کیا بی جے پی بھی چاہتی ہے کہ چراغ پاسوان این ڈی اے کے خلاف الیکشن لڑیں؟

پٹنہ:ایسا لگتا ہے کہ لوک جن شکتی پارٹی کے صدر چراغ پاسوان کا نتیش کمار کے ساتھ جارحانہ رویہ کم نہیں ہونے والاہے۔ ہندوستان عوامی مورچہ کے جیتن رام مانجھی کے این ڈی اے میں آنے کے بعد دونوں جماعتوں کے مابین تنازعہ اور بڑھ گیا ہے۔ ایسے ماحول کے درمیان لوک جن شکتی پارٹی نے بہار یونٹ کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی انتخابی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کے ساتھ اس پر بھی بات کی جائے گی کہ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو امیدواروں کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کریں یا نہیں۔ پارٹی ذرائع نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ پارٹی 143 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس اجلاس کے بعد ایل جے پی بہار کے انتخابات کے بارے میں اپنا موقف واضح کردے گی۔ ابھی تک چراغ کے رویے سے تذبذب برقرار ہے کہ وہ انتخابات میں این ڈی اے کے ساتھ رہیں گے یا اپنا راستہ الگ کریں گے۔تاہم یہ خیال کیا جارہا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لئے دباؤ بنانے کے لئے چراغ پاسوان یہ سب کر رہے ہیں۔ وہیں بی جے پی کے کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ چراغ پاسوان این ڈی اے سے الگ ہوجائیں اور انتخابات لڑیں۔ کیونکہ چراغ نے مبینہ طور پر انہیں بتایا ہے کہ انہیں بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے خلاف ضرور اتاریںگے ۔واضح رہے کہ اگر چراغ کی پارٹی ایل جے پی کی وجہ سے جے ڈی یو 10 سیٹیں بھی ہارجاتی ہے تو بہار این ڈی اے میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور شاید بی جے پی بھی یہی چاہتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بہار میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان جلد ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف جہاں مہا گٹھ بندھن کی طرف سے ابھی تک تیجسوی یادو کو باضابطہ طور پر چیف منسٹر کے عہدے کے چہرے کے طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے تودوسری طرف این ڈی اے میں سیٹوں کو لے کر رشہ کشی چل رہی ہے۔