کیا بیوی پر بے بنیاد الزامات تہمت کے زمرے میں آتے ہیں؟ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال:
بعض مرد حضرات غصے میں عورتوں کو گالیاں دیتے ہیں ۔ بعض گالیاں تہمت والے انداز کی ہوتی ہیں ۔ کیا وہ بہتان کے زمرے میں آئیں گی؟

جواب:
میاں بیوی کا رشتہ پیار و محبت کا ہوتا ہے ۔ دونوں کو ایک دوسرے سے جسمانی اور روحانی سکون ملتا ہے ۔ دونوں مل کر تمدّن کی ترقی میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے سایۂ عاطفت میں بچوں کی پرورش کرتے ہیں ۔ شوہر گھر سے باہر جاکر معاشی جدّو جہد کرتا ہے ، تاکہ اس کے بیوی بچے اطمینان اور سکون کی زندگی گزاریں ، بیوی گھر میں شوہر کے آرام و آسائش کا خیال رکھتی ہے ۔ ہر ایک خود تکلیف اٹھا کر دوسرے کو راحت پہنچانے میں لگا رہتا ہے ۔ دونوں اپنے فرائض پر نظر رکھیں اور اپنی ذمے داریاں ادا کریں تو گھر جنت نظیر بن جاتا ہے ۔

اس معاملے میں مرد کا کردار اعلیٰ اور اس کی ذمے داری بڑھ کر ہے ، اس لیے کہ اسے گھر کا منتظم اور نگراں بنایا گیا ہے ۔ چنانچہ اسے تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا ہے:
وَعَاشِرُوھُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِھْتُمُوھُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَھُواْ شَیْْئاً وَّیَجْعَلَ اللّهُ فِیْهِ خَیْراً کَثِیْراً (النساء:19)
’’ان (عورتوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔ اگر وہ تمھیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو ، مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔‘‘

حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے خطبہ میں صحابۂ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا :
الا واستوصوا بالنساء خیراً، فانما ھن عوان عندکم (ترمذی : 1163 ، ابن ماجہ :1851)
’’لوگو ! خبردار ، عورتوں کے ساتھ بہتر معاملہ کرنے کی میں تم کو تاکید کرتا ہوں ۔ اس لیے کہ وہ تمھارے پاس قیدیوں کے مثل ہیں ۔‘‘

اس حدیث میں عورتوں کو ’قیدیوں‘ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ اس میں بڑی بلاغت پائی جاتی ہے ۔ عورت اپنا گھر بار ، ماں باپ ، بھائی بہن چھوڑ کر آتی ہے اور اپنے آپ کو شوہر اور اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیتی ہے تو وہ زیادہ الفت و محبت ، دل جوئی ، ہمدردی اور حسنِ سلوک کی مستحق ہے ۔

بعض گھروں میں عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا ۔ انھیں خادمہ کی حیثیت دی جاتی ہے اور گھر کے چھوٹے بڑے تمام کام اس پر لاد دیے جاتے ہیں ۔ اس کے ایک ایک کام کو خوردبین لگا کر دیکھا جاتا ہے اور معمولی سی غلطی یا کوتاہی پر اسے سخت سست کہا جاتا ہے ۔ بسا اوقات یہ معاملہ اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ اس کے ماں باپ اور خاندان کو بھی لپیٹ لیا جاتا ہے ۔ فساد تو اس وقت انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب ان حرکتوں کا صدور شوہر کی جانب سے بھی ہونے لگتا ہے ۔ وہ بیوی کو حقیر سمجھتا ہے ۔ بات بات پر اسے ٹوکتا ہے اور اس کے کاموں میں خامیاں نکالتا ہے ۔ وہ اسے برا بھلا کہنے اور گالم گلوچ کرنے سے بھی باز نہیں رہتا ۔ جب یہ سب کچھ ہونے لگتا ہے تو گھر جہنم کدہ بن جاتا ہے ۔

معمولی معمولی باتوں پر غصے کا اظہار کرنا ، برا بھلا کہنا اور گالیاں دینا کسی مومن کا شیوہ نہیں ۔ قرآن و حدیث میں اس سے روکا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَاب (الحجرات :11)
’’ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔ ‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :
لیس المؤمن بالطعّان ولا باللّعان ولا الفاحش البزیّ (ترمذی:1977)
’’ مومن نہ بہت زیادہ طعنے دینے والا ہوتا ہے نہ بہت زیادہ لعنت ملامت کرنے والا اور نہ وہ فحش گو اور بد زبان ہوتا ہے ۔ ‘‘

طعن و تشنیع اور بد زبانی کا معاملہ کرنا ہر ایک کے ساتھ بُرا ہے ، لیکن جب یہ سب کچھ بیوی کے ساتھ کیا جانے لگے تو اس کی شناعت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ بیوی میں کچھ کم زوریاں یا خامیاں ہوں تو بھی ان کا ذکر کرکے اسے طعنے دینا پسندیدہ نہیں ، لیکن اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جن کا کبھی بیوی نے ارتکاب ہی نہ کیا ہو تو اس کا شمار بہتان میں ہوگا ، جسے حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے ۔

جو عورتیں اپنے شوہروں کی جانب سے ایسے ناپسندیدہ رویے کا سامنا کریں ، انھیں چاہیے کہ صبر کا دامن تھامے رہیں ، اپنی زبان پر قابو رکھیں اور شوہر وں یا ان کے گھر والوں کے بارے میں کوئی زیبابات نہ کہیں ۔ بد گوئی کرنے والے کا وبال اس کے سر ہوگا اور وہ صبر اور برداشت کا اجر پائیں گی ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
واِن امرؤ شتمک وعیّرک بما یعلم فلا تعیّرہ بما تعلم فیہ فإنما وبال ذلک علیہ (ابو داؤد:4084)
’’کوئی شخص تمھیں گالی دے ، یا تمھارے کسی عیب پر تمھیں عار دلائے تو تم اس کے کسی عیب پر اسے عار نہ دلاؤ ۔ اس کا وبال اس کے سر ہوگا ۔ ‘‘

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر عورت پر کوئی غلط الزام لگایا جا رہا ہے تو وہ خاموش رہے اور اسے قبول کرلے ، بلکہ اسے پورا حق ہے کہ وہ حسبِ موقع متانت کے ساتھ وضاحت کردے کہ جو الزام اس کے سر منڈھا جا رہا ہے ، وہ اس سے بری ہے ۔

[ شائع شدہ آن لائن ماہ نامہ ہادیہ ، ماہ فروری 2022 ]

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*