کسی خیال کو چہرہ نما نہیں سمجھے ـ گل حوریہ

بتا دیا تجھے با قاعدہ نہیں سمجھے
کسی خیال کو چہرہ نُما نہیں سمجھے

دوام اس لیےملتانہیں محبت کو
کہ اس ہنر کو کبھی بےوفا نہیں سمجھے

میں روشنی کے بچاؤ پہ بات چاہتی تھی
مگر چراغ مرا مدّعا نہیں سمجھے

جہاں پہ دل نے کہا بس قدم وہیں رکھا
کہ راستے کو بھی ہم راستہ نہیں سمجھے

قبولیت سے ہیں محرُوم اس لیے بھی کہ ہم
بلند ہاتھوں کو دستِ دُعا نہیں سمجھے

کسی کسی نے ہی میری طلب پہ غور کیا
تمام پُھول مرا مسئلہ نہیں سمجھے

اب اس سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ مجھے
سمجھ گئے مرے احباب یا نہیں سمجھے

  • Moeen Iqbal
    23 اکتوبر, 2020 at 09:49

    ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ اشعار
    اللہ روز بروز ترقی دے, آمین

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*