محبت کا جلی عنوان شاہد علی خان ـ حقانی القاسمی

کتابوں کا مسیحا چل بسا ـ معصوم مرادآبادی

آج صبح کی اولین ساعتوں میں شاہد علی خاں کا نام بھی مرحومین کی مسلسل طویل ہوتی جارہی اس فہرست میں شامل ہو گیا جسے دیکھ کر ہر اردو والا بے چین ہے۔ وہ کچھ عرصہ سے بیمار ضرور تھے لیکن گفتگو میں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ انھیں اپنے مالک حقیقی سے ملنے کی کوئی جلدی ہے۔ حالانکہ وہ عمر طبعی کو پہنچ چکے تھے اور صحت کے مسائل نے انھیں گھر کی چاردیواری میں سمیٹ کر رکھ دیا تھا۔سماعت کمزور ہوجانے کی وجہ سے اونچی آواز میں گفتگو کرتے تھے ،لیکن لہجہ وہی نرم اور گداز رہتا تھا جو ان کی خاص پہچان تھی۔ یادداشت بھی کمزور ہوگئی تھی لیکن اپنے چاہنے والوں کو دور سے پہچان لیتے تھے ۔ وہ کھرے پٹھان تھے اور ان کا وطنی تعلق میری طرح غیور روہیلہ پٹھانوں کے اس قبیلے سے تھا جو روہیلکھنڈ کے اضلاع بریلی، رامپور اور مرادآباد وغیرہ میں پھیلا ہوا ہے۔
شاہد علی خاں نہ کوئی ادیب تھے، نہ شاعر اور نہ صحافی مگر ملک کا کوئی ایسا سرکردہ قلم کار نہیں تھا جو ان کی دسترس میں نہ ہو۔ وہ بہت غیر ت دار انسان تھے اور اسی غیرت نے انھیں مکتبہ جامعہ سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔ وہی مکتبہ جس کو چارچاند لگانے میں انھوں نے اپنی ساری عمر لگادی تھی۔ مکتبہ جامعہ کے بغیر شاہد علی خاں اور شاہد علی خاں کے بغیر مکتبہ جامعہ کا تصور ہی محال تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مکتبہ سے ان کی علیحدگی کے بعد اس ادارے کی جان ہی نکل گئی۔ پچھلے دنوں جب مکتبہ جامعہ کی زبوں حالی پر میں نے ایک مضمون لکھا تو وہ اس بات پر ناراض ہوگئے کہ اس مضمون میں ان کو مکتبہ سے علیحدہ کرنے کی بات کیوں لکھی گئی ہے۔ وہ تو خود مستعفی ہوئے تھے۔ میں نے اس سہو کے لئے ان سے معذرت کی اور معاملہ رفع دفع ہوا۔ حالانکہ طویل تعلقات کے دوران وہ کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے اور مجھے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھا۔ جب بھی کوئی نئی کتاب آتی تو مبارکباد کا پہلا فون شاہد علی خاں کی طرف سے آتا تھا۔ وہ کہتے میاں کتاب اولاد کی طرح ہوتی ہے۔
جس زمانے میں وہ مکتبہ جامعہ کے منیجر تھے تو میں نے انھیں بارہا پرانی دہلی کے گلی کوچوں میں کبھی کاغذی، کبھی پریس ، کبھی فلم اور کبھی ٹائیٹل بنانے والوں اور کبھی بائنڈروں کے ساتھ ماتھا پچی کرتے دیکھا۔ وہ مکتبہ کا منیجر ہونے کے باوجود سب کام خود ہی کرتے تھے تاکہ رنگ چوکھا آئے۔ ان کی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزری اور مکتبہ سے مستعفی ہونے کے بعد انھوں نے نہ صرف ” نئی کتاب” کے نام سے ادبی جریدہ نکالا بلکہ اسی نام سے ایک مکتبہ بھی قائم کیا جہاں وہ روزانہ بیٹھتے تھے اور اسی طرح محفل جمتی تھی جیسی کہ بمبئی میں مکتبہ جامعہ کی شاخ میں جمتی تھی ۔ وہاں انھوں نے اچھا خاصا وقت گزارا اور بمبئ کے سبھی بڑے ادیب اور شاعر ان سے ملنے آتے تھے ۔ خراج عقیدت کے طور پر یہ چند بے ترتیب جملے لکھتے وقت مجھے اپنے کرم فرما محترم اظہر عنایتی کا یہ شعر یاد آرہا ہے:
راستو کیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے
میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے