کچھ شگفتگی، کچھ سنجیدگی-قاضی عبیدالرحمن ہاشمی

 

Mob.: 09990893596 

E-mail: quaziobaid.hashmi@gmail.com

 

پروفیسر ابن کنول کی حالیہ تصنیف ، خاکوں کا مجموعہ ’کچھ شگفتگی، کچھ سنجیدگی‘ کی ورق گردانی کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ بے تکلف گفتگو کے اندازمیں لکھے گئے اس کتاب کے بیشتر مضامین کافی دلچسپ ہیں۔ ابن کنول نے اپنے کسی بھی مخاطب کا خاکہ اڑانے (تضحیک کرنے) کے بجائے حسب ضرورت شوخی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذہنی حظ کا وافر سامان مہیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے اس کتاب کے مشمولات نے اس لیے بھی متوجہ کیا کہ اس میں اکثر شناسا چہرے اور اردو کے کئی ممتاز ادیب و اساتذہ شامل ہیں جن کے بارے میں ابنِ کنول کے تاثرات جاننے کی خواہش نے کتاب پڑھنے پر راغب کیا۔ اندازہ ہوا کہ ابن کنول نے اپنے کسی بھی مخاطب کے ذکر میں ذہنی کدورت، خشونت اور سفاکیت کامظاہرہ کرنے کے بجائے واجبی احترام اور عقیدت و اخلاص کا رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشک یہ وہ اخلاقی و انسانی اقدار ہیں جن کی فی زمانہ بڑی قلت ہوتی جارہی ہے۔

ان مضامین کو پڑھتے ہوئے مستقل یہ احساس ہوتا رہا کہ علی گڑھ کی ادبی و تہذیبی فضا میں حصولِ تعلیم کے لیے طویل قیام کے دوران ابن کنول کی حسِّ ظرافت نہ صرف پروان چڑھی بلکہ اس پر اردو کے ممتاز ادیب رشید احمد صدیقی کا گہرا اثر پڑا، چنانچہ ایک خصوصیت جو ان دونوں میں مشترک نظر آتی ہے وہ بذلہ سنجی ہے۔ ابن کنول کی تحریروں کو پڑھنے کے دوران ہنسی کے فوارے نہیں چھوٹتے بلکہ زیر لب مسکراہٹ جس لطف و لذت سے آشنا کرتی ہے اس کی سرشاری دیر تک قائم رہتی ہے۔ اس کا حصول کہیں تکرارِ الفاظ اور کہیں تحریف و تنسیخ وغیرہ کی وساطت سے ممکن ہوا ہے۔ اس فنی کارگزاری کی چندمثالیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

اپنے استاد قمر رئیس کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’احترام کرنا الگ چیز ہے اور بیعت کرنا بالکل الگ۔ ہم نے قمر صاحب کو دلی میں، چراغ دلّی کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا تو اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی تھی۔‘‘

قمر صاحب کو چراغ دلّی کہنے میں پوشیدہ بلاغت اور تضاد سے اسی صورت میں لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے جب ہمیں قمر رئیس کے اشتمالی و اشتراکی تشخص اور حضرت نظام الدین اولیاؒ کے خلیفہ اور جلیل القدر صوفی حضرت نصیرالدین محمود چراغ دلی (وفات 1357) کے بارے میں واقفیت ہو۔

قمر رئیس کے تذکرہ میں ذیل کا جملہ بھی توجہ کے قابل ہے جس سے ان کے شاگرد کی گہری محبت اور عقیدت کے ماسوا مفارقت میں افسردگی کا بھی سراغ ملتا ہے:

’’(قمر صاحب) شاہ جہاں پور سے لکھنؤ، علی گڑھ ہوتے ہوئے دہلی آئے اور دہلی میں نصف زندگی گزار کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے واپس شاہ جہاں پور چلے گئے۔‘‘

اسی اسلوب کو جاری رکھتے ہوئے مصنف نے تنویر احمد علوی کے ذکر میں اپنی ذاتی نسبت، محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے:

’’(تنویرصاحب) کیرانہ ضلع مظفر نگر سے علی گڑھ پہنچے، علی گڑھ سے دہلی آگئے۔ پہلے دلی کالج میں رہے، پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو کی صدارت کی اور پھر دلّی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو آئے، پھر کوئی ہجرت نہیں کی، سبکدوش ہوکر گھر ہی گئے۔‘‘

علوی صاحب کے ذکر میں مزید لکھتے ہیں:

’’جو سامنے آتا اس کی تعریف میں ایسے رطب اللسان ہوتے کہ وہ بیچارہ اسی سرشاری میں کئی مہینے سو نہیں پاتا۔ پروفیسر ظہیر صدیقی نے بتایا کہ ’’علوی صاحب نے ان کی اتنی تعریف کی کہ وہ آسمان پر اڑنے لگے، ان کے لیے زمین پر چلنا دشوارہوگیا، لیکن ایک روز دہلی کالج کے گیٹ پر دیکھا کہ تعریف کے ہوبہو وہی الفاظ علوی صاحب دربان کی شان میں بھی استعمال کررہے تھے۔ یہ دیکھ اور سن کر ان کا نشہ ہرن ہوگیاا ور وہ دھڑام سے آسمان سے زمین پر آگرے۔‘‘

مزیدلکھتے ہیں کہ:

’’علوی صاحب علی گڑھ جاکر ایسے باذوق ہوئے کہ پھر کسی بدذوقی کا مظاہرہ نہیں کیا (خیال رہے کہ علوی صاحب کو ذوق کی قصیدہ گوئی کے موضوع پر علی گڑھ سے ڈی لٹ تفویض ہوئی تھی۔‘‘

علوی صاحب کا تعلق دیوبند سے تھا۔ ابن کنول لکھتے ہیں:

‘’شوق و عشق کا قید و بند ہو یا دیوبندکسی کی پرواہ نہیں کرتا‘‘۔ (قید و بند کی مناسبت سے دیوبند)

پروفیسر گوپی چندنارنگ کے تعلق سے بدیہی حقیقت پر مبنی ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’میں نے وائس چانسلر دیپک پینٹل سے کہا کہ 1995 سے نارنگ صاحب کی چھوڑی ہوئی جگہ خالی ہے، اسے بھر دیجیے۔ پینٹل صاحب بولے۔ کوئی گوپی چند نارنگ جیسا آدمی لاؤ، پھر بھر جائے گی۔‘‘

پروفیسر عنوان چشتی کے ذکرمیں کہتے ہیں:

’’درگاہوں میں اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔‘‘

علی احمد فاطمی کی ترقی پسندی اور ان کے والدین کی مذہبیت کے تعلق سے لکھتے ہیں:

’’گھر والے کچھ دن تھوڑا بہت کہیں گے کہ لڑکا بگڑ گیا، پھر اپنے آپ خاموش ہوجائیں گے اور پھر اللہ انھیں خاموش کردے گا۔‘‘ (خاموشی کی تبدیل شدہ معنویت ملاحظہ کیے جانے کے قابل ہے)

مزید لکھتے ہیں کہ:

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا عوام کی خدمت اور مزدور سے محبت بے دین ہوکر ہی کی جاسکتی ہے۔‘‘

فاطمی صاحب کے ذکر میں مزید لکھتے ہیں کہ:

’’ہر سرخ چیز دیکھ کر فاطمی کی طبیعت انقلابی ہوجاتی ہے۔ (سرخ سے خونی انقلاب روس کی جانب اشارہ ہے) اکبر سے پہلے اور بعد کوئی بڑا شاعر اور فکشن نگار الہ آباد میں نہیں پیدا ہوا، بس نقاد پیدا ہوئے جو باہر سے آکر وہاں بس گئے (ابن کنول غالباً بھول گئے کہ فراق جیسا نابغہ روزگار شاعر تمام زندگی وہیں رہا اور وہیں خاک بسر ہوگیا۔

فاطمی نے کچھ عرصہ تک سینٹ جانس کالج آگرہ میں ملازمت کی لیکن الہ آباد والوں نے اس ابھرتے ہوئے نقاد کو کسی دوسرے شہر میں برداشت نہیں کیا اور 1983 ہی میں گھر واپسی ہوگئی (موجودہ سیاسی سیاق میں گھر واپسی کی پھبتی لطف کا باعث ہے)

اپنے دیرینہ رفیق کار پروفیسر ارتضیٰ کریم کے ذکر میں اقبالؔ سے استفادہ کرتے ہوئے انھیں ’ہمدم دیرینہ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ بلیغ استعاراتی ترکیب معصوم شرارت کے ماسوا دو افراد میں گہری موانست کے تبدیل شدہ پس منظر کو کوزہ میں دجلہ بند کرنے کی دلنشیں مثال کہی جاسکتی ہے۔ ارتضیٰ کریم کے ذکر میں لکھتے ہیں:

’’ان سے ملتے وقت، مستقبل کے اندیشوں سے بے خبر، خوش ہوگیا۔‘‘

مزید لکھتے ہیں:

’’تازہ دوستی تھی۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا (یہاں لڑکا کی معنویت غور طلب ہے، جبکہ ایک دوست اپنے ہم عمر دوست کا تعارف پیش کررہاہے) باوجود اچھے خاصے تجربہ کے ارتضیٰ کریم کی گالیوں میں قصاب پورے والی برجستگی نہیں آپاتی۔ ان پر آمد کا نہیں آورد کا گمان ہوتا ہے۔ گالیاں کمزور آدمی کی طاقت ہوتی ہیں، (آخری فقرہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے)۔‘‘

گالیاں کچھ اردو والوں کا ہی Trade Mark نہیں ہیں۔ اس لذت کے اسیر دیگر علوم کے اساتذہ بھی مل جاتے ہیں، چنانچہ علی گڑھ میں باٹنی کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ابرار مصطفی بھری کلاس میں لڑکے لڑکیوں کو گالی دے دیتے تھے۔ ایک بار اس نازیبا حرکت کی وائس چانسلر سے شکایت پر ان کی طلبی ہوگئی تو وائس چانسلر کے استفسار پر انھوں نے گالی دے کر پوچھا کہ ان کی کس نے جھوٹی شکایت کی ہے۔ وائس چانسلر صاحب مسکرا دیے اور بات ختم ہوگئی۔

پروفیسر خواجہ اکرام الدین کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’انھوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا کہ مدرسۂ شمس الہدیٰ کے مولوی انھیں پکڑ کر نہ لے جائیں بلکہ انھوں نے جے این یو، میں ایک طویل القامت پٹھان کے دامن میں پناہ لی، جنھیں دیکھ کر مولوی دور بھاگتے تھے (یہاں اشارہ ڈاکٹر خواجہ اکرام کے استاد پروفیسر نصیر احمد خاں کی طرف ہے)

پروفیسر محمد زماں آزردہ سے اپنی قربت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اگر کشمیر کے شعبۂ اردو میں تقرر ہوگیا تو آزردہ صاحب سے معلوم کروں گا کہ شیریں کے خطوط آپ کو کہاں سے ملے، وہ تو ہمارے پاس تھے۔‘‘ (اشارہ پروفیسر آزردہ کی کتاب شیریں کے خطوط، کی جانب ہے)

مزیدلکھتے ہیں:

’’مرزا سلامت علی دبیرؔ پر تحقیقی مقالہ لکھتے وقت آزردہ نے لکھنؤ کی گلیوں کی ایسی خاک چھانی کہ خود مرزا دبیرؔکا سلامت رہنا مشکل ہوگیا (سلامت علی دبیر کی رعایت سے لفظ کی بلاغت کس قدر لطف انگیز ہے)

پروفیسر ابن کنول کی خاکہ نما تحریروں کے اس مختصر جائزہ سے مجموعی ادبی مذاق اور دانشورانہ سطح کی بحث سے قطع نظر جو امتیازات قاری کو بیک نظر متاثر اور مسرور کرتے ہیں اور جن کے ارتعاشات کی یہاں ارزانی ہے ان کا تعلق خاکہ نگار کی شگفتگیٔ طبع، ذہانت اور فطری متانت سے ہے، تاہم اعتدال اور ذہنی توازن کی راہ پر مسلسل جادہ پیمائی کے لیے جس ضبط نفس، تحمل اور گرمیٔ اخلاص کی ضرورت ہے، ان کی بھینی بھینی دلنواز خوشبو ان اوراق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی ہے۔

  • خالد ندیم
    4 نومبر, 2020 at 11:17

    خاکوں میں ایک عمدہ اضافہ۔ ابن کنول نے شگفتگی کو اپنی تحریروں کی بنیاد بنایا ہے، البتہ اس شگفتگی کو کشید کرنے کے لیے عہد حاضر کے بعض مقبول خاکہ نگاروں کی طرح شخصیات کا خاکہ نہیں اڑایا، بلکہ شخصیت سے ان کے تعلق خاطر کی عکاسی ہوتی ہے۔ انھوں نے اختصار اور جامعیت سے خاکہ نگاری میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ جملہ

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*