کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟- محمد ندیم الدین قاسمی

آپ نے نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا ہوگا یا کم ازکم جلسۂ سیرت میں شرکت کی ہوگی،دورانِ مطالعہ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشوں کو پڑھا ہوگا،جلسہ، جلوس میں آپؐ اور آپؐ کے بے لوث اصحاب کی قربانیوں کا تذکرہ آیا ہوگا، ضرور آپ نے نبیؐ کے شعبِ ابی طالب کے وہ تین سالہ کٹھن ،پرمشقت اور درد ناک ایام بھی پڑھے ہوں گے،اہلِ طائف کے نبیؐ کو دئے ہوے زخم بھی آپ کے ذہنوں میں محفوظ ہوں گے ، جنگِ احد میں آپؐ کا زخمی چہرہ بھی یاد ہوگا،میدانِ عرفات وغیرہ میں تڑپ تڑپ کر ہم جیسوں کی مغفرت کی دعا کرنا،زندگی بھر ہدایتِ امت کی خاطر تڑپتے رہنا،اور پھر خدائی تسلی ” لعلک باخع نفسک علی آثارھم” بھی یاد ہوگی،حق گوئی کے خاطر وطنِ عزیز کو پرنم آنکھوں سے "الودع” کہنا بھی یاد ہوگا، روزِ قیامت آپؐ کا "امتی، امتی” کے نعرے لگانا بھی آپ نے بیانات میں کئی بار سنا ہوگا؛ لیکن کیا یہ سننا اور شرکت کرنا محض وقت گزاری اور تفریحِ طبع کے لیے تھا، یا عبرت و نصیحت کے لیے؟ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ آپؐ نے یہ قربانیاں کیوں دی؟ اور ہم نے ان قربانیوں کا کیا حق ادا کیا،یا کم از کم ادائگی کی کوشش کی،تبلیغِ دین کے خاطر کچھ مصائب بھی برداشت کیے،سنتوں کے چھوٹنے پر کچھ غم ہوا،دوسروں کو مصیبت میں دیکھ کر کبھی ان کی مدد کی فکر ہوئی،ارتداد کی آندھیوں کو روکنے کے لیے آپ نے کچھ کیا،شفاعتِ نبیؐ کی امید میں کبھی آپ معاصی سے رکے؟ اگر نہیں! اور واقعتا نہیں! تو آپ کو فکر کرنی چاہیے؛ کیوں کہ ایک نہ ایک دن رہبرِ امت ﷺ کے سامنے کھڑا ہونا ہے، تو اسی لیےاپنا رخ درست کریں ، نبیؐ کریم کے عاشقِ صادق بن جائیں،اور یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ آپ سے بہت زیادہ نہیں، بہ قدرِ وسعت تقوی کا مطالبہ کیا گیا،فاتقوا اللہ مااستطعتم۔
یہ حوصلہ عطا کر مجھے خدائے کریم
کہ اپنے آپ کو خود آئینہ دکھاؤں میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*