کچھ شریعت کے پاسبانوں سے: اس مظلوم بچی کا قصور کیا ہے؟ـ ایم ودود ساجد

زیر نظر سطور بہت تکلیف دہ ہیں۔ مجھے اس موضوع پر سوچتے ہوئے برسوں گزر گئے۔نہ جانے کتنے ذمہ داروں سے بات کی لیکن شریعت کے پاسبانوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

آج ایک واقعہ ایسا علم میں آیا کہ میں نے عواقب وعوامل کی پروا کئے بغیر لکھنے کا ارادہ کرلیا۔اب شاید سوشل میڈیا ہی سب سے موثر ہتھیار بن گیا ہے۔اب شاید اسی کے ذریعہ اپنے ’بڑوں‘ کو مجرمانہ خواب غفلت سے جگایا جاسکتا ہے۔

ایک بچی کی شادی کو دس سال کا عرصہ گزر گیا۔پچھلے 8 برس سے اس کے شرابی شوہر نے اس کی شکل نہیں دیکھی۔بیوی کا قصور اتنا تھا کہ اس نے صرف شراب پینے کو منع کیا تھا۔وہ اس کے ساتھ ہر تنگی میں گزر بسر کرنے کو تیار تھی۔لیکن وہ اس مردود عادت کو چھوڑنے کیلئے تیار نہ ہوا۔آخر کار تنگ آکر بیوی نے مطالبہ کیا کہ اگر وہ شراب چھوڑنے کوتیار نہیں تو مجھے ہی چھوڑ دے۔

دل تھام کر سنئے گا۔ جس پر پڑ رہی ہے وہ تو سہہ رہی ہے۔لیکن جن پر یہ افتاد نہیں آئی ہے (اور خدا کرے کہ کسی پر یہ افتاد نہ آئے) وہ اپنی بچی کو اس بچی کی جگہ رکھ کر سوچیں۔دہلی کایہ مردود شرابی شوہر مغربی یوپی سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی کو نہ تو اپنے گھر لانے کو تیار ہے اور نہ ہی اس کو طلاق دینے کو تیار ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ طلاق نہیں دینا چاہتے تو میں خلع لینے کو تیار ہوں۔لیکن وہ کہتا ہے کہ”میں تجھے بڑھیا کردوں گا لیکن طلاق نہیں دوں گا۔” اس مردود شرابی کی ایک بچی بھی ہے۔لیکن اسے آج تک اپنی بچی کا نام بھی معلوم نہیں۔

اب علمائے کرام اور مفتیان عظام بتائیں کہ شریعت میں ایسی مظلوم عورت کیلئے راحت کا کیا راستہ ہے؟

میں نے صاحب واقعہ سے اس کی اجازت لے لی ہے کہ ان کا نام پتہ بتائے بغیر اس واقعہ کا ذکر اپنی پوسٹ میں کردوں۔ اس طرح کے واقعات کا مستقل شرعی حل طے کرنے کیلئے ایک مہم کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مہم میں احباب اور علماء کا تعاون درکار ہے۔ یہ کام ہم اِس طرح نہیں کریں گے تو پھر ہمارے دشمن اُس طرح کریں گے۔ وہ طلاق ثلاثہ کی طرح اس اشو کو بھی ایک مہم بنائیں گے۔اور اس کی ساری ذمہ داری علماء کی ہوگی‘ شریعت کے ان پاسبانوں کی ہوگی جو دارالقضاء تو لے کر بیٹھ گئے ہیں لیکن جنہیں نہ ایسی مظلوم بچیوں سے ہمدردی ہے اور نہ جنہیں قضا سے ہی کوئی شغف ہے۔

کچھ دن پہلے ایک ایسی بچی کا معاملہ میرے پاس آیا جس کی شادی کو سات سال گزر گئے تھے۔اس نے اپنے ماں باپ کو بدرجہ مجبوری بتایا کہ جیسی وہ سات سال پہلے اپنے شوہر کے گھر آئی تھی آج تک ویسی ہی ہے۔اس کا شوہر ازکار رفتہ ہے۔۔ اگر صرف اتنا ہی ہوتا (حالانکہ یہ سراسر ظلم ہے) تو روا تھا لیکن اس بچی کو سسرال والے طرح طرح کے طعنے دیتے ہیں۔انہیں اپنے لڑکے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ ایسے میں اس پر دوہرا ظلم ہو رہا ہے۔میں نے علماء وقضاۃ سے رابطہ کیا۔ اس بچی کی داستانِ رنج والم سنائی۔ اُن سے بھی ملا جو "شرعی عدالتیں” لئے بیٹھے ہیں۔ اُن سے بھی ملا جنہیں عالم و فاضل اور قاضئیِ کامل کہاجاتا ہے۔۔ لیکن کسی کے پاس راحت بخش حل نہیں تھا۔مزید براں وہ شرعی مقدمہ کا جو طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ لڑکی کیلئے انتہائی ذلت آمیز ہوتا ہے اور اس میں بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مدد کا رجحان مرد کی طرف ہے۔

جن افراد کو میرا یہ لکھا سمجھ میں نہ آئے یہ تحریر ان کیلئے نہیں ہے۔انہیں اس پر تبصرہ کرنے کی زحمت نہیں کرنی چاہئے۔

میری عرض براہ راست آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ امارت شرعیہ‘ آل انڈیا فقہ اکیڈمی‘ جمعیت علما‘ جماعت اسلامی اور دوسرے تمام کبار علما سے ہے۔ میں نے اولین سطور میں جس سنگین مسئلہ کا ذکر کیا ہے مطلوبہ شرعی اجتہاد کے ذریعہ اس کا فوری طور پرحل نکالا جانا بہت ضروری ہے۔ایسی نہ جانے کتنی بچیاں ہوں گی جو فتین اور شرپسند شوہروں اور ان کے اہل خانہ کے ظلم کا شکار ہوں گی۔

مجھے نوجوان عالم دین اور القرآن اکیڈمی کے بانی مفتی اطہر شمسی کی یہ بات اہم لگی کہ قرآن قانون کی نہیں بلکہ اصول کی کتاب ہے۔اس نے جو اصول بتادئے ہیں ہر دور کے تقاضوں کے مطابق ان اصولوں کی روشنی میں قوانین وضع کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔

آئیے اس مہم کو آگے بڑھاتے ہیں۔اولین واقعہ میں شرعی عدالت کوئی باعزت شرعی حل پیش کرنے میں مجرمانہ حد تک ناکام اور مظلوم بچی کی کوئی مدد کرنے سے قاصر رہی ہے۔ایسا کرنا بلاشبہ ظالم شوہر کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔کیا ہم امید کریں کہ مذکورہ تمام ادارے اور افراد اس طرح کے مسائل کا کوئی مستقل حل طے کرکے مسلمانوں کے سامنے پیش کریں گے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*