کچھ ہماری بھی توسنیے! ـ ودود ساجد

 

(ایڈیٹر روزنامہ انقلاب، نارتھ)

آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے جتنا کہا نہیں اس سے زیادہ ان کے کہے پر لکھا اور بولاجا چکا ہے۔مگراب ان کی کہی ہوئی ’اچھی باتیں‘ بھی اچھی نہیں لگ رہی ہیں۔انہوں نے گزشتہ 4 جولائی کوغازی آباد میں جو بیان دیا تھا اس کی میں نے بھی ستائش کی تھی۔بیان کے الفاظ انتہائی دل کش‘ تاریخی اور جامع تھے۔آج بھی میں اس بیان کی ستائش پر قائم ہوں۔لیکن میں نے اس ستائش کے ساتھ ہی موہن بھاگوت سے کچھ مطالبات بھی کئے تھے۔میری طرح اور بھی بہت سی شخصیات نے وہی مطالبات دوہرائے تھے۔لیکن ان پر آر ایس ایس کی قیادت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ایسے میں 4 جولائی کے بیانات کی روشنی میں منعقد ہونے والے پروگراموں کی توسیع در توسیع کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ہے۔۔۔

لیکن اب یہ ہورہا ہے کہ اس توسیعی سلسلہ کی اہمیت کو بڑھانے کیلئے بعض موقر علمی ودینی شخصیات ان کے پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں۔۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ اگر آر ایس ایس نے اپنے (۵ ستمبرکو ممبئی میں منعقد ہونے والے مجوزہ) پروگرام میں انہیں مدعو کیا تو وہ ضرور جائیں گے لیکن وہاں جاکر اپنی ہی بات کہیں گے۔۔ ان کے اس عزم سے کچھ امید بندھی تھی کہ وہ انہی مطالبات کو آر ایس ایس قیادت کے سامنے دوہرائیں گے جو موہن بھاگوت کے 4 جولائی کے بیان کے بعد کئے گئے تھے۔ لیکن مولانا کے اس بیان کے بعد شاید انہیں دعوت ہی نہیں دی گئی۔

غازی آباد میں آر ایس ایس اورمسلمانوں کے رشتوں کے تعلق سے شائع ایک کتاب کے اجراء کے موقع پرموہن بھاگوت نے کہا تھا کہ’’(۱) ماب لنچنگ ہندوتوکے خلاف ہے (۲) جو مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑ نے کیلئے کہے وہ ہندو نہیں ہے(۳) ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کی نہیں مذاکرات کی ضرورت ہے (4) ہندوستان سب کا ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ ہندووں کا زیادہ ہے یا مسلمانوں کا زیادہ ہے۔‘‘

کوئی ہوگا جو موہن بھاگوت کے اس چار نکاتی شاندار بیان کی تنقیص کرے گا۔ میں نے 4 جولائی کو ہی اس بیان کا غیر مشروط خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنے بیان کی روشنی میں حکومت سے کہیں کہ (۱) وہ ماب لنچنگ کے خلاف ایک سخت قانون بنائے(۲) متاثرین کو معاوضہ ادا کرے اور(۳) مجرموں کو سزا دلوائے۔ میں نے مسلمانوں سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ موہن بھاگوت کے مذکورہ بیان کا فی الحال کوئی اگر مگر کئے بغیر خیر مقدم کرتے ہوئے مذکورہ مطالبہ دوہرائیں اوران کے بیان کے ’فریم‘ میں ہی ان سے عمل کا مطالبہ کریں۔

موہن بھاگوت کے مذکورہ بیان کی شقیں تھیں ہی ایسی کہ ان کا خیر مقدم بڑے پیمانے پر کیا گیا۔ یہ خیر مقدم اس لئے نہیں تھا کہ مسلمان اپنے عقائد کی تمام نزاکتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فرط محبت میں آر ایس ایس میں مدغم ہوجانا چاہتے ہیں۔بلکہ یہ اس لئے تھا کہ مسلمان ملک بھر میں جاری شرپسندوں کی جارحانہ اور غیر قانونی کارروائیوں سے پریشان ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان شرپسندوں پر قدغن لگے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر ان پر ہاتھ ڈالنے سے ڈر رہے ہیں تو کم سے کم آر ایس ایس ہی انہیں ’اخلاقی‘ طور پر پابند کرے۔ لیکن مسلمانوں کی اس مثبت فکر کا غلط مطلب نکالا گیا۔آر ایس ایس نے اگر یہ سمجھا کہ مسلمان ان کی چکنی چپڑی باتوں سے خوش ہوجاتے ہیں‘ تو وہیں خود مسلمانوں کی بعض دینی شخصیات نے یہ سمجھا کہ آر ایس ایس کے پروگراموں میں اب بے فکر ہوکر شرکت کی جاسکتی ہے۔

موہن بھاگوت کے متذکرہ بالا بیان کے چار نکات کی روشنی میں ایک مختصر جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ ہندوتو کے خلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے ان شرپسندوں کو بھی اس عمل سے باز رہنے کو کہا جو ہندوتو کا نام لے کر ہی یہ عمل انجام دیتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے کہا کہ جو مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑ نے کیلئے کہے وہ ہندو نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر ہمارے وزیر اعظم کی کابینہ میں گری راج سنگھ نامی وزیر صاحب کیا ہیں؟انہوں نے ہی کہا تھا کہ مسلمانوں کو اگر مودی پسند نہیں ہیں تو وہ پاکستان چلے جائیں۔موہن بھاگوت کے بیان کا تیسرا نکتہ یہ تھا کہ ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کی نہیں مذاکرات کی ضرورت ہے۔ یہ نکتہ بلاشبہ بہت اہم ہے۔فی الواقع تقسیم کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہی ضرورت ہے۔لیکن پوری مہذب دنیا میں مذاکرات کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟ کون سا ملک ہے جہاں دو طبقات میں مذاکرات ہوتے ہیں تو بس ایک ہی طبقہ بولتا ہے۔کیا اس طرح کہیں مذاکرات ہوتے ہیں؟

غازی آباد میں 4 جولائی کو کتاب کے اجراء کا جو پروگرام ہوا تھا اس میں تو کسی حد تک صاحب کتاب نے ’بولنے نہ دینے‘ کی کمی پوری کردی تھی اور بھاگوت کے سامنے‘ ان کے بولنے سے پہلے ایک گھنٹے کی تقریر کرکے مسلمانوں کے کئی مسائل کا احاطہ کرلیا تھا۔انہوں نے یہ کہہ کر کہ بھاگوت جی‘ مسلمانوں کے عقائد کے معاملات بہت نازک اور حساس ہیں اور انہیں وہ چھوڑ نہیں سکتے‘ بہت بڑی بات کہہ دی تھی۔ موہن بھاگوت نے انہی کی تقریر کے جواب میں یہ چار نکات بیان کئے تھے۔لیکن ممبئی میں جو ’مذاکراتی‘ پروگرام ہوا اور جس میں صرف چار لوگوں نے گفتگو کی اس میں کسی قابل ذکر مسلمان کواپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔پروگرام میں موہن بھاگوت‘ ان کے بھائی اننت بھاگوت‘ کیرالہ کے گورنرعارف محمد خان اور کشمیر یونیورسٹی کے چانسلر سید عطا حسنین نے ہی خطاب کیا۔ اول الذکر دو حضرات کو جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہا۔لیکن موخر الذکر دو حضرات نے تو خود انہی کو پند و نصائح کئے جو شرپسندوں کے نشانہ پر ہیں۔سید عطا حسنین نے تو جو کچھ کہا وہ اس لایق بھی نہیں کہ انقلاب کے اس کالم میں اسے دوہرایا جائے۔حیرت ہے کہ ہندوستانی فوج کے اعلی عہدوں پر رہنے اور کشمیر یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہونے کے باوجود وہ ایسی نامعقول گفتگو کرتے ہیں۔

اس پروگرام میں مسلمانوں کی کئی موقر دینی اور سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔مغربی یوپی کے مظفر نگر میں قصبہ پھلت کی مشہور تبلیغی شخصیت مولانا کلیم صدیقی بھی اس پروگرام میں اسٹیج کے سامنے سامعین کی صف میں ہمہ تن گوش بیٹھے تھے۔ بعد میں جب انقلاب کے نامہ نگار نے ان سے گفتگو کی تو انہوں نے اس طرح کے پروگراموں کو مثبت قرار دے کر ان کے مسلسل انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کی اس طرح کی کوششوں کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر مولانا کو ممبئی کے اس اسٹیج پر بولنے بھی دیا گیا ہوتا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آر ایس ایس کی پالیسی میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان مذاکرات کے ان پروگراموں میں ان مسلمانوں کو بولنے دینا شامل ہے ہی نہیں جواسٹیج پر آکر اپنے مسائل پر آر ایس ایس کی قیادت کو توجہ دلائیں۔

سوال یہی ہے کہ پھر اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد اور اس میں مسلمانوں کی موقر دینی‘علمی اور سماجی شخصیات کی شرکت کا فائدہ اور جواز ہی کیا ہے۔اگر یکطرفہ طور پر آپ کی ہی بات سننی ہے تو اس کیلئے تو ذرائع ابلاغ موجود ہیں ہی۔محض سننے کیلئے آپ کے دربار میں جاکر با ادب بیٹھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔مسلمانوں کی بہت سی بڑی جماعتیں اپنے اپنے حلقوں اور متبعین پر بڑا اثر رکھتی ہیں۔اگر آپ ان کے دینی وسماجی قائدین کو بلاکر ان کی بھی سنیں تو کم سے کم اتنا اطمینان تو ہو کہ ہم نے اپنی روداد رنج والم بھی آپ کو سنادی۔مسلمانوں کی جن بڑی قابل قبول شخصیات نے آپ کی محفل میں لب سی کر اور ہاتھ باندھ کر آپ کے ’ملفوظات‘ سنے آخر وہ اپنے متبعین کو کیا سنائیں گے اور کیا بتائیں گے؟ اور پھر اس سے ان شرپسندوں پر کیا فرق پڑے گا جنہوں نے ملک بھر میں طوفان اٹھا رکھا ہے؟

موہن بھاگوت جی! میرا موقف اب بھی یہ ہے کہ اگر آپ شرپسندوں کو ایک’جھڑکی‘ بھی دیدیں تو ان کی ہمت نہیں کہ وہ کمزوروں اور دبے کچلے لوگوں کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھیں۔ ہماری یہی آس ہمیں آر ایس ایس سے گفتگو کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔گفتگو کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔گفتگو بہت ضروری ہے۔لیکن گفتگو یکطرفہ نہیں ہوتی بھاگوت جی! آپ خوب سنائیے‘ہم سننے کو تیار ہیں۔لیکن کچھ ہماری بھی تو سنئے۔آپ کو فریق کا نہیں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بظاہر تو آپ سے کوئی لڑائی ہی نہیں ہے۔آپ تو بہت میٹھی زبان بولتے ہیں۔آپ اگر خلاف واقعہ بات کہتے بھی ہیں تو زبان ہی سے تو کہتے ہیں۔شکایت تو ان سے ہے جو آپ کا‘ ہندوتو کا اور ’شری رام‘ کا نام لے کرترشولوں اور لاٹھی ڈنڈوں سے نہتوں اور بے قصوروں پر حملے کرتے ہیں۔ آپ کو تو خود ان شرپسندوں اور ان کے لیڈروں کو بھی اپنے پروگراموں میں مدعو کرکے ان سے پوچھنا چاہئے کہ بتائو تمہیں ان لٹے پٹے لوگوں سے کیا شکایت ہے؟ آپ کو پوچھنا چاہئے کہ بتائو ان کمزورطبقات نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ میرا خیال ہے کہ آپ کو اگلے پروگرام میں یہی کرنا چاہئے۔اور اگر ان شرپسندوں سے یہ سوال آپ نہ کرسکیں تو کم سے کم یہ سوال مسلمانوں کی کسی موقر دینی‘ علمی اور سماجی شخصیت کو ہی کرنے دیجئے۔