کون بنے گا ان بچوں کا سہارا؟ شکیل رشید 

 

امسال بھی ایس ایس سی کے امتحانات میں بچیوں نے بازی مار لی۔یوں تو اعلیٰ نمبرات سے کامیاب ہونے والی بچیوں میں ہر مذہب بچیوں میں کی بچیاں شامل ہیں لیکن یہاں تذکرہ خاص طور پر مسلم بچیوں کا ہے ۔ 90 اور 95 فیصد نمبرات بہت ساری بچیوں نے حاصل کیے ہیں اور 80 فیصد اور اس سے زائد نمبرات والی مسلم بچیوں کی تو بڑی لمبی فہرست ہے ۔یہ سب ہی خصوصی مبارکباد کی مستحق ہیں کیونکہ امسال کے امتحانات کورونا وباء کے سائے میں ہورہے تھے، طالب علموں پر زبردست ذہنی دباؤ تھا ۔ ایک پیپر میں چھوٹ ضرور دی گئی تھی لیکن امتحانات سب کو دینے پڑے تھے ۔ کامیابیوں کا یہ گراف خوش آئند ہے ۔ بچیوں کی کامیابی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ والدین لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔ اور اس توجہ کا مثبت انعام پا رہے ہیں ۔ توجہ نہ کم ہونی چاہیے اور نہ ختم کیونکہ پڑھی لکھی بچیاں قوم کے مستقبل کو سنوار سکتی ہیں ۔ اور فی الحال ر مستقبل کو روشن بنانا، تعلیم وہ بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول سے ہی ممکن ہے ۔ مگر ایک مسئلہ ہے جس پر توجہ نہیں دی جاتی، وہ ہے بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع کا نہ ملنا ۔ عام طور پر وہ بچیاں جو اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتی ہیں کسی طرح بارہویں تو کر لیتی ہیں مگر اکثر پر آگے کی تعلیم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ یہ اکثر مجبوری کے سبب ہوتا ہے، غربت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روکتی ہے ۔ مسلم سماج میں بڑے بڑے کاروباری مل جائیں گے لیکن ایسے افراد جو اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کی سوچیں، تعلیمی مراکز بنائیں، غریب بچوں کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے سپنوں کو انجام تک پہنچائیں، کم ہی ہیں، انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ۔ وہ سیاست دان جو دولت سے کھیل رہے ہیں وہ بھی قوم کی تعلیمی بدحالی کو سدھارنے کی فکر نہیں کرتے۔اور اگر یہ ایک آدھ تعلیمی ادارے تعمیر بھی کرتے ہیں تو مقصد کمانا ہوتا ہے ۔ ماضی میں لوگ فکر کرتے تھے، وہ قوم کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے تھے، اس کا ثبوت ماضی میں قائم کیے گیے تعلیمی ادارے ہیں جو آج بھی سرگرم ہیں، ہاں بس یہ ہوا ہے کہ ان پر کچھ ایسے افراد آ کر بیٹھ گیے ہیں جو تعلیم کو تجارت بنانے کے ماہر ہیں ۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ ہونہار بچیوں کا تعلیمی سفر اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے تک نہ رکے اس کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کرنا کوئی منصوبہ بنانا ہو گا ۔ایک مسئلہ مسلم لڑکوں کا ہے، یہ تعلیمی میدان میں پچھڑ رہے ہیں، ان میں ایک نئی امنگ پھونکنے کی ضرورت ہے ۔ یہ یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ بھارت میں اگر سر اٹھا کر جینا ہے تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا بہت بہت ضروری ہے ۔اسے ایک تحریک بنا دیا جائے ۔ آج میں ممبئی کے آزاد میدان کے فٹ پاتھ پر رہنے والی اسماء سلیم شیخ کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا، اس بچی نے فٹ پاتھ پر اس حالت میں پڑھائی کی کہ اسے اپنے والد کے لیموں کے شربت کے ٹھیلے پر بیٹھنا پڑتا تھا، علی الصبح بازار جاکر لیموں خریدنے ہوتے تھے ۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، کامیاب ہوئی ۔اسماء کو 40 فیصد نمبرات ملے، بہتوں کو بھلے یہ فیصد کم لگیں لیکن فٹ پاتھ اور سڑک پر بیٹھ کر پڑھائی کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ اس طرح پڑھنا کس قدر دشوار ہے ۔ اس بچی کو آگے پڑھنا ہے، یہ اس کی تمنا ہے ۔ اس بچی کو یووا سینا نے مزید پڑھنے کے لیے پیشکش کی ہے، اسے 21 ہزار روپے، ایک سیمسنگ موبائل، کتابیں اور بیگ دیا ہے ۔یووا سینا کے لیڈر راہل کنال اس بچی کی تعلیم کے لیے ہر ممکنہ مدد کو تیار ہیں۔ افسوس کہ کوئی مسلم سیاست دان، دانشور اور خادم قوم اس بچی کو مبارک باد دینے نہیں پہنچا۔ کوشش کی جائے کہ جو بچے پڑھنا چاہتے ہیں پر استعداد نہیں رکھتے انہیں گود لیا جائے ۔ان بچے بچیوں کو سہارے کی ضرورت ہے ۔ کوئی اس سلسلے میں پہل کرے گا؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)