کماری والا:قصہ گوئی کی بازیافت ـ اشعرنجمی

ایک برگد کے گھنے پیڑ کے نیچے مرد، عورت، بچے، گدھے، اُلو، گائے، بھینس، کتے، پرندے بلکہ کیڑے مکوڑے بھی جمع ہیں۔ سب نیچے زمین پر سحر زدہ بیٹھے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ان کے شریر وہاں ہیں ہی نہیں، البتہ ان کے کان اپنی جگہ سلامت ہیں بلکہ ان کا پورا جسم ہی کان بن چکا ہے، مجسم سماعت۔ نہیں نہیں، ان کی آنکھیں بھی کام کررہی ہیں جو برگد کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں بنے ہوئے چبوترے پر بیٹھے ایک تن تنہا جٹا دھاری پر ٹکی ہوئی ہیں۔ جٹا دھاری چبوترے کی طرح پرانا ہوچکا ہے ، اس کی رنگت بھی چبوترے کی طرح جگہ جگہ سے اُکھڑ چکی ہے، زمانوں کے مشاہدات، تجربات اور محسوسات نے اس کے بالوں کو کھچڑی بنا دیا ہے۔ جٹا دھاری کے سر کے اوپر ایک لالٹیں پیڑ کی سب سے قریب تر ایک شاخ سے بندھی لٹک رہی ہیں جس کی ناکافی روشنی پورے ماحول کو پُر اسرار بنائے ہوئے ہے ۔ بوڑھے برگد کے اوپر آسمان پہ ستارے جگنوؤں کی مانند جھلملا رہے ہیں اور چاند بھی پیڑ کی شاخوں سے بندھی لالٹین کی مد د کو اپنی روشنی انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن اس جٹا دھاری قصہ گو کی سحر آگیں اور ڈوبتی اُبھرتی آواز، الفاظ کا زیر و بم، تخیلات کے ٹھاٹھیں مارتا سمندر کے سامنے بھلا روشنی کی کسے پروا ہے، وہ تو ڈوب اور اُبھر رہے ہیں، بالکل ساکت بہے جارہے ہیں۔ ہر حاضر جیسے ٹائم مشین پر بیٹھا ہوا ہو جو انھیں ان جہانوں کی سیر کرارہا ہو جو اس کے سامنے فی الحال نہیں ہیں۔ ہر کردار جو ان کا اپنا نہیں ہے اورجنھیں وہ جانتے نہیں، وہ اس میں خود کو سمونے کی کوشش کررہے ہیں یا بے اختیار ہو کر خود ان کرداروں میں سموئے جارہے ہیں۔ عدیلہ کی چیخیں سن رہے ہیں، زینی کی چھٹپٹاہٹ دیکھ رہے ہیں، شیزا کے جسم سے کھرنڈ کھرچ رہے ہوں، افغان لونڈوں کی برسر عام آپس میں جفتی کا نظارہ کررہے ہوں، معیذ،مولوی فطرس، ڈاکٹر فرح، عماد، جنید، ضامن کے والد اور والدہ ، ان سب کی تکراریں، عدواتیں ،محبتیں، نفرتیں، سازشیں گویا ہر انسانی جذبہ اپنے پورے جمال و جلال کے ساتھ جٹا دھاری قصہ گو کی زبان سے رواں دواں ہے جس کی موجیں کبھی اپنے تھپیڑوں سے سامع کو کنارے سے لگاتی ہیں تو کبھی نرم اور ملائم تھپکیوں سے انھیں اپنی آغوش میں بھرلیتی ہیں۔ تصورات کے گھوڑوں کی ٹاپیں پورے جسم کو اسی ردھم میں ہلکورے دے رہی ہیں جس طرح ‘ڈاچی’ کی سواری جس سے ضامن علی نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا؟ لیکن یہ ضامن علی کون ہے؟ بولتا چلا جا رہا ہے، بس بولتا جا رہا ہے، ایک کہانی ختم نہیں ہوتی کہ اس کے بطن سے دوسری کہانی کی زچگی کروا لیتا ہے، ایک کردار اپنے منطقی انجام تک پہنچتا بھی نہیں کہ اس کا ہمزاد سامنے مجسم ہوجاتا ہے، کیا یہ اس کی کہانی ہے یا اس جٹا دھاری کی جو برگد کے نیچے دھونی رمائے بیٹھا ہے ؟لیکن یہاں تو چوپال میں بیٹھا ہوا ہر شخص دل ہی دل میں خود کو ضامن علی پر اپنا حق جمائے بیٹھا ہے، حتیٰ کہ میں بھی، اس قصے کو سننے والی بھیڑ کا ایک ادنیٰ سا حصہ۔
تو یہ تھی میری کیفیت اس پورے ناول ‘کماری والا’ والا کو پڑھتے وقت جو میں نے بے کم و کاست بیان کردی۔ اگر آپ کو یہ مبالغہ لگتا ہے تو لگتا رہے، میری یہ کیفیت نہیں بدلنے والی۔ ان کی بھی نہیں بدلے گی جنھوں نے دادی ماں سے قصے سنے تھے اور وہ انھیں دادی ماں سے زیادہ حقیقی لگے تھے۔ ان کی بھی نہیں بدلے گی جنھوں نے ‘سب رس’ اور ‘طوطی نامہ’ اور ‘کربل کتھا’ پڑھا ہے۔

جوزے اورتیگا گیسے بھی مجھ سے متفق ہے، وہ سوال کرتا ہے ہے؛ اکثریت کے نزدیک جمالیاتی حظ سے مراد کیا ہے؟ جب وہ کسی فن پارے، مثلاً ڈرامہ کے کسی کردار کو’ پسند‘ کرتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں کیا عمل ہوتا ہے؟ جواب بہت آسان ہے۔ ایک شخص کسی ڈرامہ کو اس وقت پسند کرتا ہے جب وہ اس میں پیش کردہ انسانی تقدیروں سے دلچسپی لیتا ہے، جب کرداروں کی محبت و نفرت، خوشی و غم اسے اتنا متاثر کرتے ہیں کہ وہ ان میں شامل ہوجاتا ہے، اس طرح کہ وہ واقعات حقیقی زندگی میں ہو رہے ہوں۔ وہ کسی فن پارے کو ’اچھا‘ اس وقت کہتا ہے جب وہ اس ضروری فریب کی تخلیق میں کامیاب ہو جس سے فرضی کردار حقیقی انسان نظر آتے ہیں۔ اگر ناول ‘کماری والا’ کے کردار، اس کا بیانیہ، اس کی واقعات نگاری، اس کی جزئیات نگاری قارئین کو یہ ‘فریب’ دینے میں کامیاب ہے کہ ان کی نظروں کے سامنے جو فلم چل رہی ہے وہ حقیقی ہے، تو پھر اس میں زبردستی کی علامت اور استعارے اور دانشوری ڈھونڈنے والے اسی طرح اوندھے منھ گرتے ہیں جس طرح مثلاً نیر مسعود کی کہانیوں میں ان لوازمات کو تلاش کرنے والے کئی بار کھا چکے ہیں اور کھا رہے ہیں۔ خورخے لوئیس بورخیس نے اپنے افسانوں میں فرضی مصنفوں کی فرضی کتابوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ، جو ایک حیرت انگیز تجربہ ہے۔ بورخیس کی اس تکنیک سے بعض لوگوں کو اس قدر دھوکہ ہوا کہ انھوں نے اس مفروضہ کتاب کو اصل سمجھ کر اسے حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ کیا آپ کو ‘کماری والا’ میں حقائق کی زندہ تصویروں کا دھوکہ نہیں ہوا اور آپ اس فریب نظر کا شکار ہوئے ہوں جیسے یہ سب کچھ ہمارے آس پاس ہی ہورہا ہو، جیسے شیزا ہمارے پڑوس میں ہی کہیں رہتی ہو، ضامن علی کی ماں کا کردار ہماری پھوپھو یا خالہ یا خود ہماری ماں جیسا ہو، یا عدیلہ کا بے ضرر شوہر تو شاید ہر شہر کے گلی کوچوں میں مل جاتا ہوگا اور ذیشان جیسے ہزاروں لڑکے ‘گرائنڈر ایپ’ میں اپنا شکارڈھونڈتے نظر آجاتے ہیں یا پھر شہر کی تاریک گلیوں اور بھرے بازار میں بھی۔ میں علامت اور استعاروں کی اہمیت کا انکاری نہیں ہوں بلکہ میں بقول وارث علوی آدمی کو علامت بنانے والا جانور سمجھتا ہوں لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم اس کی خاطر متن سے کسی قسم کا سمجھوتہ کریں۔ شاعری اس کا بوجھ سہار سکتی ہے لیکن فکشن ہر گز نہیں، ذرا سی چوک ہوئی اور آپ بال سے باریک اور تیز پُل صراط کے نیچے دہکتی ہوئی آگ کی نذر ہوئے۔ جٹا دھاری علی اکبر ناطق نے چالاکی یہ کی کہ اس نے دانشورانہ چودھراہٹ کے زعم میں شارٹ کٹ راستے کا انتخاب نہیں کیا اور علامت و استعاروں کو اپنی نالائقی ڈھانپنے کے لیے حجاب نہیں بنایا بلکہ وہ کہانی، قصے، کردار، منظر نگاری اور جزئیات نگاری کے شمشیر برہنہ لے کر میدان میں اُترا اور خود ایک ایسا پُل صراط بن گیا جس پر سے گزرنے والا ہر قاری گردو پیش سے بے خبرمسمرائز ہو کر بخیر و خوبی پار اُتر جاتا ہے۔ قصہ مختصر، علی اکبر ناطق اس ناول میں مجھے وہ جٹا دھاری قصہ گو نظر آ رہا ہے جسے ہم نے کبھی ‘کنبھ کے میلے’ میں کھو دیا تھا اور جس کی تلاش قارئین کو عرصہ دراز سے تھی۔ اس لیے میں علی اکبر ناطق کو مبارک باد نہیں دوں گا بلکہ اردو کے قارئین کو ان کے بچھڑے ہوئے قصہ گو کے ملنے کی مبارک باد دینا چاہوں گا۔

اگر آپ اب تک اس جٹا دھاری قصہ گو کے روبرو نہیں ہوئے تو درج ذیل لنک کو کلک کریں، آپ اس چوپال میں پہنچ جائیں گے جہاں قصہ گوئی جاری ہے:
https://store.pothi.com/book/ali-akbar-natiq-kamari-wala/

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*