کیا آج آپ نے شاہد اعظمی کو یاد کیا؟ ـ سمیع اللہ خان

آج کا دن وطنِ عزیز میں مسلمانوں کے عظیم ترین بے لوث ہمدرد شاہد اعظمی کے بہیمانہ اور بزدلانہ قتل کا دن ہے، جو اپنی قوم کی خاطر لڑتے ہوئے آزاد اور جمہوری کہلانے والے بھارت میں شہید ہوگیاـ شاہد اعظمی وہ نام ہے جس نے بھارت کے متعصبانہ اور ظالمانہ سسٹم کو آئینی لڑائی کا چیلنج دیا تھاـ
شاہد اعظمی خود سسٹم کے مظالم کا شکار ہوا، جیل گیا، لیکن اس نے پاؤں کی زنجیروں کو راہ کا روڑا نہیں بننے دیا شاہد نے جیل ہی میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور وکیل بناـ
شاہد اعظمی نے جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک آہنی عزم کا اعلان کیا، انہوں نے مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کے جھوٹے لیبل کےخلاف قانونی اور عدالتی جنگ چھیڑ دی ـ
وہ ایک ایسا وقت تھا جب کانگریسی عہد میں ہندوستان کے آئینی اداروں میں برہمنی مہرے گھس چکے تھے، اور آر۔ایس۔ایس کی جانچ ایجنسیوں نے مسلم نوجوانوں پر ” آتنک واد "کا عفریت تھوپ دیا تھاـ اس وقت افسانوی انڈین مجاہدین سے لیکر جیشِ محمد اور لشکر طیبہ کے نام پر بھارت بھر میں مسلم نوجوانوں پر کریک ڈاؤن کرکے پوری مسلم کمیونٹی کو مہلک احساس عدمِ تحفظ میں مبتلا کردیاگیا تھاـ پوٹا، مکوکا اور ٹاڈا جیسے قوانین یک طرفہ طورپر مسلمان نوجوانوں کو برباد کرنے کے ليے دھڑلے سے استعمال کیے جارہے تھےـ اس وقت انصاف اور حقوق انسانیت کی دعویدار اور نام نہاد سیکولر وکیلوں کی کئی ملک گیر تنظیموں نے ملک کے کئی صوبوں میں دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیے گئے مسلم نوجوانوں کے ساتھ گھناﺅنے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے لیے عدالت میں مقدمات نہیں لڑنے پر اتفاقی تجاویز پاس کی تھیں ـ ایسے وقت میں جیل سے رہا ہوکر آنے والے اس عظیم نوجوان نے اپنی قوم پر مسلط اس دہشت گردی کے جھوٹے بھوت کے خلاف انصاف کی لڑائی کا اعلان کیاـ
یہ اعلان ایک مشن بن گیا، مسلم نوجوانوں میں انصاف کی لڑائی کی امنگ بننے لگا، جدوجہد کا استعارہ بن گیا، محض 7 سالوں میں شاہد نے 17 ایسے افراد کو رہا کروایا جن پر دہشت گردی کا مقدمہ چل رہا تھا ـ شاہد اعظمی کی جدوجہد نے ہندوستان کی ایجنسیوں کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے تار تار کردیا تھاـ شاہد اعظمی نے ہمارے ملک کے سسٹم میں گھسے ہوئے مسلم دشمن متعصب زہر کو اینٹی ڈوز دینا شروع کردیاتھاـ یکے بعد دیگرے کامیابیوں سے سسٹم اور ایجنسیوں کا نسل پرستانہ اور مکروہ ترین چہرہ بےنقاب ہورہا تھاـ ہندوستان میں مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کا جھوٹا عفریت ننگا ہوچکا تھا،
یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ سسٹم میں موجود ملک دشمن عناصر کا وجود تڑپ اٹھا، انہوں نے ایک بار پھر آئینی اصولوں کے ذریعے اپنے خلاف جاری انصاف کی اس تحریک کو غنڈہ گردی سے ختم کرنا چاہا،
اور بالآخر شاہد کو قتل کردیاگیا
اور ظالموں نے تسلیم کرلیا کہ اصولوں کے راستے سے وہ کبھی جیت نہیں سکتےہیں، وہ آمنے سامنے کی کسی بھی لڑائی میں ٹھہر نہیں سکتےہیں ـ

شاہد اعظمی کی یہ حصولیابیاں معمولی نہیں بلکہ ٹھوس تاریخی انقلاب تھیں جس نے بھارت کے پولیس سسٹم، تفتیشی ایجنسیوں، جوڈیشل مراحل، میڈیا ٹرائل سے لیکر وکیلوں کی بار ایسوسی ایشن تک کے منظم اور منصوبہ بند بے رحم کھیل کو پوری طرح سے چیلنج کررکھاتھاـ ان تمام میں گھسے ہوئے جَن سنگھی برہمن عناصر کی ریشہ دوانیوں کو افشاء کردیا تھا ـ
شاہد اعظمی کی آبائی نسبت دیارِ علم و ہنر اعظم گڑھ سے ہے جو اپنی بہادر اسپرٹ کے لیے بھی جانا جاتا تھاـ ان کی پیدائش ممبئی کے دیونار علاقے میں ہوئی تھی اور وہیں ان کا بچپن گزراـ شاہد صرف ایک ماہر قانون وکیل نہیں بلکہ وہ ایک علم دوست، شریف النفس نظریاتی اور مطالعاتی انسان تھے، ان سب کے ساتھ ساتھ ان کی خود ارادیت نے انہیں ۳۰ سال کی عمر میں ہی فولادی شخصیت بنا دیا تھاـ شاہد اعظمی نے سایۂ شاہ سے بغاوت کی،فاشسٹ ظلم و ستم کے ایوانوں کو للکارا ہی نہیں بلکہ انہیں شکست بھی دی، شاہد اعظمی نے ثابت کیا کہ ظلم کے کوڑوں سے، غنڈوں کی گولیوں اور قاتل حکمرانوں کی ٹولی سے بھی کہیں زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے تو وہ ہے زنجیر عدل کی جھنکار، سطوتِ شاہی ہو کہ جلالِ پادشاہی اگر سر اٹھا کر جینے کا عزم پیدا ہوجائے تو یہ سب بونے ہوجاتے ہیں ـ

شاہد اعظمی ظلم کے خلاف انصاف اور غلامی کے خلاف حریت کا استعارہ ہے، شاہد اعظمی کی جدوجہد رہنمائی کرتی ہے اور اس کی شہادت درس دیتی ہے، اس کی شہادت بھارتی سسٹم کے اسلاموفوبیا کی گواہ ہے اور یہ بتلاتی ہیکہ ناانصافی، نسل پرستی اور اسلام۔دشمنی پر قائم یہ نظام انصاف کے راستوں کا سراب تو دکھاتا ہے لیکن اس پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دیتا، شاہد اعظمی کی زندگی اور موت دونوں میں پیغام ہے، اس کے قاتلوں کو کیفرکردار تک نا پہنچا کر سسٹم نے بھی اپنی لائن واضح کردی ہے، اور اس سے وابستہ تنظیموں نے بھی اسے فراموش کر اپنی عارضی حیات کو جیسے مشغول رکھا ہے، لیکن شاہد زندہ ہے، زندہء جاوید ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اصحابِ مسند کے یہاں کیا ہے؟ لیکن، ہم اپنے جانباز شہیدوں کو کبھی نہیں بھولتےـ
شاہد کی یہ حصولیابیاں وطنِ عزیز کی تاریخ کا ایک انمٹ باب بن چکی ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، لیکن سوال یہ ہیکہ شاہد کی قوم نے اسے کس قدر یاد رکھا ہے؟ جس کے لیے شاہد نے 32 سال کی عمر میں ابدی زندگی کی شہادت کو قبول کرلیا؟ شاہد کے مشن کو کسی نے آگے بڑھایا؟ اور کیا خود شاہد اعظمی کے خون کو انصاف کا خراج پہنچا ہے؟
” کیا آج آپ نے شاہد کو یاد کیا؟ ”
شاہد اعظمی کو ہمتوں کا سلام، ان کی روح کو عزیمتوں کا خراج! جس نے بد سے بدتر حالات میں بھی یہ تاریخ رقم کی اور ہمیں سکھا گیا کہ:
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*