کچھ دیر پہلے نیند سے – افتخار عارف

میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیں
نہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیں
لہو میں خاک اُڑتی ہے
بدن ،خواہش بہ خواہش ،ڈھہہ رہا ہے
اور نفس کی آمد و شد دل کی نا ہمواریوں پر بین کرتی ہے
وہ سارے خواب ایک اک کر کے رخصت ہو چکے ہیں جن سے آنکھیں جاگتی تھیں
اور امیدوں کے روزن شہرِ آئندہ میں کھلتے تھے
بہت آہستہ آہستہ
اندھیرا دل میں ، آنکھوں میں ، لہو میں ، بہتے بہتے جم گیا ہے
وقت جیسے تھم گیا ہے
بس اب ایک اور شب، ایک اور پل جب سارے رستے بند ہوں گے
وہ پل جب سارے بندھن، کھڑکیاں، آنگن، اُمیدیں، آرزوئیں، رنگ سب
آہنگ سارے خاک کا پیوند ہوں گے
ادھر کچھ دن سے جانے کیوں اُسی پل کی اُسی ساعت کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
بچھڑنے روٹھنے والوں کو پھر سے لوٹ آنے کی دُہائی دے رہی ہیں
مگر اب کون آئے گا، پلٹ کر کون آیا ہے جنھیں آنا تھا وہ تو آئے بھی اور
کب کے رخصت ہوچکے ہیں
میں سب کچھ جانتا بھی ہوں مگر پھر بھی
مری آنکھوں میں رستہ دیکھتے رہنے کی خو اب بھی وہی ہے
تھکن سے چُور ہوں پھر بھی سفر کی آرزو اب بھی وہی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*