کیا بھارت کی آدھی آزادی چھن گئی ہے؟ ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردونیوز)
پہلے بھارت’ آزاد‘ تھا! لیکن 2014ء کے بعد سے آزادی چھننی شروع ہوئی اور آج بھارت ’جزوی آزاد‘ ہے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ بھارت کی آدھی آزادی چھِن گئی ہے یا چھین لی گئی ہے ۔یہ رپورٹ نہ ہماری ہے نہ ہی کسی بھارتی ’تھنک ٹینک‘ کی ۔ یہ رپورٹ امریکہ کی ’فریڈم ہاؤس‘ نامی ایک ’تھنک ٹینک‘ کی ہے جس کا صدردفتر واشنگٹن میں ہے ۔ یو ں تو یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے لیکن امریکی حکومت کی طرف سے اسے جزوی امداد دی جاتی ہے۔ حالانکہ ’ فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ کو اسی طرح حکومت ہند نے مسترد کردیا ، اور ’غلط‘ یا ’گمراہ کن ‘ قرار دیا ہے جیسے اس سے پہلے کی انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی رپورٹوں کو مسترد کیا ہے ، لیکن یہ رپورٹ مسترد کیے جانے کے باوجود حکومت ہند کو یا باالفاظ دیگر مرکز کی مودی سرکار کو کٹگھرے میں کھڑا کردیتی ہے ، بالخصوص اقلیتوں کے تعلق سے اس کی پالیسیوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے۔ اس رپورٹ پر ایک نظر ڈالنے سے پہلے آج کے اخباروں میں چھپی ہوئی چند خبروں پر نظر ڈال لیں:
ایک خبر ہے کہ اگر اوورسیز کارڈ ہولڈر، یعنی وہ ہندنژاد جن کے پاس کسی اور ملک کی شہریت ہے ، تبلیغی اور میڈیا سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں اس کے لیے فارین ریجنل رجسٹریشن آفیسر سے خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگی ۔
ایک خبر کسانوں کی تحریک کے سودن مکمل ہونے کی ہے ۔
ایک خبر ہےکہ ایم پی اعظم خان کے کنبہ پر کاررائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
ایک خبر کشمیر سے ہے کہ میر واعظ کو جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
محبوبہ مفتی کے تعلق سے ایک خبر ہے کہ ای ڈی نے انہیں ’منی لانڈرنگ‘ کے معاملے میں طلب کیا ہے ۔
فلمساز وہدایت کار انوراگ کشیپ اور اداکارہ تاپسی پنّوں کے خلاف انکم ٹیکس کے چھاپے کی خبر پر لوگوں کا ردّعمل بھی آج اخباروں میں نظر آیا کہ انہیں مودی سرکار کے خلاف بولنے کی سزا دی جارہی ہے ۔۔۔
یہ چند خبریں بتاتی ہیں کہ ملک کے حالات کیا ہیں ، کیسے ان افراد پر جو حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کیسے سیاسی مخالفین کو دھمکایا جارہا ہے اور سرکاری جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ، چاہے وہ میڈیا کی ہو یا کسی اور کی ، دبایا جارہا ہے ۔ اور کیسے مسلم اقلیت کو سماجی ، سیاسی اور مذہبی طور پر حاشیے کی طرف ڈھکیلا جارہا ہے ۔ ’فریڈم ہاؤس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بدعنوانی کے باوجود بھارت میں مرکزی اور صوبائی سطح پر انتخابی جمہوریت بہت ہی مضبوط ہے ، کثیرالجماعتی نظام ہے ، آئین کے تحت شہریوں کو سماجی حقوق حاصل ہیں ، اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ مذہبی آزادی دی گئی ہے ، لیکن جب سے نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں اور ان کی کٹّر سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) اقتدار میں آئی ہے صحافیوں اور حکومت پر نکتہ چینی کرنے والوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے بلکہ اس میں شدت آئی ہے ۔ رپورٹ میں دلتوں ، آدی واسیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف کی جارہی کارروائیوں پر تفصیلی بات کی گئی ہے ۔ دہلی میں 2019ء کے مسلم کش فسادات کا ذکر ہے جس میں 53 افراد مارے گئے تھے ، سیکڑوں گھروں اور دوکانوں کو تہس نہس کیا گیا ، لوٹا اور جلایا گیا تھا اور مسجدوں کو تباہ وبرباد کیا گیا تھا۔۔۔ حالانکہ ’ فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ ہند نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ دہلی پولس نے فوری طور پر اقدام کیا اور فسادات پر قابو پالیا ۔ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پولس نے غیر جانبداری برتی اور ہر شکایت پر قانونی کارروائی کی گئی ۔۔۔ لیکن سچ یہی ہے کہ دہلی پولس نے دہلی فسادات کے تعلق سے ایک ’ فرضی سازش‘ کا پیچھا کیا ، جیسا کہ ’ دی وائر اردو‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ۔۔۔ فسادات کیوں ہوئے تھے؟ سب اس سوال کا جواب جانتے ہیں اور ’فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ فسادات اُن احتجاجات اور مظاہروں کو روکنے کے لیے شروع کیے گیے تھے جو سیاہ شہریت قانون ’سی اے اے ‘ کے خلاف ہورہے تھے اور انہیں ساری دنیا دیکھ رہی تھی۔ سی اے اے کے مظاہروں کو روکنے کے لیے مظاہرین پر حملے کئے گئے۔ کپل مشرا ، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر کا جوکردار ان فسادات میں رہا کوئی بھی فراموش نہیں کرسکتا ۔۔۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اور خود مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی اسمبلی الیکشن کے دوران جو اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں انہیں بھی کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔ فسادیوں کے چہرے کبھی بھی چھپے ہوئے نہیں تھے، اور ان کے چہرے بھی عیاں تھے جنہوں نے مسجدوں پر بھگوے جھنڈے لگائے اور وہ پولس والے بھی کہیں غائب نہیں ہوئے ہیں جنہوں نے مسلم بچوں کو پیٹ پیٹ کر ’جن گن من ‘ پڑھنے پر مجبور کیا تھااور ایک بچہ جان سے گیا تھا۔۔۔ مگر پولس کا رویہّ انتہائی جانبدارانہ رہا ، پکڑے مسلمان ہی گئے ۔۔ ’دی وائر اردو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق:’’ ایڑی چوٹی کا زور لگادینے کے باوجود دہلی پولس مبینہ کلیدی سازش کاروں کے طور پر گرفتار کیے گئے کارکنوں عمر خالد ، نتاشا نروال ، عشرت جہاں ، صفورہ زرگر، دیوانگنا کلیتا ، خالد سیفی ، میران حیدر، شفیع الرحمان کا اس تشدد سے براہِ راست کوئی رشتہ نہیں جوڑ پائی ہے ۔‘‘ اور تفتیشی صحافیوں نے اپنی رپورٹوں میں بجرنگ دل ، ہندوفورس اور آر ایس ایس کی دوسری ذیلی تنظیموں کا ذکر دہلی فسادات کے حوالے سے کیا ہے۔ لیکن افسوسناک سچ وہی ہے جو ’فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ میں ہے ۔ فسادی آج بھی آزاد ہیں اور بے قصورسلاخوں کے پیچھے ہیں ۔ مذکورہ ’ تھنک ٹینک‘ نے اپنی رپورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ لوگ جانتے ہی ہیں کہ سابق چیف جسٹس گوگوئی نے تمام ترثبوتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ’آستھا‘ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا تھا۔۔۔یہ فیصلہ کہ بابری مسجد کی جگہ کو رام مندر کی تعمیر کے لیے دے دیا جائے ۔۔۔ کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کا بھی ’فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ میں خاص تذکرہ کیا گیا ہے ۔۔۔ شہری اور انسانی آزادی ، مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، ملک سے بغاوت کا قانون ، انٹرنیٹ پر پابندی ، کوووڈ19 کے دوران پیش آنے والا انسانی المیہ اور سرکاری رویہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں کے ساتھ سلوک ، فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ میں ہر نقطہ پر تفصیل سے بات کی گئی ہے ۔
مرکزی سرکار کا دعویٰ کہ ’ فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ ’گمراہ کن ‘ ہے چلیے ہم قبول کر لیتے ہیں ، اس لیے کہ بہرحال یہ دعویٰ ہماری حکومت کررہی ہے ، لیکن یہ دعویٰ مان لینے کے باوجود حکومت سے ہم یہ ضرور دریافت کرنا چاہیں گے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آج ملک میں جو پالیسیاں بنائی جارہی ہیں وہ اقلیت مخالف ہیں ؟ مثال لے لیں ،’ قومی تعلیمی پالیسی‘ ۔ کیا یہ پالیسی اقلیتوں کے تعلیمی اداروں بالخصوص مسلمانوں کے تعلیمی اداروں اور مدارس کے لیے مضر نہیں ہے ؟ قومی تعلیمی پالیسی نے اپنے دامن میں وہ سب بھر لیا ہے جو’ ہندوتوا‘ کے پرچار کے لیے ضروری ہے لیکن اقلیتوں کے حقوق کے خلاف ۔ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ’ہندوتوا‘ کو فروغ دینے اور تاریخ کو مسخ کرنے کا کام انجام پائے گا بلکہ اس پر عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اس پالیسی کے تحت اردو زبان کے ’ ملک بدر‘ ہونے کا شدید خطرہ ہے ۔ گیتا، سوریہ نمسکار، یوگا وغیرہ کو نئی قومی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے ، ظاہر ہے کہ یہ ’ ہندوتوا‘ کے ایجنڈے کو لاگو کرنے کی سمت ایک قدم ہے ۔ مدارس پر الگ پابندیاں لگائی جارہی ہیں وہ بھی ایسی پابندیاں کہ مذہبی تعلیم کا حصول مشکل سے مشکل ہوجائے ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا سی اے اے کے ذریعے مسلم اقلیت کو حاشیئے پر پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے ؟ یہ بھی مودی سرکار کی ہی پالیسی ہے ۔ شریعت پر حملے الگ سے ہیں ، کاشی وشواناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کے معاملے الگ سے گرم کیے جارہے ہیں ۔ ماب لنچنگ کو ایک ہتھیار بنالیاگیا ہے ۔ دلت اور آدمی واسی بھی محفوظ نہیں ہیں ، ریپ کے اور اجتماعی ریپ وقتل کے واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔۔۔ خواتین ، بالخصوص اقلیتی طبقات کی خواتین ، جن میں دلت خواتین کی تعداد زیادہ ہے سخت حالات سے دوچار ہیں ۔صحافی ، دانشوراور حقوق انسانی کے کارکنان کی آوازیں گھونٹی جارہی اور انہیں سلاختوں کے پیچھے ڈالا جارہا ہے ۔ حزبِ اختلاف کو ڈرا کر یا پھر لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا جارہا ہے ۔۔۔ ’فریڈم ہاؤس‘ نے اسی کو ’ جزوی آزادی‘ کہا ہے ۔ ’نصف آزادی‘ کس نے چھینی؟ جواب ہے ، مودی سرکار ۔۔۔ تو کیا آنے والے دنوں میں یہ بچی کھچی آزادی باقی رہ پائے گی ؟ 2024ء کا سال شاید اس سوال کا جواب دے ۔