Home نقدوتبصرہ کلیاتِ خطباتِ شبلی: ایک جامع دستاویز – اسامہ ارشاد معروفی قاسمی

کلیاتِ خطباتِ شبلی: ایک جامع دستاویز – اسامہ ارشاد معروفی قاسمی

by قندیل

علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم عبقری، نابغہ، عہد ساز اور عہد آفرین شخصیت کا نام ہے جو ایک تاریخ بھی ہے، تاریخ کا ایک روشن باب بھی ہے اور تاریخ ساز بھی ہے۔ علامہ شبلی ایسی جامع شخصیت تھے جسے قسام ازل نے متنوع کمالات کا جامع بنایا تھا۔ عالم، مفسر، مؤرخ، سیرت نگار، فلسفی، متکلم، مفکر، ادیب، صحافی، انشاپرداز، نقاد، دانشور، ماہر تعلیم الغرض علامہ کی شخصیت فطرت کا ایک ایسا حسین گلدستہ تھی جسے قدرت نے موزوں و متناسب گلہائے رنگا رنگ سے سجایا تھا۔ ان کی شخصیت میں فہم و فراست، حکمت و تدبر، ذہانت و ذکاوت، بذلہ سنجی و معاملہ فہمی، نکتہ شناسی و نکتہ آفرینی کا وافر حصہ بارگاہ ایزدی سے ودیعت ہوا تھا۔

علامہ شبلیؒ میں تحریری صلاحیت اعلیٰ درجہ کی ہونے کے ساتھ ساتھ تقریر و خطابت کا ملکہ بھی کچھ کم نہ تھا۔ جس کا زندہ ثبوت خطباتِ شبلی ہیں۔ آپ نے جس طرح مختلف مواقع پر خطبات میں اپنے افکار و نظریات پیش کیے ہیں وہ واقعی لائق تقلید ہیں۔ شبلی جن اوصاف و کمالات کا مجموعہ تھے ان میں سے ایک اہم خصوصیات ان کی قوت تقریر کا خداداد ملکہ بھی تھا۔ وہ اعلیٰ درجہ کے مقرر و خطیب تھے اور ان کا شمار ملک کے بڑے بڑے نامور خطیبوں اور مقرروں میں ہوتا تھا اگرچہ ان کی زندگی کے ابتدائی دور میں اس ملکہ کا اظہار نہیں ہونے پایا تھا لیکن علی گڑھ جانے کے بعد جب ان کی پبلک زندگی کا آغاز ہوا تو اس ملکہ خداداد نے پوری نشو و نما حاصل کی اور وہ کالج کی سوسائٹی اور تعلیمی کانفرنسوں کے جلسوں میں تقریریں کرنے لگے اور پھر جب ندوۃ العلماء کی تحریک عمل میں آئی تو اس کے جلسوں میں بھی ان کے خطبات نے خصوصی اہمیت حاصل کی اور وہ ہندوستان میں بے مثل و بے نظیر خطیب و مقرر تسلیم کئے جانے لگے۔ علامہ شبلی کے خطبات اسلامی حکمت اور مغربی فلسفہ کا نچوڑ ہیں، ان خطبات میں علامہ نے موجودہ زمانے کے فکری مسائل اور فلسفیانہ موضوعات پر اسلامی حکمت کے حوالے سے تنقید بھی کی ہے اور مغرب کے جدید علوم کی روشنی میں حکمت اسلامیہ کے بعض اہم مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

’’کلیات خطبات شبلی‘‘ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی بالکل تازہ ترتیب ہے جسے حال ہی ۲۰۲۳ء کے آخر میں انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ اس کے لیے مرتب اور انجمن کے احباب دونوں ہی مبارک باد کے مستحق ہیں، اس کلیات میں علامہ شبلی کے کل ۳۸؍ خطبات شامل ہیں۔ خطبات شبلی کے پہلے مجموعہ میں مولانا سید سلیمان ندوی نے حواشی اور مولانا عبدالسلام ندوی نے دیباچہ لکھا ہے ۱۵؍ خطبات شامل تھے۔ بقیہ تمام ۲۳؍ خطبات شبلی اس کلیات میں بیش قیمت اضافہ ہیں۔ اس طرح اس کلیات میں اب تک کے تمام دستیاب اور نو دریافت خطبات شبلی یکجا ہوگئے ہیں اور یہ اب تک کا سب سے جامع اور مکمل مجموعہ خطبات شبلی ہے۔خطبات کے عناوین اس طرح ہیں: (۱)تہنیت (۲)اعلیٰ تعلیم کی ضرورت (۳)مغربی علوم و فنون (۴)اعلیٰ تعلیم یا ادنی تعلیم (۵)چھوٹے کم درجہ اسکولوں کا قیام (۶)اسلامی علوم و فلسفہ کی تاریخی ترتیب (۷)ایجوکیشنل کانفرنس کی سالانہ رپورٹ پر ریمارک (۸)تہنیت (۹)اصلاح نصاب (۱۰)قدیم عربی نصاب کے نقائص (۱۱)شمس العلماء کا خطاب ملنے پر (۱۲)علماء کے فرائض (۱۳)مجوزہ دارالعلوم (۱۴)شاہ امانت اللہ صاحب غازی پوری کی وفات (۱۵)اسکولوں میں مذہبی تعلیم کا انتظام (۱۶)اصلاح تمدن (۱۷) فارسی زبان و ادب (۱۸)علم کلام (۱۹)ندوۃ العلما کی ضرورت (۲۰)ختم نبوت (۲۱)قدیم و جدید تعلیم (۲۲)الاسلام (۲۳)تعصب اور اسلام (۲۴)سنگ بنیاد دارالعلوم (۲۵)حقوق نسواں (۲۶)تعلیم و تربیت (۲۷)تصوف (۲۸)ندوۃ العلما کی ضرورت (۲۹)رعایا کی وفاداری (۳۰)جبری ابتدائی تعلیمی بل (۳۱)عورت اور اسلام (۳۲)ندوہ کی ضرورت (۳۳)اردو شارٹ ہینڈ (۳۴)شیخ رشید رضا مصر (۳۵)تحفظ اسلام (۳۶)تحفظ مذہب (۳۷)مدرسہ انوار العلوم حیدر آباد (۳۸)اسلام بحیثیت ایک مکمل مذہب کے۔ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی اس کتاب کی وجہ ترتیب اور افادیت کے حوالے سے رقم فرماتے ہیں:

’’راقم کے مطالعات شبلی میں جہاں اور بہت سی نادر و نایاب تحریریں دریافت ہوئیں وہیں متعدد خطبات شبلی بھی ہاتھ ہوئے جو آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس، ندوۃ العلما، انجمن حمایت اسلام لاہور کی رودادوں اور بعض دیگر کتب و رسائل سے دستیاب ہوئے۔ افادیت کے پیش نظر ان خطبات کو اولاً ماہنامہ معارف اعظم گڑھ اور دیگر رسائل و جراید میں شائع کرایا گیا۔ بعد ازاں کتابی صورت میں ’’خطبات شبلی: نو دریافت‘‘ کے نام سے دارالمصنّفین اعظم گڑھ سے شائع کرایا۔ اس کے معاً بعد چند اور خطبات شبلی کتب و رسائل سے ہاتھ آگئے۔ اس میں بعض بے حد اہمیت کے حامل ہیں اس لیے ’’کلیات خطبات شبلی‘‘ کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کا خیال پیدا ہوا اس سے تمام خطبات بیک نظر یکجا سامنے آجائیں گے۔‘‘ (ص: ۳۷)

پیش نظر ’’کلیات خطبات شبلی‘‘ کے موضوعات میں بڑا تنوع، طرفگی اور جامعیت پائی جاتی ہے، مثلاً ان میں ابتدائی تعلیم، اعلیٰ تعلیم و تربیت، مذہبی تعلیم، جبری تعلیم، قدیم و جدید تعلیم اور نصاب تعلیم وغیرہ موضوعات پر متعدد خطبات شامل ہیں۔ اس مجموعہ میں مغربی علوم و فنون کے ساتھ تصوف پر بھی ایک عمدہ خطبہ شامل ہے۔ ایک بڑا عالمانہ خطبہ ختم نبوت کے موضوع پر بھی درج ہے۔ تحفظ مذہب، تحفظ اسلام حقوق نسواں، اسلام کی بہترین جمہوریت اور دیگر موضوعات پر اعلیٰ پایہ کے خطبات شامل ہیں۔ ’’تصوف‘‘ کے عنوان سے خطبہ کا ایک اقتباس دیکھیے:

’’تزکیہ نفس کا نام تصوف ہے۔ روح کو کینہ ہوا و حرص، غصہ سے آپس کی رنجش اور طمع وغیرہ امراض سے پاک کرنے کا نام طریقت ہے، جس طرح جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں اسی طرح روح کو بھی قسم قسم کے امراض لاحق ہوتے ہیں، جس کے طبیب ڈاکٹر حکیم ہیں اور روح کے معالج انبیاء اور اولیاء ہیں۔ فرق صرف مادہ اور روح کا ہے۔ درخت میں تازگی اور بالیدگی کی قوت ہوتی ہے، جس کے بغیر وہ بیکار ہے۔ نہ بڑھ سکتا ہے، نہ پتہ اور شاخیں قائم رہ سکتی ہیں، اسی قوت کا نام روح ہے۔ نماز ہم بھی پڑھتے ہیں، مگر ہماری نماز اور عارف کی نماز میں بہت فرق ہے۔ گو دیکھنے میں وہ ہماری طرح رکوع اور سجود کرتا ہے مگر باطن میں نماز اس کی کچھ اور ہی چیز ہے۔ آیت اور تلاوت تو وہ ہماری ہی طرح کرتا ہے مگر وہ عن الفحشاء والمنکر کا پورا عامل ہوتا ہے۔ وہ شریعت سے ایک اندرونی جدا طریقہ ہے۔ شریعت بیرونی محافظ ہے اور آپ نے سنا ہوگا: محتسب را درون خانہ چہ کار (ص:۲۵۱)

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کو نو دریافت خطبات شبلی جن کتب و رسائل سے ملے ہیں ان کا حوالہ زیر نظر مجموعہ میں ہر خطبہ کے اختتام پر درج کیا گیا ہے جہاں ضرورت محسوس کی گئی ہے وہاں وضاحتی اور تشریحی نوٹس بھی لکھے گئے ہیں۔ آیات قرآنی کی تخریج بھی کردی گئی ہے، جس میں سورہ کے ساتھ آیت نمبر بھی درج کیا گیا ہے۔ بعض آیات اصل خطبات میں نامکمل نقل ہوئی تھیں، انھیں مکمل درج کرکے ان کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔ ’’کلیات خطبات شبلی‘‘ میں متعدد اعلام و اشخاص کا ذکر یا نام آیا ہے۔ خطبات کی تفہیم و توضیح کے لیے حواشی میں اختصار سے ان کا تذکرہ بھی لکھا گیا ہے اس طرح اس میں ۲۲۵؍ سے زائد اعلام و اشخاص کا تذکرہ شامل ہوگیا ہے، جس میں انبیاء صلحا اور مختلف علوم و فنون کے علما و فضلا، ادبا و شعرا، حکما و صوفیا، مستشرقین و ملحدین اور دیگر مذاہب کے ارباب کمال اور اہل فکر و نظر شامل ہیں، اس طرح یہ مجموعہ خطبات ’’شبلی اور جہان شبلی‘‘ کا بھی ایک حصہ ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر اعظمی نے تلاش و تفحص اور تحقیق و تدوین کے یہ تمام امور اس لیے انجام دیے ہیں کہ قارئین کے سامنے خطبات شبلی ہر طور سے مکمل ہوں اور ان کی تفہیم بھی آسان ہو اور ان سے بھرپور اور زیادہ بہتر طور پر استفادہ کیا جاسکے۔

بہرحال یہ کتاب ایک جامع دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اور خطبات شبلی کے حوالے سے اب تک کی سب سے جامع کتاب ہے۔ ڈاکٹر اعظمی صاحب نے اس کتاب کو مرتب کرکے اس سے استفادہ کو آسان اور سہل بنا دیا ہے۔ کتاب ۳۴۴؍ صفحات پر مشتمل ہے، قیمت ۴۰۰؍ روپے ہے، انتساب بمبئی کی بزم علمیہ کی ایک یادگار گرامی قدر پروفیسر عبدالستار دلوی کے نام کیا گیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں مرتب کا ۳۲؍ صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی مقدمہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

 

You may also like