کیا امریکہ کے واقعات سے ہندوستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک کچھ سبق لیں گے ؟ ـ شکیل رشید

جب کوئی جنونی تخت نشین اقتدار چھوڑنے پر کسی حال میں راضی نہ ہو تو وہی ہوتا ہے جوامریکہ میں بدھ 6 جنوری کے روز ہوا ۔ کیپٹیل ہل پر، جہاں کانگریس اور سینٹ اور امریکی حکومت کے دفاتر ہیں، بدھ کے روز ہارے ہوے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے جو حملہ کیا اسے امریکی جمہوریت کا شرمناک ترین واقعہ کہا جا رہا ہے ۔ جمہوریت کی علامات مانی جانے والی عمارتوں پر دنگائیوں کا چڑھنا اور لوٹ پاٹ مچانا، چار افراد کا جان سے جانا، یہ ایسے واقعات ہیں جن سے امریکہ اور امریکی تو ششدر ہیں ہی ساری دنیا حیران ہے ۔ حالانکہ اس سے قبل کیپٹیل ہل پر کوئی دس حملے ہو چکے ہیں جن میں 24 اگست 1814ء کا حملہ انتہائی شدید تھا ۔ برطانوی فوج نے واشنگٹن ڈی سی میں گھس کر وائٹ ہاؤس کو آگ لگا دی تھی اور سپریم کورٹ کی عمارت بھی جلا دی تھی، کانگریس کی لائبریری بھی پھونک دی گئی تھی اور جم کر توڑ پھوڑ، لوٹ پاٹ کی گئی تھی ۔ کچھ حملے حکومت کے خلاف احتجاج میں تھے تو کچھ حملے ایسے بھی تھے جن کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا، مگر کوئی بھی حملہ بدھ کے حملے کی مانند نہیں تھا ۔ کبھی کسی امریکی صدر نے بذات خود اپنے حامیوں کو اکسانے کا اور اپنا اقتدار بچانے کے لیے انہیں تشدد پر آمادہ کرنے کا کام، جیسا کہ ٹرمپ نے کیا، نہیں کیا ۔ بدھ کا وہ دن اہم تھا کیونکہ کانگریس میں ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی، صدارتی انتخابات میں جیت کی توثیق کے لیے اجلاس ہو رہا تھا ۔ لیکن ٹرمپ تو پہلے ہی سے شور مچا رہے تھے کہ بائیڈن انتخابات میں دھاندلی کر کے کامیاب ہوے ہیں، لہذا وہ نہ توثیق خود کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی چاہتے تھے کہ کانگریس اور سینٹ کے ارکان توثیق کریں ۔ انہوں نے خود کو مسندِ اقتدار پر برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں کے، بشمول سپریم کورٹ، دروازے کھٹکھٹاے، سینٹروں کو دھمکایا، جارجیا میں سیاست دانوں اور افسروں پر دباو ڈالا کہ وہ نتائج کے اعدادوشمار اس طرح سے تبدیل کردیں کہ ان کی جیت پکی ہو جائے، جب کہیں دال نہیں گلی اور عدالتوں اور سپریم کورٹ نے جھکنے سے انکار کر دیا تو ٹرمپ کے لیے ایک راستہ بچا کہ وہ جو بائیڈن کی توثیق ہونے ہی نہ دیں ۔ کئی روز سے ٹرمپ توثیق کے اجلاس کو روکنے کے لیے ماحول بنا رہے تھے، اپنے حامیوں کو اکسا رہے تھے کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرف مارچ کریں ۔ ٹرمپ کے جو ٹوئٹ سامنے آے ہیں ان میں سے ایک میں انہوں نے لکھا تھا : ہمارا انتخابات کو اعدادوشمار سے ہارنا ناممکن ہے، 6 جنوری کو واشنگٹن ڈی سی میں بڑا احتجاج ہوگا، سب وہاں پہنچیں، یہ احتجاج بے لگام ہوگا ۔ اور ٹرمپ کے جو حامی کیپٹیل ہل پہنچے وہ بے لگام ہی تھے، ان بےلگاموں سے ٹرمپ نے وائٹ ہاوس کے سامنے کھڑے ہو کر باقاعدہ خطاب کیا، کیپٹیل ہل پر ہلہ بولنے کے لیے ان کے حوصلے بڑھانے، کہا، ہم نہ کبھی ہمت ہاریں گے اور نہ کبھی ایسے احمقانہ نتائج کو قبول کریں گے ۔ ٹرمپ کی تقریر کے بعد ہی سارا ہنگامہ شروع ہوا ۔ مشتعل افراد کیپٹیل ہل کی طرف بڑھے، پولیس کی رکاوٹیں توڑیں، عمارت میں گھس پڑے اور قانون سازوں کے دفاتر کو تہس نہس کرنے لگے ۔ چونکہ صدارتی جیت کی توثیق کا اجلاس جاری تھا، قانون سازوں کی بڑی تعداد موجود تھی، ان کی جانیں خطرے میں تھیں اس لیے توثیقی اجلاس روک کر کانگریس کے ارکان سمیت نائب صدر مائک پینس کو عمارت سے بحفاظت باہر نکالا گیا، رات تک کیپٹیل ہل دنگائیوں سے خالی کروا لیا گیا ۔ اس ہنگامے کو ٹرمپ اوول آفس سے دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے کوئی ایک گھنٹے کے بعد، جب دنگائیوں نے جی بھر کر توڑ پھوڑ کر لی اور گولیاں چل گئیں، لوگ مارے گیے، کہا کہ مظاہرین کو پر امن رہنا چاہیے ۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن نے، جن کی جیت کی توثیق ہو چکی ہے تشدد کو بغاوت قرار دیا ۔اگر ٹرمپ کے بیانات کا بغور جائزہ لیا جاے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خود کو امریکہ پر حکومت کرنے کا اہل اس لیے سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کے مقابلے خود کو زیادہ یا پورے طور پر قوم پرست سمجھتے ہیں ۔ مثلاً ان کا اپنی شکست قبول نہ کرتے ہوئے یہ کہنا : ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم شکست تسلیم نہیں کریں گے، ہمارے ملک کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوچکا ہے، اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے لیے نہیں امریکہ کے لیے اپنی شکست تسلیم نہیں کر رہے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قائد نے ملک اور قوم کے نام پر اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی ہے اس نے اپنے ملک اور قوم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ ٹرمپ ایسے ہی ایک لیڈر ہیں ۔ جمہوریت ٹرمپ کے لیے کس قدر بے معنیٰ چیز ہے اس کا پتہ ان کے اس جملے سے چلتا ہے : چھ جنوری کو سب واشنگٹن ڈی سی پہنچیں اور کانگریس اور نائب صدر مائک پینس کو چیلنج کریں کہ وہ نومبر کے صدارتی انتخابات کو مسترد کریں، اس طرح صدارت کی کرسی پر میں بیٹھا رہوں گا ۔ ہار کر بھی ہار نہ ماننا اور انتخابی عمل کو مسترد کرنا ثبوت ہے کہ ٹرمپ جمہوریت پسند قطعی نہیں ہیں ۔ انہوں نے نائب صدر کو باقاعدہ یہ ہدایت دی تھی کہ انتخابات کے نتائج کو وہ کوڑا دان میں پھینک دیں، جسے انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ ٹرمپ کے آس پاس جو ہیں ان کے لیے بھی جمہوری انتخابی عمل بے معنیٰ ہے، ان کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی ہار اور جیت کے فیصلے کے لیے چاہتے تھے کہ ٹرمپ اور جو بائیڈن میں کشتی کرادی جاے ۔ ٹرمپ کے بیٹے ڈونالڈ جونئیر کی حرکت دیکھیں، اپنی پارٹی یعنی ریپبلیکین پارٹی کے عہدیداران اور ارکان کو پیغام بھیجا کہ کیوں اپنے صدر کے لیے لڑائی مول لینے سے گھبرا رہے ہو، اب یہ ان کی (پارٹی کے ارکان اور عہدیداران کی) پارٹی نہیں رہی ہے اب یہ ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلیکین پارٹی ہے ۔ ویسے ڈونالڈ جونئیر کی بات کچھ غلط بھی نہیں ہے، ریپبلیکین پارٹی صرف ٹرمپ کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے ۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ٹرمپ نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا تھا مگر پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ پر لگام کسنے کی کوئی کوشش نہیں کی، چند ایک کو چھوڑ کر ۔ پارٹی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اس کے ہاتھ سے ٹرمپ حامیوں کے ووٹ نکل جائیں گے ۔ لہٰذا کیپٹیل ہل پر تشدد کے لیے جس قدر ذمے دار ٹرمپ ہیں اسی قدر ان کی ریپبلیکین پارٹی بھی ہے ۔ ایک سوال یہ ہے کہ وہ جنہوں نے امریکہ کی جمہوری علامت پر دھاوا بولا وہ کون تھے؟ انہیں بالکل اسی طرح حاشیے کے عناصر کہا جا رہا ہے جیسے کہ ہمارے بھارت میں انہیں حاشیے کے عناصر کہا جاتا ہے جو گئو کشی کے یا گئو ماتا کی حفاظت کے بہانے ماب لنچنگ کرتے پھرتے ہیں، جو لو جہاد کے نام پر تشدد کرتے ہیں یا جو دھرم کی حفاظت کے لیے دوسروں کے مذاہبِ کی عبادت گاہوں کو توڑتے اور ان پر جھنڈے لگاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے بابری مسجد شہید کی تھی حاشیے کے عناصر ہی تھے، اور وہ بھی حاشیے کے عناصر تھے جنہوں نے مودی راج والے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا ۔ تو یہ جو حاشیے کے عناصر ہیں خود بخود کہیں اگتے نہیں ہیں، یہ پیدا کیے جاتے ہیں ۔ معروف اینکر رویش کمار کے بقول لوگوں کو قاتلوں کی بھیڑ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے ذمے دار سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں یا پھر شدید قسم کے نظریات رکھنے والی تنظیمیں اور جماعتیں ہوتی ہیں، آج کئی سیاسی پارٹیاں ہیں جو شدید قسم کے دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی تنظیموں اور جماعتوں کی کٹھ پتلیاں بنی ہوئی ہیں، جیسے کہ بی جے پی جو آر ایس ایس کے اشارے پر کام کرتی ہے ۔ عام طور پر سارا کھیل قوم پرستی کے نام پر کھیلا جاتا ہے، ٹرمپ نے یہی کیا، اور ان کے بڑی تعداد میں حامی پیدا ہو گیے ۔ یہ کیپٹیل ہل کے حملہ آور نسل پرستی اور وائٹ سپریمیسی (سفید فام ہی برتر) کے نظریات کو ماننے والے ہیں ۔ ٹرمپ کے حامیوں میں وہ دولت مند امریکی شامل ہیں جو ٹیکس کی کٹوتیوں کا فائدہ حاصل کرتے ہیں، قدامت پسند مذہبی امریکی ان کے حامی ہیں، انہیں ٹرمپ کے منھ سے اسقاط حمل کی مخالفت میں اور خواتین پر جنسی حملوں اور کئی کئی شادیوں پر فخر کرنے کے جملے اچھے لگتے ہیں، ان کے حامی وہ سفید فام ہیں جنہیں ٹرمپ کا یہ کہنا کہ غیرملکیوں کو امریکہ سے نکلنا ہوگا بھاتا ہے ۔ ٹرمپ کے حامی یہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ یہ سب اپنے لیے نہیں امریکہ کے لیے بلکہ امریکہ کی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔ 62 فیصد امریکی کیپٹیل ہل پر حملے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہیں لیکن باقی کے38 فیصد امریکی؟ ان باقی کے امریکیوں میں ایک بڑی تعداد یقیناً ٹرمپ کی حامی ہے، ان میں وہ ریپبلیکین بھی ہیں جو زبانوں پر تالے ڈالے ہوے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ صدارت سے ہٹنے کے بعد بھی امریکہ کے لیے ایک خطرہ بنے رہیں گے کیونکہ انہیں ان ساڑھے سات کروڑ امریکیوں کی حمایت حاصل ہے جن کے ووٹ انہیں ملے ہیں ۔ اب لوگوں کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ کیا ٹرمپ کے ہٹنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کر کے امریکی انتظامیہ اپنی اور امریکہ کی ساکھ بچاتی ہے یا ٹرمپ کی طاقت سے ڈر کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ رہتی ہے ۔ ویسے ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک صدر کی حیثیت سے وہ اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے خود کو اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو ہر طرح کے جرم سے بری کر لیں، انہیں یہ اندیشہ ہے کہ ہٹنے کے بعد ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے ۔ ماضی میں کبھی کسی امریکی صدر نے خود کے کسی جرم کو معاف نہیں کیا ہے، لیکن ٹرمپ ممکن ہے یہ کر لیں ۔ یہ امریکہ کا امتحان ہے ۔ یہ ساری دنیا کا امتحان ہے کہ کیا وہ امریکہ کے واقعات سے سبق سیکھیے گی اور کسی ایسے شخص کو، جو شدید متشدد خیالات رکھتا ہو اقتدار کی کرسی پر کبھی نہیں بٹھائے گی ۔ ہم بھارت واسیوں کے لیے بھی امریکہ کے واقعات میں سبق پوشیدہ ہے ۔ یہاں بھی مذہب کے نام پر سیاست کا زور ہے، سی اے اے کے نفاذ کے ذریعے غیر ملکیوں کو نکالنے کی بات کی جارہی ہے اور حاشیے کے عناصربغیر کسی خوف کے سیاستدانوں کی قیادت میں قتل و غارتگری میں جٹے ہیں اور جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ یہاں بھی بی جے پی ایک شخص کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے اور مودی جب چاہتے ہیں اپنے حامیوں کی بھیڑ جمع کر لیتے ہیں ۔ کیا ہم اب بھی ہوش میں نہیں آئیں گے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)