کیا اب ہمیں کلیم صدیقی کی گرفتاری کا انتظار ہے؟ ـ آفتاب اظہرؔ صدیقی

گذشتہ کل جب دہلی سے دو نیک اور ایماندار اسلام کی تبلیغ کرنے والے بے قصوروں کی گرفتاری کی خبر پڑھنے کو ملی تو اچانک دل کا سکون بے چینی میں بدل گیا، جذبات میں ابال آیا اور غصے کی انتہا نہ رہی، فوراً ذہن میں کئی طرح کے سوالات پیدا ہونے لگے: کیا ہمارا ملک آزاد ملک نہیں رہا؟ کیا بھارت میں عام آدمی کی آزادی کا حق چھینا جارہا ہے؟ کیا ہندوستان سے جمہوریت کا نام و نشان مٹایا جارہا ہے؟ کیا ملک میں مذہبی آزادی کا کوئی مطلب نہیں رہا؟ رات بستر پر لیٹا تو نیند کی شدت کے باوجود ہندی کالم ”لگھو لیکھ“ لکھ کر یوپی اے ٹی ایس کی آئین مخالف کارروائی کو اجاگر کیا۔
واقعہ یہ ہے کہ دہلی میں رہ رہے عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کو اتر پردیش کی اے، ٹی، ایس ٹیم نے گرفتار کرلیا ہے جن کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور جو لوگ اسلام قبول کرنے کے خواہش مند ہوتے انہیں کلمہ پڑھاکر ان کے ضروری کاغذات بنوانے میں ان کا تعاون کرتے تھے، بس اسی جرم کی بنیاد پر انہیں اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے، تھوڑا پس منظر یہ بھی ہے کہ ایک شر پسند منحوس الوجہ نرسمہا نند کے پاس عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے دو لڑکے نرسمہا کو سمجھانے کے لیے گئے تھے کہ ”آپ نفرت پھیلانا بند کیجیے اور اسلام کے بارے میں درست معلومات حاصل کیجیے“ لیکن نرسمہا نند نے ان دونوں کے خلاف یہ کہہ کر مقدمہ عائد کروادیا کہ یہ لوگ مجھے مارنے کے لیے آئے تھے، پولیس کو ان سے کی گئی تفتیش میں عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کے نام کا پتہ چلا، پھر یوپی پولیس نے پوری پلاننگ کے ساتھ عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کو گرفتار کیا اور دھرمانترن (مذہب تبدیل کروانے) کے علاوہ بھی ان پر کئی طرح کے جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا، انہیں بیرونی فنڈنگ مل رہی تھی وغیرہ وغیرہ دوسری طرف گودی میڈیا نے مکمل حرام خوری کے ساتھ میڈیا ٹرائل شروع کردیا اور دو سیدھے سادھے مسلمانوں کو جرم کی دنیا کے خطرناک کھلاڑیوں کے طور پر دکھانے لگا۔ عمر گوتم پہلے غیر مسلم تھے، نام تھا شیام پرساد، وہ بھی مسلمانوں کے خلاف پیدا کی گئی نفرت کے شکار تھے؛ لیکن ایک بار وہ بیمار ہوئے اور کچھ مسلمانوں نے ان کے علاج اور تیمار داری میں اہم کردارادا کیا، جب وہ اچھے ہوئے تو انہیں مسلمانوں کے اس رویے نے متاثر کیا، پھر کیا تھا، دل کی دنیا بدل گئی اور وہ شیام پرساد سے عمر گوتم ہوگئے۔
عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کی گرفتاری آئین کے خلاف اس لیے ہے کہ آئین ہند کے دفعہ 19/ میں بولنے کی آزادی دی گئی ہے اور تبلیغ کا تعلق بھی تکلم سے ہے، نیز آئین کے دفعہ 25/ میں دی گئی کھلی مذہبی آزادی میں دو طرح کے حقوق دیے گئے ہیں؛ پہلا یہ کہ آدمی اپنے دل سے کسی بھی مذہب کو ماننے یا نہ ماننے کا اختیار رکھے گا دوسرا حق یہ کہ کسی بھی مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر و تبلیغ کرنے کا اختیار ہوگا۔ عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کا عمل آئین کے دفعہ 25/ کے عین مطابق ہے اور اترپردیش اے ٹی ایس کا ان دونوں بے قصوروں کا گرفتار کرنا آئین کے دفعہ 19اور 25/ کے باکل خلاف ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ آئین ہند کے مطابق اسلام کی تبلیغ کرنے والوں کو گرفتار کرکے انہیں پریشان کیا جارہا ہے؟ اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ علمائے کرام کی ”تبلیغ“ کے کام سے دوری ہے، ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ایک اندازے کے مطابق چالیس لاکھ علمائے کرام کی آبادی موجود ہے کتنے علمائے کرام ایسے ہیں جو غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں؟ دو سے ڈھائی لاکھ مدارس اسلامیہ میں کتنے مدارس ایسے ہیں جہاں غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کا طریقہ سکھایا جاتا ہو اور اس کے لیے باضابطہ الگ شعبہ قائم ہو؟ ہندوستان کی ہزاروں ملی تنظیموں میں کتنی ایسی جماعتیں اور تنظیمیں ہیں جن کے اغراض و مقاصد میں اسلام کی تبلیغ شامل ہو اور وہ اس پر تن دہی کے ساتھ کام کر رہے ہوں؟ ان سبھی سوالوں کے جواب بہت مایوس کن ہیں۔ آج ہندوتوا کا بڑھتا ہوا رجحان، لوو جہاد کے نام پر مسلمانوں کی بدنامی، گؤ کشی کے نام پر سر عام موب لنچنگ اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات کے پیچھے ہماری غفلت کا بھی حصہ ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنے فرض منصبی کا احساس کیا؟ ہم یوں تو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا کے لیے ہے؛ لیکن کیا ہم اپنے پاس رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی باتیں بتاتے ہیں؟ دعوے کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس ملک میں ایک لاکھ علمائے کرام و مسلم دانشوران بھی غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کو اپنا مشن بنالیں تو آر ایس ایس کی سو سالہ محنت بہت جلد برباد ہوکر رہ جائے گی، ملک کی فضا بہت جلد اسلاموفوبیا کی آلودگی سے محفوظ نظر آئے گی، لو جہاد کا نعرہ لگانے والے خود اسلام قبول کرکے اسلام کا نعرہ لگانے لگ جائیں گے؟ حکومت کی کرسیوں سے لے کر تمام محکموں میں اسلام کا بول بالا ہوگا۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اوپر سے غفلت کی چادر کو اتار پھینکیں اور ”تبلیغ دین“ کے فریضے کو ادا کرنے والے بن جائیں ورنہ جس طرح کل ذاکر نائک کو پریشان کیا گیا اور انہیں اس ملک سے ہجرت کرنی پڑی اور آج عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کو گرفتار کرکیا گیا اسی طرح آئندہ کل مولانا کلیم صدیقی اور ان کے علاوہ ملکی سطح پر جو کچھ گنے چنے لوگ اس فریضہئ تبلیغ کو ادا کر رہے ہیں ان پر بھی یہ ستم آزمایا جائے گا؛ لہذا عقل مندی اسی میں ہے کہ تمام علمائے کرام اور تمام مدارس اسلامیہ اور پڑھے لکھے مسلمان اوّلاً تو غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کو عملی طور پر شروع کردیں اور استقلال کے ساتھ اس پر ثابت قدم رہیں حتیٰ کہ دیکھنے اور سننے والے یہ سمجھنے لگیں کہ یہ بھی نماز، روزہ کی طرح مسلمانوں کا ایک فریضہ ہے۔ ثانیاً عمر گوتم، مفتی جہانگیر یا جن بے قصوروں کو بھی پولیس یا حکومت کی سازش کا نشانہ بنایا جائے ان کی حمایت اور ظالموں کی مخالفت میں ملکی سطح پر آواز بلند کریں۔
علمائے کرام کے لیے غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کا ایک آسان طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت میں لگ کر کام کریں اور ہر جماعت میں تین چار علمائے کرام کا وفد ہو، تبلیغ کے دیگر ساتھی جاکر مسلمانوں میں تبلیغ کریں جیسا کہ ان کا طریقہ ہے اور علمائے کرام غیر مسلموں میں گشت اور ملاقاتیں کریں اور اس کی ایک منظم ترتیب بنالیں تاکہ کام کرنے میں پریشانی نہ ہو۔