کیا عوام حکومت کے دشمن ہیں؟(اجیت ڈوبھال کی حالیہ تقریر کا جائزہ)- ارونا رائے

ترجمہ:نایاب حسن
(چیف ایڈیٹر قندیل آن لائن)
۱۹۶۸ء میں اجیت ڈوبھال انڈین پولیس سروس سے وابستہ ہوئے، اسی سال میں نے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS) میں شمولیت اختیارکی۔ ٹریننگ اہم تھی اور سب نے لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن میں ایک ہی فاؤنڈیشن کورس کیا۔ "زیرتربیت سول سرونٹس” میں باہمی اختلافات ہوتے ہیں؛ لیکن بغیر کسی استثنا کے، ہر کوئی جو سول سروسز میں شامل ہوتا ہے، وہ ہندوستانی آئین کا حلف لیتا ہے۔ یہ حلف نامہ قابلِ ذکر ہے: "میں …. حلف لیتا ہوں / تاکید کے ساتھ اقرار کرتا ہوں کہ میں ہندوستان اور ہندوستان کے آئین کے تئیں جو قانون کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے،وفادار رہوں گا، ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کو برقرار رکھوں گا اور اپنے دفتر کے فرائض دیانت داری، ایمان داری اور غیر جانبداری سے سرانجام دوں گا۔ (خدا ہمارا حامی و ناصر ہو)‘‘۔
ٹریننگ کے دوران کی بہت سی چیزوں سے مجھے اختلاف تھا؛ لیکن ایک چیز جو مجھے عزیز ہے اور جسے سات سال IAS میں رہ کر سبک دوش ہوجانے کے بعد بھی میں اپنے ساتھ رکھتی ہوں، وہ آئینی اقدار کے تحفظ کے تئیں سرکاری ملازم کو حاصل شدہ واضح مینڈیٹس ہیں، جن میں کمزورطبقات کے لیے ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کی اہمیت بھی شامل ہے۔ اکیڈمی میں ہماری ٹریننگ کے ساتھ ساتھ سروس کے دوران بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ دیانت داری اور غیر جانب داری کے اصولوں کو صرف آئینی تناظرمیں ہی صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ آئین نے یہ واضح کیا ہے کہ منتخب انتظامیہ ان مینڈیٹس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور ہر سرکاری ملازم اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی کبھی خلاف ورزی نہ ہو۔
مگر جب قومی سلامتی کے مشیر ڈوبھال 11 نومبر کو پاس آؤٹ ہونے والی پریڈ کے مہمان خصوصی کے طور پر حیدرآباد پولیس اکیڈمی پہنچے، تو انھوں نے من مانے طور پر جنگ اور قومی سلامتی کا ایک نیا "سیاسی” نظریہ پیش کیا، جس میں ہندوستان کے لیے خطرناک مضمرات اور اندیشے پائے جاتے ہیں۔
انھوں نے نئے پولیس افسران کو خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ جنگ کی نیا محاذِ جنگ،جسے آپ فور جی وار (Fourth-generation warfare) کہتے ہیں،وہ سول سوسائٹی ہے۔ اب جنگیں سیاسی و عسکری مقاصد کے حصول کا مؤثر ذریعہ نہیں رہیں۔ یہ بہت مہنگی ہوگئی ہیں اور ان کا بار نہیں اٹھایا جاسکتا،ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ یقینی نہیں ہوتا ؛لیکن سول سوسائٹی کو برباد کیا جاسکتا ہے،اسے زیر کیا جاسکتا ہے،اسے بانٹا جاسکتا ہے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ کھلواڑ کیا جاسکتا ہے،وہاں اس کی مکمل حفاظت کے لیے آپ کو موجود رہنا ہے‘‘۔
ڈوبھال نے اس سول سوسائٹی کی کوئی تشریح نہیں کی،جس سے وہ اپنے افسروں کو لڑانا چاہتے ہیں،نہ انھوں نے اس کی وضاحت کی کہ انھیں ہمارے عوام کے خلاف’’فورجی وار‘‘ چھیڑنے کا اختیار کس نے دیا،انھیں اپنی باتوں کی مزید وضاحت کرنی چاہیے تھی۔ یہ ایسا نظریہ ہے جو سیاسی مقتدرہ اور پرائیویٹ سیکٹر کی کوششوں کو تعمیرِ ملک کے عناصر  کے طور پر جواز عطا کرتا ہے اور منظم شہریوں (سول سوسائٹی) کے ذریعے کی جانے والی تنقید و اعتراض کو ترقی و قوم پرستی کے لیے نقصان دہ باور کراتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ڈوبھال دستورمیں دی گئی جمہوری،سماجی اور ترقی سے متعلق دی گئی ضمانتوں کا دائرہ محدود کرنا چاہتے ہیں۔
۱۹۷۵ میں آئی اے ایس چھوڑ کر میں نے سماجی کارکن بننے اور یہ سیکھنے اور جاننے کا فیصلہ کیا کہ انصاف و مساوات سے متعلق آئینی اقدار کو کیسے ہندوستانیوں کی سیاسی و معاشرتی زندگی میں بھی مؤثر ہونا چاہیے۔ میرے قابلِ تعریف ساتھیوں،مہمات اور تحریکوں نے ایک آزاد ملک کی بنیاد رکھنے میں دیانت داری کے ساتھ حصہ لیا ہے،انھیں کسی عہدہ یا منفعت کی جستجو نہیں تھی۔ جدوجہدِ آزادی سے تحریک پا کرشہریوں کے مختلف گروہوں اور سماجی کارکنان نے آئین کے اصولِ آزادی،مساوات،انصاف،اخوت و وقار پر مبنی ترقی و جمہوریت سے متعلق مسائل پر مسلسل کام کیا اور انھیں متاثر کرنے والوں پر نظر بنائے رکھی ہے،شاید موجودہ حکومت کو اسی سے تکلیف ہے۔
ہمیں ہندوستانی قوم کے لیے ممکنہ خطرہ کے طور پر نشانہ بناتے ہوئے ڈوبھال نے انڈین پولیس سروس کے پورے نئے بیچ پر زور دیا ہے کہ وہ "سول سوسائٹی” کو ممکنہ دشمن کے طور پر دیکھیں، جس کے ساتھ نئی ’’فورجی جنگ” لڑنی ہے۔ اس وقت وہ شاید ہمارے بَیچ کے واحد ایسے شخص ہیں جو کابینی وزیر کے سٹیٹس کے ساتھ ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر عوامی عہدے پر فائز ہیں۔ فورجی جنگ اور سول سوسائٹی کو لاحق خطرے کے بارے میں ان کے ذاتی خیالات کچھ بھی ہوں، مگر ایک پبلک سروینٹ کے طور پر ہم میں سے باقی تمام لوگوں سے زیادہ وہ آئین کے پابند ہیں۔ مجھے آئین میں ایک بھی ایسا جملہ نہیں ملتا، جو ڈوبھال کو "سول سوسائٹی” پر بندوق تاننے کا جواز عطا کرتا ہو۔ درحقیقت ایک سینئر مشیر کے طور پر اگر وہ آئین کے ذریعے طے کردہ تصورِ ہندوستان کے حقیقی مخالفین کی بجاے ہندوستان کی سول سوسائٹی کے خلاف داخلی جنگ لڑنا چاہتے ہیں، تو وہ ملکی سلامتی کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔
ایسا لگتاہے کہ ایک سیاسی منصب دار کے طور پر ڈوبھال نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے والا ہر شخص ملک کے لیے خطرہ ہے۔ یہ ملک کے اندر کے مخالفین ہیں، جنھیں دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت میں صحت و معتبریت کی سند صرف منتخب حکومت اور اس کے ذریعے پاس ہونے والے قوانین کو حاصل ہے۔ وہ اسی تقریر میں آگے کہتے ہیں: ’’جمہوریت کی اصل حقیقت بیلٹ باکس میں نہیں ہوتی، یہ ان قوانین میں مضمر ہوتی ہے، جو ان بیلٹ باکسز کے ذریعے منتخب ہونے والے لوگ بناتے ہیں‘‘۔ اور بلاشبہ "قوم” اور "قوم پرستی” کی طرح منتخب ایگزیکیٹو کا سیاسی نظریہ اس طرح "قانون کی حکمرانی” کو طے کرنے والا ادارہ بن جاتا ہے۔
موجودہ حکومت کا یہ ایک سوچا سمجھا طرزِ عمل ہے۔ جنرل بپن راوت، جو مسلح افواج کے پہلے سربراہ مقرر کیے گئے تھے، انھوں نے ٹائمز ناؤ چینل پر کھلے عام اعلان کیا کہ "جموں و کشمیر کے مقامی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی لنچنگ کر دیں گے، جو کہ ایک بہت ہی مثبت علامت ہے،اگر آپ کے علاقے میں کوئی دہشت گرد سرگرم ہے، تو آپ اسے کیوں نہ ماریں؟” گویا جنرل راوت ہجومی تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ ہجوم ہی طے کرے کہ دہشت گرد کون ہے اور پھر "سزا”دینے کا فیصلہ بھی خود ہی کرلے۔ کیا یہی "قانون کی حکمرانی” ہے؟ اسی طرح نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آرسی)، جس کی سربراہی سیاسی طور پر منتخب شخص کررہے ہیں، انھوں نے حال ہی میں مرکزی پولیس دستوں کے ساتھ ایک مناقشے کا اہتمام کیا، جس میں پوچھا گیا: "کیا انسانی حقوق دہشت گردی اور نکسل ازم جیسی برائیوں سے لڑنے میں رکاوٹ ہیں؟”۔  قانونی ضمیر کا محافظ ادارہ ایک مباحثے کا اہتمام کرتا ہے ، جس میں یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا "انسانی حقوق” ( جو قانونی طورپر اس ادارے کے وجود کی وجہ ہے ) ایک "رکاوٹ” ہے؟
یہ سب دراصل ہمارے اپنے لوگوں پر،ملک کے عوام پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ یہ ہمارے آئین، جمہوریت اور شہریت کو مجروح کرنے والے اندھادھند ناانصافی پر مبنی مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ سیاسی نظریہ اصل تصورِ ہندوستان کو کمزور کررہا ہے۔ حالاں کہ موجودہ یا کسی بھی دوسری منتخب حکومت پربہت اہم جمہوری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہر حکومت آئین کی پابند ہوتی ہے، نہ تو وہ اس سے پیچھے ہٹ سکتی ہے اور نہ ہی نظرانداز کر سکتی ہے۔

(مضمون نگار سابق آئی اے ایس افسر اور معروف سماجی کارکن ہیں،اوریجنل انگریزی مضمون دی انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*