کیا بیوی کی حیثیت لونڈی ہی کی طرح ہے؟ ـ ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن

آج ایک تحریر نظر سے گزری جس میں بعض احادیث، آثار اور اہل علم کے اقوال کا سہارا لیتے ہوئے صاحب تحریر نے ایک نامناسب انداز میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ” بیوی شوہر کے لیے ایک طرح سے لونڈی ہی ہوتی ہے”، مجھے ایسے لگا جیسے کوئی مستشرق اسلام کی تعبیرات کو سیاق وسباق سے ہٹا کر اپنا من پسند نتیجہ اخذ کررہا ہوـ اس پس منظر میں چند سطریں رقم کی ہیں، امید ہے صاحب تحریر اپنی تعبیرات پر نظر ثانی کریں گےـ
سب سے پہلے ہم قرآن مجید کی خوب صورت، فصیح وبلیغ تعبیرات کو دیکھتے ہیں، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ بیوی کا حقیقی سٹیٹس قرآن مجید کی روشنی میں کیا ہے؟
اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہےـ
کہیں وہ جوڑے متضاد صفات کے حامل ہیں اور مل کر خالق کائنات کی تدبیر کے مطابق کسی مقصد کی تکمیل کرتے ہیں، جیسے دن اور رات، تاریکی اور روشنی ـ کہیں یہ جوڑے اس معنی میں ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مماثل ہیں ، لیکن متنوع بھی ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے بھی رہتے ہیں اور مل کر ایک مقصد کی تکمیل کرتے ہیں ـ ومن کل شیئ خلقنا زوجین میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہےـ

اس معنی میں انسانوں میں مرد و عورت ایک دوسرے کا جوڑا ہیں ـ
وأنه خلق الزوجين الذكر َالأنثی، مرد و خواتین میں سے جو رشتہ نکاح میں منسلک ہوجائیں وہ ایک دوسرے کا خصوصی جوڑا ہیں ـ بیوی اپنے شوہر کے لیےزوج ہے اور شوہر اپنی بیوی کا زوج ہے، زوج سے مراد بالکل مماثل، ساتھ رہنے والی شخصیت، قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس خوب صورت رشتے کو "زوج” کی تعبیر دی گئی ہےـ جو کہ جوڑے، ساتھی اور مماثل ہونے کا مفہوم دیتا ہے، بلکہ عورت کو مرد کا زوج اور مرد کو عورت کا زوج کہا گیا ہےـ
{وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا…} [النحل : 72]

قرآن مجید نے اس رشتے کو غلامی، جبر، زبردستی، تسلط، خرید وفروخت کی سطحی تعبیر کہیں نہیں دی، بلکہ کیا حسین پیرایہ اختیار کیا؟! اس کا اندازہ آپ درج ذیل آیت مبارکہ سے لگا سکتے ہیں:
{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} [الروم : 21]
گویا اس جوڑے کا رشتہ راحت، سکون، ہمدردی، رحم دلی اور محبت پر استوار ہےـ غلامی اور اسیری پر نہیں ـ
جس طرح ادارے کے نظم وضبط، مینجمنٹ اور تنسیق میں درجہ بندی ضروری ہوتی ہے، ایک اسکول کا ہیڈ ماسٹر ہوتا ہے دوسرے اس کے ماتحت افراد، ایک کالج کا پرنسپل اور دوسرے اس کے ماتحت سٹاف ممبرز، اسلامی وانسانی تکریم میں وہ سب یکساں ہیں، لیکن انتظامی لحاظ سے ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل کا درجہ برتر ہےـ
اسی طرح گھر کے ادارے کو چلانے کے لیے میاں بیوی عزت واحترام میں یکساں ہیں، لیکن انتظامی لحاظ سے مرد قوام ہےـ
ازدواجی رشتے کی اس جہت کو واضح کرنے کے لیے قرآن مجید کی بیان کردہ ان ان دو حقیقتوں کو ملا کر پڑھیےـ ولهن مثل الذي عليهن..
جیسے عورتوں پر فرائض ویسے ہی ان کے حقوق ہیں اور دوسری حقیقت
الرجال قوامون على النساء،مرد عورتوں کے منتظم ہیں ـ
اس تناظر میں قرآن مجید اور سنت رسول میں خواتین کو ازدواجی زندگی میں اپنے خاوند کی اطاعت اور فرماں برداری کی تلقین کی گئی ہےـ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ. النساء ﴿۳۴﴾
مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس لیے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے سو نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں۔
ازدواجی زندگی کے حقوق وفرائض کا تعین تمدن کا ایک معرکۃ الآرا بنیادی ایشو رہا ہے اور اس وقت بھی ہے. ، دین اسلام نے اس میں جو راہ اختیار کی ہے وہ عدیم النظیر ہےـ ہمارا دین نہ تو موجودہ مغربی کلچر کی طرح انہیں ہر لحاظ سے یکساں قرار دیتا ہے اور نہ ہی ہندوانہ معاشرت کی طرح عورت کو ایک لونڈی قرار دیتا ہے، ان دونوں انتہاؤں کے بیچ میں ہمارا دین ایک انتہائی معتدل، متوازن اور عادلانہ تصور دیتا ہے، جس کے مطابق اکثر حقوق وفرائض میں میاں بیوی یکساں ہیں، اور گھر کے نظم ونسق،ادارہ نکاح کی بست وکشاد میں خاوند کو عورت پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہےـ
مزید برآں ان حقوق وفرائض کے تعین میں بھی دین اسلام ہر سوسائٹی کے عرف، حالات کی تبدیلی اور وقت کے طے شدہ معیارات کو بھی ایک جائز، محدود مقام دیتا ہے، اور انہیں ملحوظ خاطر رکھنے کی جابجا تلقین بھی کرتا ہےـ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ البقرہ. ۲۲۸
اور معروف کے مطابق ان (عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
عظیم مفسر علامہ سعدی رحمہ اللہ اس آیت مبارکہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وللنساء على بعولتهن من الحقوق واللوازم مثل الذي عليهن لأزواجهن من الحقوق اللازمة والمستحبة. ومرجع الحقوق بين الزوجين يرجع إلى المعروف، وهو: العادة الجارية في ذلك البلد وذلك الزمان من مثلها لمثله، ويختلف ذلك باختلاف الأزمنة والأمكنة، والأحوال، والأشخاص والعوائد.
یعنی ازدواجی زندگی کے حقوق وفرائض طے کرنے میں معروف ایک بنیادی مصدر ومرجع ہے اور معروف طے کرنے میں علاقے، افراد، اشخاص، خاندان، زمانے کے حالات، اور نتائج وعواقب کا دخل ہوتا ہےـ
مضمون نگار نے بدلتے حالات اور موجودہ دور کے مجموعی عرف کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہےـ یہی وجہ ہے کہ اس تحریر سے عورتوں کے جذبات تو مجروح ہوئے ہی ہیں، بہت سارے دین دار باپ، بھائی اور خاوند بھی موصوف کی تعبیرات سے چونک اٹھے ہیں ـ
دین اسلام چند مستثنیات کے علاوہ مجموعی طور پر تمام احکام ومسائل میں مرد و خواتین کو ایک جیسا قرار دیتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں وضاحت ہے:
"إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ”
خواتین تو مردوں ہی کی طرح ہیں ـ (ترمذی، ابوداؤد )
اس رشتے میں جو قربت، مناسبت، دکھ سکھ میں شراکت، گرم، سرد حالات میں ایک دوسرے کی حفاظت کا پہلو پایا جاتا ہے، اس لحاظ سے قرآن مجید میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہےـ
(ھن لباس لکم وأنتم لباس لہن)
اس رشتے میں جو رفاقت، ہمنشینی اور ساتھ ساتھ رہنے کا جو ایک انداز ہے، اس نظر سے قرآن مجید بیوی کے لیے "صاحبہ” کی منفرد تعبیر پیش کرتا ہےـ
قرآن کریم ہی کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی رشتہ نکاح کی نوعیت واضح کرنے کے لیے مختلف اسالیب دکھائی دیتے ہیں ـ
احادیث مبارکہ میں مرد کو اپنے گھر والوں کا "سید”، سردار ، سرپرست ، ذمہ دار اور عورت کو گھر کی "سیدہ” یعنی سرپرست، ذمہ دار اور ملکہ کہا گیا ہےـ
(ﻛﻞ ﻧﻔﺲ ﻣﻦ ﺑﻨﻲ ﺁﺩﻡ ﺳﻴﺪ، ﻓاﻟﺮﺟﻞ ﺳﻴﺪ ﺃﻫﻠﻪ، ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﺳﻴﺪﺓ ﺑﻴﺘﻬﺎ ".)
ﺃﺧﺮﺟﻪ اﺑﻦ اﻟﺴﻨﻲ ﻓﻲ ” ﻋﻤﻞ اﻟﻴﻮﻡ ﻭاﻟﻠﻴﻠﺔ ” (382)،الصحيحة 2041
اسی طرح مسئولیت اور ذمہ داری کی جہت کو واضح کرتے ہوئے، مرد کو” راعی”اور عورت کو راعیہ کہا گیا ہے:
وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا.
صحیح بخارى 893.
نزاکت اور حساسیت کے لحاظ سے عورتوں کو(قوارير) آبگینے کہا گیا ہےـ
دین اسلام ایسا عظیم دین ہے کہ زر خرید غلام کے بارے میں بھی اس کی نفسیات کا لحاظ کرتا ہے اور اسے بھی، میرا بندہ ، میرا بندہ کہ کر پکارنے کی اجازت نہیں دیتا:
وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي، أَمَتِي، وَلْيَقُلْ : فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ".
صحیح بخارى ٢٥٥٢
بلکہ زر خرید لونڈی سے بھی اگر اولاد ہوجائے تو اس کا سٹیٹس یکسر بدل جاتا، احکام تبدیل ہوجاتے ہیں، اب اسے بچے کی ماں کہتے ہیں (أم الولد)، لیکن ہمارے ہندوستانی بھائی مصر ہیں کہ آزاد عورت، منکوحہ بیوی، پانچ بچوں کی ماں کا سٹیٹس بھی بہر حال لونڈی ہی کی طرح ہے، یا للعجب!
صاحب تحریر نے ان تمام تعلیمات اور اخلاقیات کو یکسر نظر انداز کردیا ہے، اور بیوی کو لونڈی ہی کی طرح بنا دیا ہےـ
پرابلم نصوص میں نہیں ہے، نصوص شرعیہ علی الرأس والعين، اصل مسئلہ صاحب تحریر کے مجموعی تاثر اور نصوص کی نامناسب تعبیر میں ہے اور اس سے بڑھ کر مذکورہ نصوص کو یکسر نظر انداز کرنے سے اس رشتے کے بہت سارے خوب صورت پہلو صاحب تحریر نے یکسر نظروں سے اوجھل رکھے ہیں، جس بنا پر تحریر میں بر صغیر پاک وہندکاایک روایتی، ہندی کلچر کا خاوند ابھر کر سامنے آیا ہے، وہ خاوند جو اپنی بیوی کو کوئی عزت دینے کا روادار نہیں، اسے کبھی پاؤں کی جوتی کہتا ہے اور کبھی لونڈیوں کی طرح ایک لونڈی، مردانہ تحکم اور جبر زیادہ نمایاں ہو گیا ہے،اور اسلامی توازن کہیں گم ہو کر رہ گیا ہےـ
صورت حال کی سنگینی میں سب سے زیادہ اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ صاحب تحریر نے احادیث کو سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیا ہےـ کاتب کی پوری تحریر میں عورت کو لونڈی کی طرح ثابت کرنے کے لیے بنیادی طور پر صرف دو احادیث ہیں؛ ایک میں بیوی کو قیدی سے دوسری روایت میں نکاح کو غلامی سے تشبیہ دی گئی ہےـ
جس حدیث میں بیوی کو قیدی کہا گیا ہے ـ صاحب تحریر نے اس حدیث میں سے ایک ٹکڑا لیا ہے، وہ بھی ادھورا، اور اس سے نتیجہ سیاق سے ہٹ کر کشید کیا ہے، صاحب تحریر نے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
"سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو، اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں”ـ
اور پھر اپنے مخصوص انداز میں اس سے مردوں کی حاکمیت ثابت کی ہے، جبکہ حدیث کا پورا سیاق وسباق پکار پکار کر کہتا ہے کہ یہاں مردوں کی بالادستی بیان کرنا اصل مقصود نہیں ہے، بلکہ عورت کی ایک عظیم قربانی کا حوالہ دے کر مرد کو حسن سلوک پر ابھارنا مطلوب ہےـ جس طرح ایک آزاد مرد کو کہیں قید کردیا جائے، تو اس کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں، اسی طرح عورت اپنے والدین کے گھر کو خیر باد کہہ کر اپنے شوہر کے پاس قیدیوں کی طرح رہ رہی ہوتی ہےـ اس کی اس کیفیت کو تشبیہ کے انداز میں بیان کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ،خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا:
:‏‏‏‏ أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا.
سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم اس ( ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے ۔
(جامع ترمذی، 1163)
آپ غورکیجیے کس طرح "لیس تملكون منہن شیئا” کے الفاظ اڑا دئے گئے؟ اور سیاق وسباق کو بھی غائب کردیا گیاـ
دوسری حدیث جس میں نکاح کو غلامی سے تشبیہ دی گئی، درج ذیل ہے:
ﺇﻧﻤﺎ اﻟﻨﻜﺎﺡ ﺭﻕ ﻓﻠﻴﻨﻈﺮ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﺃﻳﻦ ﻳﺮﻕ ﻋﺘﻴﻘﺘﻪ ﻭﺭﻭﻱ ﺫﻟﻚ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ ﻭاﻟﻤﻮﻗﻮﻑ ﺃﺻﺢ.(السنن الكبرى للبيهقي)
نکاح تو محض ایک قسم کی غلامی ہوتا ہے، تمہیں خوب سوچ لینا چاہیے کہ اپنی پیاری آزاد بیٹی کو کس کی غلامی میں دینا ہےـ
اولا تو اہل علم کے ہاں اختلاف ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرفوع فرمان ہے یا کسی صحابی کا قول، ثانیاً بہر حال اس حدیث کو بھی بالکل غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے. یہاں بھی اصل مقصود منکوحہ کی غلامی بیان کرنا نہیں، نہ ہی بیوی کو لونڈی کہا گیا ہے، بلکہ اسے "عتیقہ” کہا گیا ہے، مخاطب بھی خاوند نہیں بلکہ باپ اور ولی ہے، غرض عورت کی غلامی بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کے رشتے کے لیے مناسب مرد کو تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی، ترغیب دیتے ہوئے نکاح کو غلامی سے تشبیہ دی گئی ہےـ
علم بلاغت میں طے شدہ حقیقت ہے کہ تشبیہ من کل الوجوہ نہیں ہوتی، بلکہ اس میں کسی ایک یا متعدد پہلوؤں میں مماثلت بیان کرنا مقصود ہوتا ہےـ
اور مذکورہ احادیث میں نکاح کو غلامی سے تشبیہ دے کر عورت کی کمزوری، اور اختیارات کی محدودیت اس غرض سے بیان کی گئی ہے، کہ اس کے سرپرست رشتہ دیتے ہوئے عورت کی اس کمزوری کو مد نظر رکھیں اور اس کے بارے میں اچھا فیصلہ کریں ـ
اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو شیر کہتا ہے تو اس کامطلب بالعموم یہ ہوتا ہے کہ میرا بیٹا بہادری اور قوت میں شیر کی طرح ہے ، کوئی صاحب لفظ "شیر” کی بنیاد پر اس کے بیٹے کو جانور، درندہ کہنا شروع کردے اور تشبیہ کو مقصود حقیقی سے ہٹا دے تو کہاں کا انصاف ہے؟
بس اسی طرح نکاح کو غلامی اور بیوی کو قیدی سے تشبیہ دی گئی ہے تاکہ متعلقین کو اس صنف نازک کی کمزوری بیان کرکے، انہیں خواتین کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دی جائے، لیکن ہمارے محترم بھائی نے اس تشبیہ کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا ہے، ایسا رنگ جو قرآن وسنت کی مجموعی تعلیمات سے یکسر صرف مختلف ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ اتنی بڑی بات صرف دو احادیث کو سیاق وسباق سے ہٹا کر کہ دی گئی ہے ، سیاق وسباق سے ہٹا کر دو احادیث سے اخذ کردہ نتیجہ ایسا ہے جو ہندوانہ کلچر کے زیادہ قریب ہے اور اس میں دیگر تمام آیات اور احادیث کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہےـ

واللہ الموفق وبہ الثقۃ وعلیہ التکلان وهو المستعان وصلى الله وسلم على النبي .

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*