"امینِِ قرطاس و قلم” کا حاصلِ مطالعہ ـ اظہار الحق قاسمی بستوی 

 

محترم مولانا ضیاء الحق خیرآبادی (حاجی بابو) کی عنایتوں کے طفیل کل شام کچھ اہم کتابوں کا بنڈل موصول ہوا۔ بنڈل میں مفتی اجمل قاسمی استاذ مدرسہ شاہی مرادآباد کا حضرت الاستاذ مولانا نورعالم خلیل امینی پر تصنیف کردہ چونسٹھ صفحات کا رسالہ بھی نظر نواز ہوا جس کا بَوجوہ شدت سے انتظار تھا۔

مفتی اجمل صاحب کا یہ رسالہ اتنا شاندار اور دل چسپ ہے کہ ہاتھ لگا اور تھوڑی دیر کے بعد ختم ہوگیا اور دل نے کہا ھل من مزید!

منزلے سیر نہ دیدم وبہار آخر شد

اس رسالے میں مفتی صاحب نے اپنے قلم کے خوب جوہر دکھائے ہیں اور استاذ محترم کے ساتھ اپنے گزارے ہوئے لمحوں اور اوقات کو جس سلیقے کے ساتھ قید کیا ہے وہ بے مثال ہے۔ مفتی صاحب نے اس میں جو کچھ لکھا ہے سب مولانا کو پانچ سال تک قریب سے دیکھ برت کر لکھا ہے اور بقول مولانا امینی "مانگے کے اجالے ” سے پرہیز کیا ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر قاری کو بہت سی نادر معلومات حاصل ہوتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ ایک یتیم بچے سے ایک عبقری شخصیت بننے کے پیچھے بجز توفیق خداوندی کیا اسباب کار فرما ہوتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہیں کہیں تو فصاحت و بلاغت سے پُر ایسے پیراگراف لکھے ہیں کہ دل مچل مچل جائے۔

کتاب پڑھنے والا محسوس کرے گا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اسے بہت کچھ حاصل ہوگیا ہے۔ ایک کامیاب ایڈیٹر کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں اس کا بھی اسے علم ہوگا۔ قلم وزبان کو کیسے صیقل کرنا ہے اس کا طریقہ بھی معلوم ہوگا۔ ایک کامیاب مدرس اور کامیاب انشاپرداز کیسے بنا جاتا ہے اس کا بھی پتہ چلے گا۔ ایک مربی کیسا ہوتا ہے اس کا بھی علم ہوگا۔ کچھ جگہوں پر بے اختیار ہنسی آگئی اور کچھ جگہوں پر آبدیدہ بھی ہوگیا۔

 

خلاصہ یہ کہ کتاب گرچہ مختصر ہے مگر شاندار اور نہایت نفع بخش ہے۔ طباعت بھی دیدہ زیب و دل کش ہے۔ زبان بھی بڑی شاندار ہے پھر ودیعت کردہ مضامین کے تو کیا کہنے! مولانا ممدوح پر لکھی گئی اب تک کی تحریروں میں ایک ممتاز تحریر ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مفتی اجمل صاحب اس حکایت کو قدرے دراز کرتے اور مولانا مرحوم کی زندگی کے مزید گوشے سامنے آتے۔ خدا کرے کہ کتاب کے نقش دوم میں مزید کی آرزو کی تکمیل ہو!

 

اللہ تعالیٰ حضرت الاستاذ کو زبان رسول سے محبت اور اس کی خدمت کے طفیل اپنا قرب خاص عطا فرمائے اور فاضل قلم کار کے قلم کو مزید جولانیاں عطا کرے۔

 

(کتاب مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد مئو، مکتبہ احسان لکھنو، ادارہ علم وادب دیوبند سے حاصل کی جاسکتی ہے)