کوئی قانون پوری طرح نقصان دہ نہیں ہوتا،کسان نظرثانی کریں:وزیرزراعت

نئی دہلی:حکومت اورکسانوں کو زرعی قوانین پر تعطل کا سامنا ہے۔ حکومت کی تحریری تجویزکومسترد کرتے ہوئے کسانوں نے تحریک تیزکرنے کا انتباہ دیا ہے۔ جمعرات کو کسانوں کے احتجاج کے درمیان وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کاشتکاروں سے ایک بار پھر تجویز پر غور کرنے کو کہا۔ وزیر زراعت نے یہ بھی کہاہے کہ حکومت کو انانہیں ہے۔ہم کھلے دل سے بات کر رہے ہیں۔زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی مخالفت کے درمیان جمعرات کووزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ ایک بار پھر اس تجویزپرغور کریں۔وزیرزراعت نے یہ بھی کہاہے کہ حکومت کو انا نہیں ہے ، ہم کھلے دل سے بات کر رہے ہیں۔وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے اجلاس میں زراعت سے متعلق تین قانون لے کر آئی ہے۔ ان قوانین پرپارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنا موقف بیان کیاتھا۔ بل کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں منظورکیاگیا۔ گفتگو کے دوران تمام اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ تینوں قوانین آج پورے ملک میں لاگوہیں۔نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ہیں۔ مقررہ وقت پر ادائیگی کاانتظام کیاگیا ہے۔ کسانوں کی اراضی کو محفوظ بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیارکی گئی ہیں۔ نئے زرعی قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں۔ وزیر زراعت نے کہاہے کہ کاشتکاروں کو مارکیٹ سے باہر جانے کے بعد بھی چھوٹ دی گئی۔نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت قانون کی ان شقوں پر غور کرنے پر راضی ہوگئی ہے جس پر کسانوں نے کھلے دل سے اعتراض کیاہے۔کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قانون درست نہیں ہے۔ اس قانون سے ایم ایس پی کہیں سے متاثرنہیں ہوتا ہے۔ ہم نے تجویز پیش کی کہ ریاستی حکومت نجی منڈیوں کے نظام کو بھی نافذکرسکتی ہے۔