کیا ایک کل ہند مسلم سیاسی جماعت کی تشکیل کا وقت آگیا ہے؟- ایس اے ایئر

(کنسلٹنگ ایڈیٹر دی اکانومک ٹائمس)
ترجمہ:نایاب حسن

بہار کے ریاستی انتخابات میں پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب وہ کوئی حاشیائی یا محض کھیل بگاڑنے والی جماعت نہیں رہی۔ اب یہ ایک ایسی پارٹی ہے، جسے کو کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا اور یہ آیندہ کے انتخابات میں کنگ میکر بن سکتی ہے۔
1990 کی دہائی سے ہندوستان کے سیاسی منظرنامے پر ذات ، مذہب یا خطے پر مبنی گروہی جماعتوں نے تیزی سے قبضہ کیا ہے۔ اس سلسلے کے بڑے کھلاڑیوں میں شیوسینا ، سماج وادی پارٹی ، بی ایس پی ، آر جے ڈی ، جے ڈی یو ، ترنمول کانگریس ، ٹی ڈی پی ، وائی ایس آر کانگریس اور کرناٹک میں جے ڈی ایس شامل ہیں۔ اس ‘طبقاتی دھماکے ‘ میں قابل لحاظ حد تک غیر موجود طبقہ مسلمانوں کا ہے۔ ان کی آبادی مجموعی آبادی کا تقریبا 15٪ ہے اور درجنوں انتخابی حلقوں میں 30 فیصد سے زیادہ ہے جو کہ دلتوں ، قبائلیوں ، یادووں یا کئی دوسری ذاتوں کے ووٹ شیئرز سے زیادہ ہے جن کی اپنی اپنی جماعتیں ہیں۔ آسام (اے آئی یو ڈی ایف) ، کیرالا (آئی یو ایم ایل) اور تلنگانہ (اے آئی ایم آئی ایم) میں علاقائی مسلم جماعتیں طویل عرصے سے موجود ہیں ؛ لیکن ان تمام کا کل ہند سطح کا کوئی اتحاد نہیں ہے۔
اس کی اصل وجہ یہ رہی ہے کہ کل ہند مسلم سیاسی جماعت کی تشکیل میں پاکستان حامی قرار دیے جانے کا خطرہ ہے۔ برطانوی عہد کی آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان بنوایا تھا، آزادی کے بعد اسے ختم کردیا گیا۔ اس کی جگہ ہند نواز انڈین یونین مسلم لیگ نے کئی ریاستوں میں اپنی موجودگی درج کروانے کی کوشش کی ؛ لیکن صرف کیرالا میں ہی اسے مضبوطی حاصل ہوسکی ۔ ہندوستان کے زیادہ تر حصوں میں مسلمان اپنی جان اور حقوق کے تحفظ کے لیے سیکولر جماعتوں کو ووٹ دیتے رہے۔
تاہم پچھلے چھ سات سالوں کے دوران بی جے پی کے غیر معمولی عروج نے بہت سی چیزوں کو بدل دیا ہے۔ واجپئی کے دور میں بی جے پی بڑی حدتک ایک سینٹرسٹ پارٹی تھی،مگر مودی کی قیادت میں اس پر ہندوتووادی رنگ چڑھ گیا ہے۔ ماب لنچنگ اور مسلمانوں پر حملوں نے اس طبقے کو انتہائی خوف زدہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا مسلمانوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دینے والے ٹرولز سے بھرا ہوا ہے۔
ایک زمانے تک مسلمانوں نے ہندو فرقہ واریت کو روکنے کے لیے کانگریس پر اعتماد کیا،مگر اب کانگریس دیکھ رہی ہے کہ بی جے پی ہندو لہر کے رتھ پر سوار ہوکر کامیابیاں بٹور رہی ہے،تو وہ بھی اسی رنگ میں رنگنا چاہتی ہے؛ لہذا اس نے نہروکے سیکولرزم کو چھوڑ کر سافٹ ہندوتوا کی طرف رخ کرلیا ہے۔ اس کی بدترین مثال 2002 کا گجرات کا انتخاب تھا کہ تب کے وزیر اعلی مودی کی مقبولیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس نے اپنا قائد شنکرسنگھ واگھیلا کو بنایا تھا جو خود بی جے پی ریٹرن تھے۔ یعنی بی جے پی اور کانگریس کا مقابلہ آر ایس ایس کے دو حامیوں کے مابین تھا اور جیسی کہ توقع تھی ،اس الیکشن میں کانگریس شکست سے دوچار ہوئی۔ پھر بھی کانگریس مسلسل نرم ہندوتوا کے خطوط پر گامزن ہے؛ چنانچہ راہل گاندھی کو شیو بھکت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔
حالاں کہ اس بیہودہ موقع پرستانہ حرکت کی وجہ سے کانگریس کو انتخابی میدان میں نقصان ہی ہوا ہے؛چنانچہ مسلمان اور ملک کا سیکولر طبقہ جو اسے اب تک قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے،اب اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور یہیں سے ایک کل ہند مسلم سیاسی جماعت کا راستہ صاف ہوا ہے۔
حیدرآباد میں مجلس لمبے عرصے سے سرگرم ہے۔ اس کی ابتدا سلطنت حیدرآباد کے دہشت پسند رضاکاروں کے طورپر ہوئی تھی جو حیدرآباد کو بھارت میں شامل کرنے کے خلاف تھے مگر ۱۹۴۸ میں ہندوستانی حکومت کے مسلح ایکشن اور حیدر آباد کی ہندوستان میں شمولیت کے بعد اس کے اپروچ میں بدلاؤ آیا اور یہ حیدرآباد کی مقامی سیاسی جماعت بن گئی،کئی لوکل انتخابات میں اسے کامیابی ملی اور اس کے کئی میئرز منتخب ہوئے۔
اسد الدین اویسی کے قائد بننے کے بعد پارٹی نے آل انڈیا سطح پر اپنی سیاسی امنگوں اور عزائم کا دائرہ وسیع کیا۔ اس نے 2012 میں مہاراشٹر اور 2013 میں کرناٹک میں بلدیاتی انتخابات لڑے تھے ، جن میں متعدد نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد 2017 کے اترپردیش شہری باڈی کے انتخابات میں اس نے 78 سیٹوں پر الیکشن لڑا اور31 سیٹیں جیتی تھیں۔ 2019 کے عام انتخابات میں اس نے پرکاش امبیڈکر کی دلت پارٹی کے ساتھ اتحاد میں مہاراشٹر کی 47 نشستوں پر الیکشن لڑا اور وہاں سے پہلی پارلیمانی نشست جیت لی۔ اس کے بعد اس نے بہار کے ریاستی انتخابات میں 20 نشستوں پر مقابلہ کیا اور بی ایس پی اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے ساتھ مل کر پانچ نشستیں جیتیں۔ اب یہ مغربی بنگال اور اتر پردیش میں آنے والے ریاستی الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگرچہ اس کو اصل اعتبار مسلمانوں میں ہی حاصل ہے ؛ لیکن یہ پارٹی سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور انتخابات میں متعدد ہندو امیدواروں کو بھی کھڑا کرتی ہے۔ حیدرآباد میں اس کے تین ہندو میئر رہ چکے ہیں۔ کے پرکاش راؤ ، اے ستیہ نارائن اور اے پوچیا۔ ایک لوکل الیکشن میں اس نے ایک ہندو وی بھانومتی کو میدان میں اتارا تھا، جس نے کانگریس کے مسلم امیدوار کو شکست دی تھی۔ یہ چیز مستقبل کے لیے نمونہ ہوسکتی ہے۔
کانگریس کو شکایت ہے کہ مجلس بی جے پی مخالف ووٹوں کے انتشار کا سبب بنتی ہے اور بھگوائیوں کو ایک جٹ ہونے میں مدد کرتی ہے۔ اس سے پہلے بی ایس پی کے بارے میں بھی یہی کہا گیا تھا مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ مجلس اس وقت تک ووٹ کٹوا پارٹی ہوسکتی ہے جب تک وہ بی جے پی کی مرکزی مقابل پارٹی سے الگ ہوکر آزادانہ طورپر الیکشن لڑتی ہے؛لیکن اگر وہ ایک بار اپنی پکڑ مضبوط کرلیتی ہے جیسا کہ اس وقت بہار سمیت کئی مقامات پر اس نے کیا ہے،تو اس وقت وہ مرکزی اینٹی بی جے پی فرنٹ کا حصہ بن سکتی ہے اور الیکشنز میں اپنی خواہش کے مطابق سیٹیں بھی مانگ سکتی ہے، تب یہ ووٹس بکھیرنے والی نہیں، انھیں یکجا اور اکٹھا کرنے والی پارٹی ہوگی ـ ہاں اس کی یہ کامیابی ممکن ہے کانگریس کے مکمل زوال کی قیمت پر ہو اور اگر مجلس اپنے مسلم ووٹس کو متحدہ فرنٹ کی دوسری پارٹیوں میں منتقل کروانے میں کامیاب ہوتی ہے،تب تو خاصی اثردار ثابت ہوگی۔

(اوریجنل مضمون۲۲؍نومبر کو ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوا ہے۔ مضمون میں ظاہرکردہ آرا سے قندیل یا مترجم کا اتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*