کوئی سوچے نہ ہمیں ،کوئی پکارا نہ کرے ـ ابرار احمد 

 

کوئی سوچے نہ ہمیں، کوئی پکارا نہ کرے

ہم کہیں ہیں کہ نہیں ہیں کوئی چرچا نہ کرے

 

رات افسوں ہے ،کہیں کا نہیں رہنے دیتی

دن کو سوئے نہ کوئی ،رات کو جاگا نہ کرے

ہم نکل آئے ہیں اب دھوپ میں جلنے کے لیے

کوئی بادل نہیں بھیجے ،کوئی سایہ نہ کرے

 

ان گنت آنکھوں میں ہم جلتے رہے بجھتے رہے

اب بھلے خواب ہمارا کوئی دیکھا نہ کرے

 

ہم نے اک شہر بسا رکھا ہے دیواروں میں

کام جو دل نے کیا ، چشمِ تماشا نہ کرے

 

کوئی اب جا کے ذرا دیکھے تو اس مٹی کو

ایسے سیراب کیا ہے کوئی دریا نہ کرے

 

گو فراموشی کی تکمیل ہوا چاہتی ہے

پھر بھی کہہ دو کہ ہمیں یاد وہ آیا نہ کرے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*