کتابوں سے عشق کی آخری صدی کا دوسرا نقطۂ نظر-مولانا عبیداختر رحمانی

یہ شکایت عام ہے اوربہت حد تک بجابھی ہے کہ کتابوں کے قارئین کم ہوتے جارہے ہیں،کتابوں کی خریدوفروخت میں نمایاں کمی آرہی ہے، علمی اورادبی کتابیں اپنی طباعت کےاخراجات بھی پورے نہیں کرپاتیں،کتابیں یاتو ہدیہ کرنی پڑتی ہیں یاپھر رکھے رکھے دیمک کی خوراک بن جاتی ہیں ،بہت پہلے پاکستان میں ایک سروے ہواتھاکہ پاکستانی حضرات کتاب پر کتنا خرچ کرتے ہیں اور کباب پر کتنا خرچ کرتے ہیں تو اس سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کباب پر۱۳؍ روپے اور کتاب پر صرف ایک روپے خرچ کیاجاتاہے، اس پر دلاور فگار نے بھی ایک طنزیہ قطعہ لکھاتھاجس میں بتایاکہ ہماری قوم کبابی ہوچکی ہے جب کہ اس کو کتابی ہوناچاہئے،پاکستان تو بہرحال سرحد پار ہے حیدرآباد جہاں میرا قیام ہے،المعہد العالی الاسلامی وہاں سے لے کر آپ چار مینار تک چلے جائیں، (یہ فاصلہ تقریباً دس کلومیٹر ہوتاہے)کھانے پینے کی بے تحاش دکانیں،ریسٹورینٹ، کیفے ، اورکئی عمدہ قسم کے مندی ہاؤس بھی مل جائیں گے لیکن کتاب کی کوئی اچھی دکان نہیں ملے گی،سعودعثمانی کا شعر تو اس سلسلے میں بہت مشہور ہوچکاہے کہ:

کاغذ کی یہ مہک ،یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

یہ کہنا تو آسان ہے کہ کتابوں سے عشق کی یہ صدی آخری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کتابیں سامنے آبھی رہی ہیں کہ جس سے کسی صاحب ذوق کو عشق ہوجائے؟جس کیلئے دیدۂ ودل فرش راہ ہوجائے اورجس کے انتظار میں گھڑیوں کاانتظارصدی کے احساس میں تبدیل ہوجائے؟

جہاں تک کتابوں کی چھپائی، طباعت اوراشاعت کا معاملہ ہے اس کا تو سیلاب آیاہواہے،طباعت کے شعبہ میں ٹکنالوجی کے انقلا ب سے کتابوں کی ہر چہار طرف بہتات ہے ،نئی نئی کتابیں چھپ کر سامنے آرہی ہیں جو رنگین طباعت کی وجہ سے جنت نگاہ لگتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کتابوں کےاس انبوہ میں ،بھیڑ میں کتنی کتابیں ایسی ہیں جو علم وادب کے معیار پر کھڑی اترتی ہیں، کتنی کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے قاری کو سیراب کرتی ہیں، اس کے فکر ونظر کو جلابخشتی ہیں، قاری کو پڑھ کر لگتاہے کہ اس نے کچھ نہیں بہت کچھ سیکھاہے اوراس کی کوئی علمی کمی پوری ہوئی ہے کوئی علمی خلا پر ہواہے؟

اس پہلو سے اگرآپ کتابوں کاجائزہ لیں گے توافسوسناک صورت حال سامنے آتی ہے،علامہ سید سلیمان ندویؒ نے شاہ ولی اللہ کے عہد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاتھا’’ ہرشمشیر زن حکمرانی کے خواب دیکھ رہاتھا‘‘، اب حالت یہ ہے کہ ہر قلم پکڑنے والانہ صرف بنناچاہتاہے بلکہ طباعت کے شعبہ کی آسانیوں کے پیش نظر بن کررہتاہے۔

چاہے آپ ادب کی وادی کی سیرکریں یاپھر دینی کتابوں کا رخ کریں، دونوں جانب اچھی کتابوں کی افسوسناک حد تک کمی آرہی ہے، اقبال نے مدرسہ وخانقاہ کا شکوہ کرتے ہوئے لکھاتھا:
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ

لیکن یہ بات آج چھپنے والی کتابوںپر بھی پورے طورپر صادق آتی ہے کہ ان کتابوں میں نہ اظہار کا سلیقہ ملتاہے نہ علمی وادبی اسلوب کی چاشنی ملتی ہے اورنہ بے سلیقہ بات کو سلیقہ سے کہنے کا ہنر نظرآتاہے، اورجہاں تک مواد کی بات ہے تو وہ بقول غالب دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ کی طرح کاپی پیسٹ کی مہربانی ہوتی ہے۔

جدید دورمیں ایک نئی بدعت یہ نظرآتی ہے کہ ہر فاضل اولین فرصت میں مصنف بننا اپنافرض منصبی سمجھتاہے ،اوراگرخدا نے استطاعت دی ہے یا اصحاب خیر سے اعانت حاصل کرنے کی صلاحیت دی ہے تو وہ اپنےڈاکٹریٹ یا تخصص کے مقالہ کو چھپوانا ضروری سمجھتاہے ،حالانکہ تصنیف وتالیف ایک صبر آزماکام ہے، بالخصوص علمی وفکری میدان میں تصنیف وتالیف کیلئے ایک طویل عرصہ کی کوہ کنی کی ضرورت ہوتی ہے، ایک عمر چاہئے ہوتی ہے جس میں مصنف زبان کی باریکیوں کو سیکھے، موضوع کے اعتبار سے اسلوب اختیار کرنے پر قدرت حاصل کرے ،پھر وہ زیر بحث موضوع پر اس قدر پڑھے کہ معلومات ابلنے لگیں تب کہیں جاکر تصنیف وتالیف کا نیش عشق گوارا ہوتاہے،ورنہ تو یہ بوالہوس کی حسن پرستی بن کر رہ جاتی ہے اورآج اسی بوالہوسی کی وجہ سے تصنیف وتالیف کا باعزت اور قابل قدر مشغلہ بے وقعت ہوکر رہ گیاہے۔

یہ قدر ت کا قانون ہے کہ اچھی چیز بڑی جدوجہد کے بعد ملتی ہے، ساگوان کے درخت سے لکڑی کے حصول میں آپ کو سالوں انتظار کرناپڑے گا ،لیکن بیل دار پودے مہینے دو مہینے میں پورے چھت پر بھرجائیں گے، لیکن نتیجہ بھی یہی ہے کہ پھر ساگوان کی لکڑی صدیوں کارآمد رہتی ہے اور بیل دار درخت کے بیل مہینوں میں ہی سوکھ کر ضائع ہوجاتے ہیں،پتہ نہیں کیوں آج ہم اس اصول سے غافل ہوگئے ہیں، ہم چارمہینے محنت کرکے کتاب تیار کرلیتےہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا پڑھنا پوری دنیا کے ہرمسلمان پر فرض عین ہے اوراگروہ اس کتاب کو نہیں خریدتا ،نہیں پڑھتاتووہ علمی ذوق سے بے بہرہ ہے۔

کتابوں کے پڑھنے اورخریدنے میں ایک بڑا اثر کتابوں کے جائزہ اور تبصرہ کا ہوتاہے، مغربی دنیا میں کتابوں پر بے لاگ تبصرہ کی وجہ سے تبصرہ پڑھ کر کتاب خرید کر گھاٹے میں نہیں رہتا، اردو دنیا میں تبصرہ نگاری کی حالت یہ ہے کہ مصنف اپنے کسی دوست سے تبصرہ لکھواکر اخبار کو یامجلہ کو بھیج دیتاہے اوروہ اس کو شائع کردیتاہے اوراگر تبصرہ نگار دوست نہ بھی ہوتو تبصرہ نگار آج کل تبصرہ نگاری کے بجائے بقول علامہ شبلی’’مدلل مداحی‘‘کا فریضہ انجام دیتے ہیں، یہ تبصرہ نگار چاہے تبصرہ لکھیں ،یاتقریظ لکھیں، عمومی طورپر اس میں دیانت داری نہیں برتی جاتی، تعلقات اثرانداز ہونے کا خطرہ یا سچ نہ لکھنے کی ہمت یا پھر دونوں ہی وجہ سے عمومی طورپر ہرتبصرہ نگار ایساتبصرہ لکھتاہے جس سے پتہ چلتاہے کہ اس کتاب سے ایک بڑا علمی خلا پرہواہے اور مصنف نے پوری ملت پر یہ کتاب لکھ کر ایسا احسان کیاہے کہ ملت کئی صدیوں تک اس احسان کے بار سے سبکدوش نہیں ہوسکتی، اس طرح کے غلط تبصروں نے تبصرہ کی وقعت کھودی ہے اورشاید ہی کوئی ایساشخص ہو جواب کسی کا تبصرہ پڑھ کر کتاب خریدنے کی بے وقوفی کرے۔

اردو کے تقریباً تمام اخبار میں اداریہ نویس عموماً اخبار کا ایڈیٹر ہوتاہے ،یاوہ جس کو اس کام پر لگادے،وہ ایسا باصلاحیت ہوتاہے کہ کوئی بھی موضوع ہو، کسی بھی فن کی بات ہو، سب پر اداریہ لکھ ڈالتاہے، جب کہ انگریزی اخبارات کا طرز یہ ہے کہ وہاں پہلے اس بات پر اخبار کے صحافی بات کرتےہیں کہ آج کس خبر پر یاکس موضوع پر اداریہ لکھاجائے، پھر اس موضوع کے ماہر صحافی سے اداریہ لکھنے کو کہاجاتاہے، یہ برائی اردو میں تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی ہے کہ ہرشخص ہفت قلم یاہفت موضوع ہے مطلب یہ کہ ہرموضوع پر اس کا قلم تیار ہے، چاہے بات تفسیر کی ہو، یاحدیث وفقہ کی، اصول کی ہویاعلم کلام کی، بلاغت ومنطق کی ہو یاسیرت وسوانح کی، مختصراً عرض کریں تواپنے ہربزرگ منقول ومعقول دونوں میں ماہر فن ہیں،ہر فن میں ماہر ماننے کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ فرد یا شخص کسی فن میںکمال نہیں رکھتا،البتہ ہرفن کی تھوڑی تھوڑی جانکاری اسے ہے،مشہور ماہر لغت امام قاسم بن سلام فرماتے ہیں کہ جب بھی میں نے کسی ایک فن کے ماہر سے مباحثہ کیا تو ہار گیا اورجب کبھی کئی فنون کےماہر سے مباحثہ کیاتوجیت گیا۔

آج پوری دنیا میں تخصصات کا زور ہے،چونکہ کوئی بھی فرد پورے علوم پر حاوی نہیں ہوسکتا، اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ ذوق اوردلچسپی کے موضوع میں مہارت حاصل کی جائے، لیکن ہمارے یہاں کاباواآدم ہی نرالاہے، ایک ہی فرد مفسر،محدث ،فقیہ سب کچھ بنابیٹھاہے، اورایک ہی فرد ہرموضوع پر کتابیں لکھ رہاہے ،جس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ایسی کتابیں وجود میں آتی ہیں جو باوجود مصنف کی عظمت کےاوسط درجے سے آگے کی نہیں ہوتی۔

اردو میں کتب تراجم وسوانح کا جائزہ لیاجائے توصورت حال یہاں اور زیادہ خراب نظرآتی ہے،یہاں سوانح کے بجائے کتاب المناقب لکھے جاتے ہیں اورپوری کوشش کی جاتی ہے کہ حضرت میں کہیں بھی بشریت کا دھبہ نہ لگ جائے ، شکوہ ان سے نہیں ہے جو اس میدان میں نووارد یا نوآموز ہیں، یہ شکوہ ان سے ہے جن کی عمر ہی اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے ،زیربحث شخصیت کی سیرت وسوانح پرتو واقعتاً داد تحقیق دی جاتی ہے اورسوانح نگاری کے اصولوں کی پوری پابندی کی جاتی ہے، لیکن جب مرحلہ زیر بحث شخصیت کے افکار پر نقد کا آتاہے تو سخن دریں است والامعاملہ درپیش ہوتاہے، یہ صرف ایک دو ،آٹھ دس کی بات نہیں ،پورے برصغیر میں دینی سوانح نگاری کا یہی حال ہے، مولانا بدرالحسن قاسمی صاحب نے تومصنف کے روبرو ان کی کتاب کو کتاب المناقب کہہ دیاتھا، حضرت سید احمد شہید ؒ کی تحریک اوراس تحریک میں شامل افراد کو حضرت مولاناعلی میاں نے بڑے وقیع لفظوں میں خراج عقیدت پیش کیاہے ،لیکن ان سب کے باوجود یہ تحریک ناکامی سےہمکنار کیوں ہوئی، اس پر بے لاگ تجزیہ نہیں ملتا،حالانکہ اسلاف کی ناکامی سے ہی سیکھ کر اخلاف کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں ،قسطنطیہ کی فتح میں سابقہ ناکامیوں سے سیکھ کر ہی محمد فاتح نےقسطنطنہ فتح کیاتھا۔

اگر ہم اسلاف کی سیرت وسوانح کا جائزہ لیں توپتہ چلتاہے کہ ایک ایک کتاب میں دس سال بیس سال ،تیس سال بلکہ بعض اوقات پوری زندگی لگادیتے تھے ، تب کہیں جاکر ایک شاہکار وجود میں آتاتھا،بسااوقات تو ایک مصنف ایک ہی کتاب کے لکھنے میں اپنی پوری عمر عزیز صرف کردیتاتھا،لیکن ایسی کتابیں جو ایک عمر صرف کرکے یاپوری زندگی لٹاکر لکھی گئی ہو، تن آسانی سے لکھی گئی ہزاروں کتابوں پر بھاری پڑتی ہے، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ ابن دقیق العید ؒ کی الامام فی شرح الالمام کو حافظ ابن سیوطی کی تمام کتابوںپر ترجیح دیتے تھے ،وجہ یہ ہے کہ وہ کتاب ایسی ہے جس میں مصنف نے اپنی پوری علمی صلاحیت نچوڑ کر رکھ دی ہے، ایک ایک حدیث سے سیکڑوں مسائل کااستنباط کیاہے،مثلاً حضرت براء بن عازب کی حدیث سے چار سوفوائد کا استنباط کیاہے۔

خلاصہ ٔکلام یہ ہے کہ ایک جانب جہاں یہ شکوہ بجاہے کہ قاری اورکتاب کا رشتہ دن بہ دن کمزور ہوتاجارہاہے، وہیں اس جانب بھی غورکرنے کی ضرورت ہے کہ آج کس معیار کی کتابیں سامنے آرہی ہیں؟تقریظوں سے گرانبار کتابیں عموما طویل زندگی نہیں پاتیں، اگر کتاب میں زندگی کی حرارت ہو، بہار کی تازگی ہو اور صبح کی مسکراہٹ ہو توپھر باذوق قاری لپک کر اس کااستقبال کرتے ہیں، اوراس کو دل سے لگاتے ہیں، لیکن اگر کتاب ایسی ہو کہ اس میں نہ اسلوب کا جمال ہو، نہ تحقیق کا جلال ہو اور نہ کوئی نیاخیال ہو توپھر ایسی کتابوں کا مقدر ردی کی دکان ہی ہواکرتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*