کلیات بسمل ؔبنارسی : ایک مزدور شاعر کی شعری کائنات ـ شکیل رشید

 

ہے تو یہ ایک مزدور شاعر کی کلیات ، لیکن بسملؔ بنارسی کبھی تاجر بھی تھے ۔

ایک ایسے تاجر ، جن کا ، ملک کے بٹوارے کے دوران ، سارا سرمایہ ، مال و اسباب خسارے کی بھینٹ چڑھ گیا تھا ۔ مال بھی کم قیمتی نہیں تھا ، بنارسی ساڑیاں تھیں ، جو ڈھاکہ اور بنگال کے کئی شہروں میں فروخت ہوتی تھیں ! اور پھر لاکھ کوشش کے باوجود ، وہ اپنایہ کاروبار ، کبھی دوبارہ نہیں کر سکے ، ساری زندگی مزدوری کرتے گزری ۔ بسمل ؔبنارسی نے ، جن کا پورا نام محمد ہارون بسملؔ تھا ، تقسیمِ وطن کے المیےکودیکھا تھا ، خوش حالوں کو ، اپنی ہی طرح ، لُٹتے پِٹتے دیکھا تھا ، ان کے اپنے ، ان کی نظروں کے سامنے ہجرت کر گیے تھے ، لیکن انہوں نے ملک چھوڑ کر پاکستان جانا گوارا نہیں کیا ، جد و جہد کا راستہ اختیار کیا ۔ لہذٰا بسملؔ بنارسی کی شعری کائنات میں اگر ’ زخموں کا لباس ‘ ، ’ سانس کا بوجھ ‘، اور ’ جھلسا ہوا گلستان ‘ جیسی اضافتیں پائی جاتی ہیں ، یا اشعار سے ایک مزدور کی تڑپ اور درد و الم کی کیفیت مترشح ہوتی ہے ، جیسے کہ ان اشعار سے؎

ابھی تو آنکھ میں آنسو ہیں چہرے پر اداسی ہے

غمِ حالات سے فرصت ملے تو مسکرائیں ہم

نظر جو پڑ گئی تقدیر کی لکیروں پر

تو اپنے ہاتھ میں محنت کے کچھ نشاں سے ملے

تو اسے بسمل ؔبنارسی کے تجربات ، احساسات کی شدت اور اپنی اور اپنے اطراف کی دنیا کے حقیقی ادراک کے سوا ، کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا ۔ بسمل ؔبنارسی کو ، شاید کبھی غمِ حالات سے اتنی فرصت نہیں ملی کہ وہ چین سے مسکراتے ، اس لیے ان کے کلام کی قرأت پر ایک الم اور حزن کی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ لیکن ، چونکہ یہ الم جدوجہد سے خالی نہیں ہے ، اس لیے نہ یہ حوصلہ شکنی کرتا ہے اور نہ اسں کلام کو بے بسی کی شاعری بننے دیتا ہے ۔ ان کے یہاں شدت کی کڑھن ، شکوہ ، شکایت اور اپنوں کےفریب پر گلہ بھی ہے ، لیکن یہ صرف گلے شکوے کی شاعری نہیں ، یہ ، گلے اور شکوئے کی شکل میں زندگی کے تجربات کو بانٹنے کی بھی شاعری ہے ۔ چونکہ بسملؔ بنارسی کی شاعری کا بنیادی فلسفہ ’ فلسفۂ حیات ‘ ہے ، لہذٰا ان کے کلام کی ہر تشبیہ ، ہر استعارہ اسی فلسفے سے جا ملتا ہے ۔ بسملؔ بنارسی کے انتقال کے کوئی بیس اکیس سال بعد ، ان کے کلام کو ’’ کلیاتِ بسملؔ ‘‘ کے نام سے ، ان کے صاحبزادے نقاد ، شاعر اور اردو زبان و ادب کے ایک مثالی استاذ الیاس شوقی ( چند برس قبل ہی ممبئی کے مشہور مہاراشٹرا کالج سے آپ سبکدوش ہوئے ہیں ) نے مرتب کر کے شائع کیا ہے ۔ الیاس شوقی نے ، اپنے مرحوم والد کےشعری سرمائے کے پیش لفظ ‘ میں ،چند سطروں میں جو بات ( تنقید نہیں ) کہی ہے ، وہ اُس دنیا کی ، جس سے بسملؔ بنارسی گذرے ہیں ، تفہیم کو آسان کرتی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ،’’ ان کے کلام کے تعلق سے میرا پہلا تاثر تھا کہ روایتی قسم کی شاعری ہوگی لیکن کمپوز کرتے وقت ان کے کلام کو غور سے پڑھنے کا موقع ملا تو تاثر بدل گیا ، محسوس ہوا کہ ان کے یہاں روایت کے ساتھ نئی فکر اور نئے مضامین کا بھی خاصا گزر ہے ۔ صرف روایتی عشقیہ شاعری نہیں ہے بلکہ زندگی کے تجربات اور حالات ِ حاضرہ کے رجحانات کا بھی ان کی شاعری میں اچھا خاصا دخل ہے ۔ ‘‘ اس بات کو وہ مزید واضح کرتے ہیں ،’’ دراصل ان کہ شاعری وارداتِ قلبی کی شاعری ہے ۔ زندگی کے جس نشیب و فراز سے وہ گزرے اسے انھوں نے اپنی شاعری میں پیش کر دیا ۔‘‘ اور بلاشبہ ایسی شاعری ، جو زندگی کے نشیب و فراز کو ، اس کے حقیقی رنگ میں پیش کردے ، قاری کو اپنے ساتھ لیےلیے چلتی ہے ۔ اور چونکہ زندگی کا سچ آفاقی ہے اس لیے ایسی شاعری سب کی شاعری بن جاتی اورگزرے ہوئے و جاری وقت پر محیط ہوتی ہے ۔ مثلاًبسملؔ بنارسی کے کچھ اشعار جو گزرے ہوئے وقت کے تناظر میں تھے ، انہیں پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ گزرے ہوئے وقت میں ’ آج کے ہندوستان ‘ کو یا تو دیکھ رہے تھے یا ’ آج کے حالات ‘ کی پیشن گوئی کر رہے تھے ، ملاحظہ کریں:

پھر تعصب نہ انگڑائی لے

پھر نہ بستی سے اٹھے دھواں

دہراتا ہو جیسے کوئی چنگیز کی تاریخ

ہر شہر میں پھر قتلِ بہیمانہ وہی ہے

شہر در شہر بہا خون کا دریا ایسا

چشمِ عالم نے نہ دیکھا تھا تماشا ایسا

یہ وقت شاید لے گیا اچھے دنوں کی یاد تک

حالات کی اس بھیڑ میں غم بھی ترا تنہا ملا

اگتی ہیں وہاں اب غم و آلام کی فصلیں

بسملؔ وہ جہاں پہلے بہاروں کا نگر تھا

لوگ انسان سے ملنے کو ترس جائیں گے

اک اسی عہد میں آئے گا زمانہ ایسا

بسملؔ رہے اس شہر میں ہم نصف صدی سے

گھر خوف سے کو ئی بھی مقفل نہ ہوا تھا

یہ اشعار غم والم ، یاس اور ناامیدی اور انسان کے حیوان بننے کی تصویر کشی کرتے تو ہیں کہ بسملؔ بنارسی ان ہی تجربات سے گزرے ہیں ، لیکن وہ یہ کہہ کر ، مایوسی و بے بسی کے گرداب سے ابھرنے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں:

سخت مٹی کا بدن ہو تو بگولوں سے لڑو

ورنہ بے سمت ہواؤں میں بکھر جاؤ گے

حالانکہ ایسے اشعار ان کی شعری کائنات میں کم ہیں ،لیکن اس کا ازالہ ان کے لہجے کی کاٹ سے ، جو ہلکا سا طنز لیے ہوئے ہے ، ہو جاتا ہے ،چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

لہو اگلیں گے پاؤں بچ کے چلیے

کہ شہرِ دوست میں شیشے گڑے ہیں

زور طوفاں کا سمجھنا ہے تو کشتی سے اتر

ناخدا کیا ہے خدا کا آسرا لینے کے بعد

تذکرہ تو قاتلانِ شہر کا تھا بزم میں

آپ کا اس بات پر چہرہ ہوا کیوں ہوگیا

ان کے یہاں نئی فکر ، نئے مضامین اورکمال کے روایتی و عشقیہ اشعار بھی ملتے ہیں ، جو ان کی کلیات کو تنوع بخشتے ہیں ، اور اُن کا قاری یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ اچانک ہی ایک دنیا سے کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہے؎

اب یہ عالم ہے تجھے بھولنا چاہا جو کبھی

ایک نیا درد تری یاد نہ آنے سے اٹھا

کسی دن بے تکلف ہم تک آنا ہو تو آ جاؤ

یوں ہی کب تک کریں آخر مناجاتیں،دعائیں ہم

اک چپ سی لگ گئی جو ذرا بے وفا کہا

ہونٹوں کو سی کے بیٹھ گئے ہاں نہ ہوں رہا

کبھی جو روئے تو سناٹے پی گئے آنسو

سیاہ بختی ترا کوئی نوحہ گر ہی نہ تھا

سمیٹتا رہا شب بھر تمازتیں اپنی

سحر ہوئی ہے تو سورج سفر میں آیا ہے

اتنا پوچھا تھا کہ تنہا تو جیے گا کیسے

ایسا خاموش ہوا جیسے بُرا مان گیا

کلیات میں بسمل ؔ بنارسی کی چار بہترین نعتیں بھی شامل ہیں ، ایک شعر پیش ہے؎

ہوتے اگر نہ آپ تو ہوتی نہ کائنات

سب پر خدائے پاک کا احسان آپ ہیں

کلیات میں متفرقات کے تحت قطعات ، رباعیاں ، گیت ، متفرق اشعار اور چھ نظمیں بھی ہیں ۔

الیاس شوقی نے ’’ پیش لفظ ‘‘ میں ایک اہم بات’ بمبئی کے ادبی ماحول سے بننے والی مجموعی فضا ‘ کے تعلق سے لکھی ہے کہ ’’ بڑے شعرا کے ساتھ معاصر ماحول میں جو دوسرے شعرا ہوتے ہیں وہ سب مل کر ماحول سازی کرتے ہیں ۔ اس مجموعے کی اشاعت کا مقصد یہی ہے کہ اس ماحول میں والد صاحب کی شاعری کیاتھی اور کیسی تھی اس کا اندازہ لگایا جا سکے ۔‘‘ چونکہ میں اس ماحول کو تھوڑا بہت دیکھ چکا ہوں اس لیے بلا کسی تردد کے کہہ سکتا ہوں کہ ’بمبئی ‘ کا ادبی ماحول اور اس سے بننے والی مجموعی فضا ’ ممبئی ‘ کے ادبی ماحول اور فضا سے کئی گنا بہتر تھی کہ اس ماحول اور فضا میں بسمل ؔ بنارسی جیسے مزدور بھی اچھی شاعری کرتے تھے ، اب وہ دور خواب ہو گیا ہے ۔ اس خوب صورت کلیات کو ، ادبی پرچے ’ نیاورق ‘ کے مدیر شاداب رشید کے پبلشنگ ادارے ’ کتاب دار ‘ (9869321477) نے خوب صورت اندازمیں شائع کیا ہے ، صفحات 158 ہیں اور قیمت 150 روپیہ ہے ۔