کیا بڑی بات کہ ہوجائیں اکابر بھی ایک-ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

(ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ، الہ آباد)
اللہ رب العزت کی قدرت بھی بڑی انوکھی اور نرالی شان والی ہے کہ انسان ایک آدم کی اولاد ہوتے ہوئے بھی شکل وشباہت کے لحاظ سےایک نہیں، بلکہ سب اپنی ایک الگ الگ پہچان اور شناخت رکھتے ہیں۔ نیز اِس کے باوجود کہ سب کے پاس آنکھ، کان، ناک، منھ اور ہاتھ، پاؤں ایک ہی جیسے ہیں مگر مجال ہے کہ فرید پر یزید کا دھوکا ہوجائے یا پھر یزید ،فرید ہوجائے،نہیں، ہرگز نہیں!!
محض اِن باتوں پر ہی غور و فکر کرلیا جائے تو یہ بات بڑی آسانی سے ہم سب کی سمجھ میں آجائے گی کہ دنیا اور اُس میں بسنے والے انسانوں کا پیدا کرنے والا کوئی معمولی ذات نہیں بلکہ غیرمعمولی قدرت کا مالک ہے، اور اُس کے خلاف جانا کوئی مذاق نہیں بلکہ سورج کی روشنی میں بیٹھ کر اُس کا انکار کرنے جیسا ہے، اور بالفرض یہ کام اگرکوئی جاہل انسان کرے تو اُس کی جہالت سمجھ کر اُسے نظر انداز کیا جاسکتا ہےمگر یہی کام اگرکوئی عالم/تعلیم یافتہ انسان کی طرف سے ہوتو یہ انتہائی بدبختی اور سر دُھننے والی بات ہے، لیکن افسوس کہ آج بڑے پیمانے پر ایسا ہورہا ہے، اور آئے دن اس کی بہت سی مثالیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں، جیسے:
1۔ کون ایسا عالم/پڑھالکھا انسان ہے جو یہ نہیں جانتا کہ دوسروں کی پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا، اُس کی چغلی اور غیبت کرنا سراسر گناہ اور غیرشرعی عمل ہے، اس کے باوجود آج نجی مجالس اور عوامی مجالس ہر جگہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نہ صرف ایک دوسرے کے عیبوں کوبیان کیا جارہا ہے بلکہ عیب بیان کرتے وقت بڑی فراخ دلی سے چٹخارہ بھی لیا جاتا ہے۔ نیز ہم میں کا ہرعالم/ پڑھالکھا انسان یہ بات بھی بخوبی جانتا ہے کہ اگرکسی کے عیب کی پردہ پوشی کی جائے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں اُس کے عیب کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اُس کو ذلیل ہونے سے بچالیتا ہے، چنانچہ اِس کا ایک مخالف پہلو یہ بھی ہے کہ جو شخص کسی کے عیب کی پردہ پوشی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کے عیب کی پردہ پوشی نہیں فرماتا ہے اور نتیجے کے طور پر عیب بیان کرنے والا شخص دینی اور دنیو ی دونوں سطحوں پر ذلیل و خوار ہوجاتا ہے اور پھر وہ کہیں کا نہیں رہتا۔
بالخصوص آج کے زمانے میں آئے دن ایک عالم کے ذریعے دوسرے عالم کے ذاتی معاملات کو اِس طرح مارکیٹ میں اچھالا جارہا ہے جیسے کہ شیرینی تقسیم کی جارہی ہو، اور یہ جانتے ہوئےکہ گالی دینا، بدکلامی کرنا اور بدگوئی کرنا منافقت کی علامت ہے، پھر بھی وہ لچھے دار گالیاں دی جارہی ہیں کہ اس کے سامنےشیطان کی آنتیں بھی چھوٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ (معاذاللہ!)
تو کیا اِن خرافات و زلّات سے بچنے کی ذمہ داری صرف عوام الناس کی ہے اورکیا خواص، بالخصوص علمااِ ن ذمہ داریوں سے بالکل آزاد ہیں؟
2۔ ملک و ملت اور معاشرت میں تفرقہ بازیوں اور پارٹی بندیوں کی جوفضا قائم ہےاور دین وحقانیت کے نام پر آپس میں جو جوتم پیزاری کا بازار گرم ہے،یہ سب ایسے مسائل ہیں جن کی حسّاسیت پر تقریباً تمام مکتبۂ فکر کے قائدین، علما اور خطبا زبانی طورپرمتفق ہیں، لیکن اس کے باوجودکہ اِن مسائل کے حل کے لیے سبھوں نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنارکھی ہیں، دینی اور دنیوی لحاظ سے ایک پلیٹ فارم پر آنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی کسی ایک شخص کو اپنا قائد ماننے کےلیے راضی ہیں، جب کہ اللہ بھی ایک، رسول بھی ایک، قرآن بھی ایک اور دین بھی ایک، یہاں تک کہ سب کے باپ (آدم)بھی ایک!! ‘‘ کیابڑی بات کہ ہوجائیں اَکابر بھی ایک’’ ۔
چنانچہ کیا یہ ملکی وملی اور معاشرتی اتحاد و اِتفاق محض عوام الناس ہی کے اندر قائم ہونا چاہیے، علما کے اندر اتحاد و اِتفاق کی ضرورت نہیں؟؟
پھر ہمارے قائدین اور علما و خطبا بڑے کرّوفر کے ساتھ عوام الناس کواللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سناتے رہتے ہیں: ‘‘اے ایمان والو! اللہ سبحانہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے امیر کی اطاعت کرو۔’’ (سورۂ نسا:59)
لہٰذا کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان عوام الناس ہی کے لیے درس عبرت ہے؟ علما کے لیے اِس آیت مقدسہ میں کچھ عبرت اور سبق نہیں؟ اگرعلما واقعی اِس آیت مقدسہ کواپنےلیے عبرت اور سبق مانتے ہیں تو وہ ایک امارت و قیادت کے تحت کیوں نہیں آتے؟؟ دینی سطح پر نہ سہی لیکن معاشرتی، ملکی اور سیاسی پلیٹ فارم پر ایک ساتھ تو آہی سکتے ہیں، اور اِس کی بہترین مثال میثاق مدینہ کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے!! ہم دیوبندی ہیں، بریلوی ہیں، وہابی ہیں، شیعہ ہیں ۔ کیا ہم انسان اور مسلمان بھی ہیں؟ اس پہلو پر کبھی ہم نے غور کیا ہے؟ نہیں ،تو آئیے ایک بار بحیثیت ابن آدم ہی کچھ سوچ لیں، شاید کہ بات بن جائے اور لقد کرمنا بنی آدم کا تاج ہمیشہ ہمارے سروں پر سجا رہے!!
3۔ ایک اور بات جو اِس زمانے کے علما میں بکثرت پائی جاتی ہے وہ ہے کبارِ مشائخ کی تعظیم کا فقدان، اور اِس کا اصل سبب ہے اُن کے درمیان حفظِ مراتب کی طرف سے بےتوجہی اور لاپرواہی۔ یہ معاملہ اُس وقت اور بھی واضح طورپرسامنے آتا ہے جب علما کے درمیان کوئی علمی اختلاف رونما ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر بجائے اس کےکہ طرفین ایک دوسرے کے اختلاف کو علمی پیمانےپر جانچیں اور پرکھیں،اس کے برخلاف مخالفین کی علمی باتوں کو بھی سرے سے خارج کردیتے ہیں اور مدلل باتوں کو بھی تسلیم کر نے سے انکار کردیتے ہیں، حالاں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اُن میں سے کسی کی باتیں وحی الٰہی نہیں ہوتیں ۔ ‘‘ این عجب بولہبی است’’
کیا علما کا یہ عمل قرآن وحدیث کے مطابق ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں سابقین انبیا کے مذہبی علما کی طرح اِس اُمت کے علما بھی اِمارت وبرتری کے دلدادہ اور حریص ہوگئے ہیں کہ شریعت جائے تو جائےلیکن سیادت اورسرداری نہ جانے پائے؟
4۔ اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوری کی۔ صحابہ نے آپس میں کہاکہ اِس سلسلے میں ہم بات نہیں کر سکتے،البتہ!صرف جناب اسامہ بات کرسکتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں، چنانچہ جناب اسامہ نے اِس سلسلے میں عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسامہ!ٹھہرو، بنی اسرائیل اِنھیں چیزوں کے سبب ہلاک ہوئےکہ جب اُن میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور اگر اُن میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اُس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔سن لو! اگر اِس جگہ فاطمہ بنت محمد(ﷺ) بھی ہوتی تو میں اُس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔(نسائی:4901)
یہ واقعہ بھی بڑے ایمانی جوش وخروش کے ساتھ ہم علما اور خطبا کے درمیان برسر اسٹیج بیان کرتے ہیں مگر جب کبھی اِنصاف کرنے کی باری آتی ہے توکیا سیرت رسول کا یہ پہلو ہمارے علما و خطبا کی نظر میں رہتا ہے؟ بلکہ اس کے برخلاف اگر مجرم کوئی اپنے فرقے کا ہوتو اُس کی ہزار تاویلیں نکال لیتے ہیں اور اگر مجرم کسی غیر فرقے کا ہوتو تاویل کی ہزارصورتیں ہونے بعدبھی ایک دوسرے کی باتیں ماننے کو تیار نہیں ہوتے، ماجرا کیا ہے؟
اِن حسَّاس پہلوؤں پرتمام فرقوں کے علما کو سنجیدگی سےغور کرنے کی ضرورت ہے جو محض یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے قرآن و حدیث کی باتوں کو عوام الناس تک پہنچا دیا اور وما علینا الاالبلاغ، تو اُنھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ‘‘اول خویش بعددرویش‘‘ یعنی پہلے خود کی اصلاح اور درستگی ہونی لازم ہے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح اور درستگی کا مرحلہ آتا ہے،جیساکہ قرآن پاک میں ہےکہ ‘‘ اےمومنو! پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔’’ (سورۂ تحریم:) ورنہ وہی بات ہوگی کہ ‘‘اے مومنو! وہ باتیں کیوں کرتے/کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے۔’’(سورۂ صف:2)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)