتدار کو قائم رکھنے کی یہ ایک میکانیکی مشق ہے جس پر کانگریس بڑی باریکی سے کاربند ہے۔
جب سے وبائی ماحول شروع ہوا ہے، کانگریس کی اعلا کمان بند کمرے کی سیاست میں پیش پیش ہے۔ راہل گاندھی ٹوئٹر پر چند الفاظ لکھ کر اپنے فرائض ادا کرلیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے سیشن میں بھی تھوڑے لفظ خرچ کرلیے۔ کبھی کبھی کوئی آن لائن میٹنگ میں شریک ہوگئے اور ان کے فرائض ادا ہوگئے۔ بعض اوقات وہ کام کی بات کرتے ہیں اور نریندر مودی کی بروقت تنقید کرتے ہیں۔ مگر دشواری یہ ہے کہ ڈرائنگ روم کی سیاست سے نریندر مودی کے طوفان کا مقابلہ ناممکن ہے۔ اندرا گاندھی کی موت کے بعد کانگریس میں عوامی سطح پرجوش و جذبے کے ساتھ قیادت کرنے والا کوئی شخص سامنے نہیں آیا۔ راجیو گاندھی کی موت کے بعد پرانے اور مضبوط کانگریسیوں کو سونیا گاندھی کے دربار کے حاضر باش ہونے تک محدود کیا گیا۔ ارجن سنگھ کنارے کیے گئے۔ اب تو غلام نبی آزاد اورکپل سبل بھی حاشیے تک پہنچ گئے۔ احمد پٹیل جو گذشتہ دو دہائیوں میں سونیا گاندھی کے سب سے وفادارمشیر تسلیم کیے جاتے، وہ راہیِ ملکِ عدم ہوئے۔
کانگریس پارٹی میں سڑک پر اتر کر آمنے سامنے کا مقابلہ کرنے کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔ کورونا کے ابتدائی دور میں کانگریس کو یہ اچھا موقع ملا ہوا تھا کہ مرکز کی بدانتظامی کے متوازی اپنے ملک بھر میں پھیلے ہوئے کارندوں سے لوگوں کی خدمت کرائی جاتی اور یہ بات عوام کو سمجھ میں آتی کہ کانگریس ان کے دکھ درد میں شامل ہے مگر کانگریس نے اسے ملک گیر پیمانے پر اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانے کے کام میں استعمال نہیں کیا۔ ۴۷-۱۹۴۶ کے فسادات میں کانگریس فرقہ پرستی میں مبتلا ہوکر غائب ہوگئی تھی مگرفساد زدگان کے کیمپوں میں راحت رسانی کے کام میں مسلم لیگ کے افراد بہت دلیری کے ساتھ فلاح کا کام کرتے پائے گئے۔ جس کی وجہ سے وہ لوگ لوگوں کو پاکستان جانے کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مگر کانگریس کو نہ اُس زمانے میں ہوش آیا اور نہ اب آرہا ہے۔
ابھی گذشتہ ہفتے سے کسانوں کی ملک گیر تحریک رفتہ رفتہ زور آور ہونے لگی ہے۔ پنجاب سے لے کر ہریانہ ، راجستھان، بہار اور اترپردیش کے کسان دلی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ کسان سڑکوں پر جاڑے کی ٹھٹھرتی رات میں بھی انقلاب کا بگل پھونک رہے ہیں۔ دو لاکھ سے زیادہ لوگ مرکزی حکومت کے سامنے چیلنج پیش کررہے ہیں۔ مگر اس موقعے سے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی یا پرینکا گاندھی کہیں نظر نہیں آرہیں۔ یہ درست ہے کہ اختلاف کی اس آواز کا ایک سرا پنجاب کی صوبائی حکومت بھی ہے جو کانگریس کی ہے مگر کانگریس کی مرکزی ٹیم ایسی تحریک سے خود کو دور رکھنے میں کامیاب ہے۔ آنے والے وقت میں اور بھی کیا ہوگا، کہنا مشکل ہے۔ دوسری سیاسی جماعتیں کسانوں کی مدد اور ان کی طرف داری میں اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کررہے ہیںمگر راہل گاندھی کا خاندان ایسے موضوعات پر خاموش ہے۔
کچھ باتیں غور کرنے لایق ہیں۔ منموہن سنگھ کی دوسری بار حکومت کے اختتام پر ۲۰۱۴ء میں جو انتخاب ہوا، اس میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ راہل اور سونیا گاندھی سونے کی تھال میں سجا کر نریندر مودی کو اقتدار سونپنے نکلے ہیں۔ نہ اقتدار بچانے کا جوش تھا اور نہ ہی فرقہ پرستی کے نمایندہ کے طوفان سے ملک کی حفاظت کا کوئی جذبہ تھا۔ غالباً یہ بات بھی پیشِ نظر ہوگی کہ حزبِ اختلاف کے لیڈر کی کرسی تو مل ہی جائے گی۔ اور دیکھتے دیکھتے صاحب اقتدار جماعت دس فی صد سے کم سیٹیںجیت کر تاریخ کے سب سے خراب مظاہرے تک پہنچ گئی۔ ۲۰۱۹ء کے انتخاب میں بھی راہل گاندھی کا کوئی جارحانہ رویہ نہیں رہا اور ان کے کسی ایک کام سے بھی اس بات کا اندازہ نہ ہوا کہ وہ نریندر مودی کے لیے کہیں رکاوٹ بننے جارہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک صوبے ان کے ہاتھ سے نکلتے چلے جارہے ہیں مگر انھیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ان میں بے چینی بھی نہیں پیدا ہوتی کہ یہ ملک کس طرح غلط ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ کبھی کبھی یہ غلط فہمی بھی سیاسی مشاہدین کے ذہن میں گھر کرتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں مرکز اور ملک کی بڑی ریاستوں کو سونپ کر مرکز میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے تک وہ خود کو محدود کرکے رکھنا چاہتی ہے۔ اندیشہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے اندرونی طور پر کوئی دوستانہ میچ چل رہا ہے۔ راہل اور سونیا گاندھی کی ایسی کوئی ذاتی تاریخ نہیں ہے کہ وہ سماجی خدمت اور ملک و قوم کے لیے بہت کچھ لٹا کر کانگریس کی ایک اعلا روایت کا حصہ ہیں۔ وہ اقتدار کے جھوٹے سچے راستے کے مسافر ہیں، اس لیے ان کے لیے یہ ناممکن نہیں کہ حزبِ اختلاف کی ایک محدود سیاست کرکے تھوری بہت چودھراہٹ قائم رکھیں ۔ کانگریس آج اسی ایجنڈے پر شاید کام کررہی ہے ، اس لیے کانگریس کو چھوڑ کر نریندر مودی اور فرقہ پرستی سے لڑنے والوں کو میدان میں آکر نئے سرے سے اس جنگ کی قیادت سنبھالنی چاہیے۔