کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے ـ امن شہزادی

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے
گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے

یہ بردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے
کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے

تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے
یہ شال یونہی سرکتی رہے گی شانوں سے

ہماری راہ میں دیوار بن گئے وہ لوگ
جنہیں سنائی نہیں دے رہا تھا کانوں سے

تماشے یونہی نہیں کامیاب ہوجاتے
مکین کھینچ کے لائے گئے مکانوں سے

بہت سے شعر سنائے ہیں گنگنا کے مگر
یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی ترانوں سے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*