کتنے گنجل پڑجاتے ہیں ایک گرہ سلجھانے میں ـ منیر جعفری

کتنے گنجل پڑ جاتے ہیں ایک گرہ سلجھانے میں
عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے ریت پہ پھول بنانے میں

تخت پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں مار دیے ہیں کتنے لوگ
قصر کے اونچے دو برجوں پر ایک علم لہرانے میں

دھرتی کے قدموں پر میری پیشانی کا شملہ ہے
اور کہاں تک جھکنا ہو گا اپنا بوجھ اٹھانے میں

تم تو شہد اتار کے واپس آجاتے ہو جنگل سے
کتنی آنکھیں لگ جاتی ہیں درد کی آگ بجھانے میں

اب اجداد کی قبریں کھود کے پوچھ رہے ہیں ماضی سے
مستقبل محفوظ کیا تھا تم نے کس تہہ خانے میں

جسموں کے عرشے پر بیٹھ کے ہم نے دریا پار کیا
جانے کتنے دن لگ جاتے کشتی کے بھر جانے میں

باغِ بغاوت مہک اٹھے گا اس کو خون سے مت سینچو
ورنہ دیمک لگ جائے گی طاقت کے کاشانے میں

ان بانہوں کی گونج میسر ہے میری خاموشی کو
پھر کوئی آواز سنائی کیسے دے ویرانے میں

عبرت کا جزدان کھلا تو حیرت سے ہلکان ہوئے
کیسے کیسے غم بکھرے ہیں دنیا کے خس خانے میں

اپنا آپ انڈیل دیا ہے پھر بھی صراحی خالی ہے
جانے کس کا جام بھرے گا دنیا کے میخانے میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*