کتب خانے تعلیم گاہوں کے لیے زندگی کی علامت اور علم کے فروغ کا بڑا ذریعہ ہیں:حضرت امیر شریعت

مدرسہ حسینیہ پلاول ،ضلع ہزار باغ میں اسیر مالٹا حضرت شیخ الہند لائبریری کے افتاح کے موقع پر منعقد اجلاس میں امیر شریعت کا پر مغز خطاب

پٹنہ:کتب خانہ ایک بڑی تعلیمی ضرورت اور تعلیم گاہوں کے لیے زندگی کی علامت ہے، علم کے فروغ میں کتب خانوں اور لائبریریوں کا بڑا اہم کردارہے، کتب خانہ جتنا معیاری اور کتابوں کے ذخیرہ کے اعتبار سے جتنا وسیع ہو گا ، اس کی افادیت اتنی ہی زیادہ ہوگی اور اتنا ہی و ہ قابل قدر ہو گا ۔ اسیر مالٹا شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی علیہ الرحمہ کے نام سے منسوب مدرسہ حسینیہ پلاول میں قائم ہونے والی یہ لائبریری بھی مدرسہ کے تعلیمی سلسلہ میں ایک وقیع اضافہ ہے ۔ مجھے اس لائبریری کا افتتاح کرتے ہوئے بے حد خوشی کا احساس ہو رہاہے ، میں ادارہ کے ذمہ داروں کو اس قابل تحسین اقدام پر مبارک باد دیتا ہوں اورا مید کرتا ہوں کہ اس لائبریری سے مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ دوسرے شائقین علم کو زیادہ سے زیادہ نفع پہونچے گا ۔ ان خیالات کا اظہار امیر شریعت بہار ،اڈیشہ جھارکھنڈ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے مورخہ ۱۶؍مارچ کو مدرسہ حسینیہ پلاول ہزاری باغ میں اسیر مالٹا حضرت شیخ الہند لائبریری کے افتتاح کے موقع پر کیا۔

اس موقع پر حضرت امیر شریعت مدظلہ نے مدرسہ کی وسیع و عریض جامع مسجد میں ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے دینی تعلیم کی اہمیت اور بچوں کی دینی واخلاقی تربیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ہر ماں باپ اور گارجین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دوا اور غذا کی طرح ہی اس کی بنیادی دینی و ایمانی تعلیم پر بھی توجہ دے ، اور ان کی دینی و اخلاقی تربیت کا انتظام کرے، آج اگر یہ انتظام نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ نسل ایمان پر بھی قائم رہے گی یا نہیں کہا نہیں جا سکتا ۔ آپ نے نہایت ہی تفصیل کے ساتھ مختلف مثالوں کے ذریعہ تعلیم و تربیت کی ضرورت و اہمیت کو سمجھایا ۔ آپ نے فرمایا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی ۰۲۰۲ء؁ سے صاف طور پر یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک تعلیمی سسٹم کو وجود دینا نہیں بلکہ تعلیمی نظام پر ایک خاص قسم کا رنگ چڑھانا ہے۔ دینی مدارس کو بدنام کرنا ، دینی مدارس کو بند کرنے اور دین و شریعت پر قد غن لگانے کی کوشش کرنا حکومت کے کارندوں کا شیوہ بن چکا ہے ، ہمارا ایمان ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز اور کائنات کی ساری دولت سے زیادہ پیارا ہے۔ ہم ہر نقصان برداشت کرسکتے ہیں ، لیکن دین و ایمان کا نقصان برداشت نہیں کر سکتے ، اس لیے امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کی طرف سے اس وقت دینی مکاتب کا قیام، معیاری عصری تعلیم کے فروغ اور اردو زبان کے تحفظ کے لیے تحریک چلائی گئی ہے ، جھارکھنڈ میں ۱۱؍ دنوں کی ریاست گیر تحریک کے بعد ۱۳۔۱۴؍ مارچ کو شہر رانچی میں اضلاع کے نمائندگان علماء ، ائمہ ، دانشوران ، سماجی کارکنان اور اردو زبان سے تعلق رکھنے والے احباب کا نہایت ہی موثر اجلاس منعقد ہوا، اور رانچی کے شہر اربا میں ایک معیاری اسکول امارت انٹرنیشنل اسکول کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ میں یہاں موجود تمام لوگوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں اور تعلیم کی راہ میں مضبوط قدم بڑھائیں۔اجلاس میں ضلع ہزاری باغ کے مختلف خطوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس کارواں میں نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ، مولانا مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا ، مولانا مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت رانچی اور مولانا منظور عالم اٹکی رکن شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ بھی شریک تھے۔ نظم و انتظام اور اجلاس کے کامیاب انعقاد میں مولانا مفتی ثناء اللہ قاسمی قاضی شریعت ہزاری باغ، جناب شاہنواز احمد خان سابق ڈپٹی لیبر کمشنر ہزاری باغ کے علاوہ مدرسہ حسینیہ پلاول کے ذمہ داران ، اساتذہ و طلبہ اور شہر کے معززین و نوجوانان پیش پیش تھے۔

واضح ہو کہ حضرت امیر شریعت مد ظلہ امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک کے سلسلہ میں جھارکھنڈ کے سفر پر تھے ۱۱؍مارچ کو شروع ہونے والا یہ سفر ۱۶؍مارچ کو مدرسہ حسینیہ پلاول میں شیخ الہند لائبریری کے افتتاح اور اجلاس عام کو خطاب کرنے پر مکمل ہوا۔اس سفر کے دوران حضرت امیر شریعت نے متعدد مشاورتی اجلاس،خصوصی نشستوں ، اجلاس عام کو خطاب کیااور ہوجر اوینا ،روڈ،اربا، ضلع رانچی میں امارت انٹرنیشنل اسکول ، دلادلی میں گلوبل آئیڈیل اسکول اور بروے، ضلع رانچی میں ایک مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔