حقانی القاسمی کی کتاب کائنات ـ عبدالمالک بلند شہری

خطۂ اوکھلا اس وسیع و عریض سمندر کے مانند ہے جس کی تہوں میں ہیرے جواہرات بہ کثرت پنہاں ہوتے ہیں ـ مختلف شعبہ ہاے حیات سے وابستہ سرکردہ حضرات کی اس علاقہ میں ایک کہکشاں آباد ہےـ ان میں اردو زبان کے بے لوث خادم اور دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ہمارے محسن و کرم فرما جناب حقانی القاسمی بھی ہیں ـ علمی و ادبی دنیا میں حقانی القاسمی خاصے معروف؛بلکہ موجود دور میں قافلہ اردو کے رہنماؤں میں سے ہیں ـ وہ شہرت و عروج کی اس بلندی پر فائز ہیں جس کے بعد کسی تعریف و توصیف کے حاجت نہیں رہتی ـ وہ دارالعلوم دیوبند کے نمایاں فاضل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ممتاز سابق طالب ہیں اور عہد رواں میں اردو ادب کے حوالے سے اپنی مضبوط اور مرعوب کن شناخت رکھتے ہیں ـ تحقیق و تنقید، ادب و صحافت غرض مختلف اصناف سخن سے ان کا تعلق ہےـ تبصرہ نگاری اور رویو نویسی میں بھی انھیں مہارت حاصل ہےـ تبصرہ و تنقید کے مابین امتیاز کرنے اور دیانتداری و غیر جانبداری کے ساتھ تبصرہ کرنے میں انھیں عالم گیر شہرت حاصل ہےـ ان کی تبصرہ نگاری بابائے اردو مولوی عبدالحق اور قاضی عبدالودود جیسے ممتاز صحافیوں اور ناقدوں سے بڑی حد تک مماثلت رکھتی ہےـ تبصرہ نگاری میں مذکورہ بالا دونوں شخصیتوں کا امتیاز و انفرادیت یہ ہے کہ ان کی تبصرہ نگاری تنقید و تحقیق اور تخلیق کا حسین سنگم ہوتی تھی ـ اسی طرح حقانی کے تبصرے بھی بڑے جامع، مدلل اور مبسوط ہوتے ہیں ـ وہ تخلیق کار کے عہدے و منصب سے مرعوب ہوئے بغیر، پوری بے خوفی اور دیانتداری سے، تخلیق کے باطن میں اتر کراور اس کے مالہ و ما علیہ سے آگاہ ہوکر تبصرے کرتے ہیں اور تخلیق کے محاسن و معائب دونوں کو منظر عام پر لے آتے ہیں ـ ان کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین خالق کے قد و قامت کے بجائے تخلیق کی عظمت سے لگاتے ہیں ـ اسی طرح ان کی ترجیحات میں حاشیائی فنکاروں اور مرکزی علاقوں سے دور دور افتادہ علاقوں میں زبان و ادب کی خدمت کرنے والوں کو منظر عام پر لانا بھی ہےـ ان کی خاص ادا جو مجھے بہت پسند ہے اور مجھے اس کا بارہا تجربہ ہوا کہ وہ نوجوان نسل کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے ہیں – ان کی قلمی کاوشوں کو سراہتے ہیں اور ان کے حوصلوں کو پرواز بخشتے ہیں ـ مجھے جب بھی ان سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا میں ان کے علم و فضل اور تحقیقی بصیرت و تنقیدی شعور سے زیادہ ان کے اخلاق و کردار سے متاثر ہواـ وہ شہرت و عظمت کی اس بلندی پر پہنچنے کے باوجود انتہائی خلیق و ملنسار اور پرانی قدروں کے حامل ہیں ـ ان کا مزاج قلندرانہ ہےـ وہ روایتی صوفی تو نہیں؛لیکن بلا شبہ اپنے پہلو میں ایک درویش ہی کا دل رکھتے ہیں ـ

حقانی عہد رواں میں سپہر ادب کے نیر تاباں ہیں ـ تحقیق و تنقید، تبصرہ نگاری و تجزیہ نگاری میں انھیں مہارت حاصل ہےـ ان کے تبصرے تخلیق و تنقید کا حسین امتزاج ہوتے ہیں ـ انھوں نے کامیاب تبصرہ نگار کی حیثیت سے بہت کم عرصہ میں اپنی مستحکم شناخت بنائی ہےـ ان کے تعلق سے زبان و ادب کے متعدد ممتاز دانشوروں اور ادیبوں نے تحسین آمیز کلمات کہے ہیں اور ان کے ادبی کمالات و تنقیدی اکتسابات کے امتیازات بیان کیے ہیں ـ اس دور کے ممتاز ادیب و صحافی اور اردو کے بے لوث خادم پروفسیرمناظر عاشق ہرگانوی لکھتے ہیں:
حقانی القاسمی اردو تنیقدکا اہم نام ہےـ ان کی تنقید کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ برہمی، خفگی اور ضعیف الاعتقادی سے کام نہیں لیتے بلکہ دیانتداری سے ذہنی صحت مندی کو تنقید میں بروئے کار لاتے ہیں ـ

اسی طرح فاروق ارگلی لکھتے ہیں:
اس دور صارفیت میں علم و فضل کی سیلزمین شپ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی فضاؤں میں حقانی شاید اردو دنیا کی واحد شخصیت ہیں جو ڈاکٹری اور پروفسری کے طرہ ہائے امتیاز کے بغیر علم و آگہی کی عصری خانقاہ کے ایسے بوریہ مشین درویش ہیں،جن کے علمی فنی اور فکری تصرفات و تخلیقی کمالات کے سامنے اقلیم ادب کی دنیا ساز سلطانی و تاجدار سر نیاز خم کرنے پر مجبور ہےـ

حقانی القاسمی کا فکری منطقہ بہت وسیع ہےـ وہ فکر رسا اور ذہن زر خیز کے حامل ہیں ـ لگی بندھی راہوں پر چلنے اور محدود دائرہ میں رہنے سے ان کی طبیعت ابا کرتی ہےـ وہ آفاقی ذہن کے مالک ہیں ـ اپنی راہ خود بنانے پر یقین رکھتے ہیں ـ ان کی تصنیفات و تالیفات ان کی انفرادیت اور جدت پسندی اور روایت سے ہٹ کر کام کرنے کی خوکی آئینہ دار ہیں ـ تکلف بر طرف، دارالعلوم دیوبند ادبی شناخت نامہ وغیرہ اس کی عمدہ مثالیں ہیں ـ مجلہ انداز بیاں بھی اس کا واضح ثبوت ہے جس کے اب تک متعدد نادر، غیر روایتی اور وقیع خاص نمبرات شائع ہوچکے ہیں ـ

وہ عرصہ سے ادب و صحافت، مذھب و سائنس، فکشن و طب سمیت متعدد موضوعاتی کتب پر جامع و مبسوط تبصرے لکھ رہے ہیں اور اہل علم و ادب سے داد و تحسین کے نذرانے وصول کر رہے ہیں ـ ان کے تبصرے بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں اور بڑے بڑے ادبا و اسکالرز کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی کتاب حقانی القاسمی کی تقریظ سے مزین ہو یا پھر ان کی کتاب پر حقانی کا تبصرہ ضرور آئے ـ حقانی کے تبصرے بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے ـ اہل ادب کی خواہش تھی کی یہ سرمایہ رسائل و مجلات کی محدود فضا سے نکل کر کتاب کی وسیع فضا میں آجائے اور ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے، اس کے لیے ادب دوست نوجوان اور حقانی القاسمی کی شخصیت و فن کے سچے قدرداں جناب رضوان احمد نے بیڑا اٹھایا اور بڑی عرق ریزی و ریاضت کے بعد یہ خوبصورت مجموعہ اہل علم کے سامنے پیش کیاـ

زیر نظر کتاب کتاب کائنات حقانی القاسمی کے معنی خیز تبصروں اور فکر انگیز تقاریظ کو محیط ہےـ اس کا انتساب مؤلف کتاب نے اپنے والد مولانا علاؤ الدین کے نام کیا ہےـ کتاب کا آغاز پروفیسر مناظر عاشق کے مقدمہ سے ہوتا ہے جو دس صفحات پر مشتمل ہے، اس میں انھوں نے تبصرہ نگاری کے اصول کی روشنی میں حقانی کے تبصروں کی قدر متعین کی ہے اور ان کی تخلیقی انفرادیت کو دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے، پھر عرض مرتب کے طور پر مؤلف نے تبصرہ نگاری کی تاریخ و اہمیت اور اس فن کے رجال کار کے تعارف کے طور پر چھپیس صفحات پرمشتمل بڑا معلوماتی مضمون لکھا ہے جو باربار پڑھنے لایق ہےـ اس کے بعد تنقید کے عنوان س حقانی القاسمی کے وہ تبصرے ہیں، جو انھوں نے تنقیدی کتابوں پر لکھے ہیں اس میں بائیس مضامین شامل ہیں جن میں خلیل الرحمٰن اعظمی، عبدالقادر سروری، یونس غزوی، یوسف رامپوری ور فاروق اعظمی سمیت کئی تنقید نگاروں کی کتابیں شامل ہیں ـ اس کے بعد فکشن اور فسانہ کے عنوان سے چھ تبصرے ہیں،سوانح اور شخصیات کے متعلق چار مضامین ہیں،رسائل و جرائد کے تعلق سے تین نگارشات شامل کتاب ہیں پھر تراجم اور تبصرہ کے عنوان س تین مضامین ہیں پھر شاعری کی کتابوں پر اٹھارہ ادبی تبصرے ہیں پھر تہذیب و تاریخ کے عنوان کے تحت تین تبصرے ہیں پھر صحافت و ابلاغیات کے متعلق ایک تبصرہ ہے، آخر میں مضامین کے عنوان سے زندہ شخصیت کی قدر شناسی کی گئی ہےـ

الحمد للہ راقم الحروف نے اس کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اور اس کے لعل و جواہر سے اپنا دامن بھراـ ان کے اسلوب کی انفرادیت تو مسلم ہے ہی ان کا اپنی بات پیش کرنے کا انداز بھی مثالی ہےـ کتاب بڑی ہی خوبصورت ہے اس کا سرورق اتنا جاذب ظر ہے کہ نظر پڑتے ہی بے ساختہ ہاٹھ برھاکر چھونے کو جی چاہتا ہےـ کاغذ بھی اچھی کوالٹی کا ہے،قیمت 500 روپے ہے جو میرے حساب سے زیادہ ہےـ اس کی مناسب قیمت 350 روپے ہونی چاہیےـ ادارہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نے اسے نشر کیا ہےـ حصولِ کتاب کے لیے مؤلف کا رابطہ نمبر یہ ہے: 9868425314