کیا5 اگست کواجودھیامیں کورونانہیں آئے گا؟عید قرباں پر سرکار کا رویہ جانبدارانہ:امتیاز جلیل

اورنگ آباد:جمعرات کے روز اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے اورنگ آباد کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے مہاراشٹر حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کورونا کی وباکے دوران عیدقرباں پرپابندی کے حوالے سے دوہرے معیارات کو اپنائے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورہ ایودھیا پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اورنگ آباد سے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے کہاہے ہم جانتے ہیں کہ آپ (وزیر اعظم مودی) سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے رام مندر تعمیر کرنے جارہے ہیں اور ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاوزیراعظم مودی کو ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ترجیحات کااحساس نہیں ہوناچاہیے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے پر ایک لطیفہ پیش کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم لیڈرنے مزید پوچھا ہے کہ ایسالگتا ہے جیسے پی ایم مودی اور کورونا کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے کہ 5 اگست کو کورونا ایودھیانہیں آئے گا۔ نہیں جانتے کہ آپ دوسرے لوگوں پر کس طرح حکمرانی کا اطلاق کرسکتے ہیں ، یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔5 اگست کوکوویڈ 19 وبا کے درمیان ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لیے ’’بھومی پوجن‘‘ کی تقریب میں وزیراعظم مودی۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔امتیازجلیل نے عیدقرباں کے لیے مہاراشٹر حکومت کے رہنما اصولوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ بقرعید پرعلامتی قربانی کا کیامطلب ہے۔ گذشتہ ہفتے کوویڈ 19 وبا کے درمیان ریاستی حکومت نے 31 جولائی اور یکم اگست کو اس تہوار کو منانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ ہدایت نامے کے مطابق لوگوں سے کہاگیا ہے کہ وہ مساجدکی بجائے گھر پر نماز پڑھیں اور قربانی کے لیے جانوروں کو آن لائن یا فون پرخریدیں۔سوال یہی ہے کہ پھراجودھیامیں مذہبی تقریب کیوں ہورہی ہے؟