کسان تحریک:کسانوں نے زرعی قوانین کی کاپیاں جلائیں

نئی دہلی:زرعی قوانین کیخلاف کسان تحریک کا آج 49 واں دن ہے۔کسان مظاہرین آج لوہری کے موقعہ پر زرعی قوانین کی کاپیاں جلا رہے ہیں،ادھر بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیما مالینی نے کہا ہے کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں ، وہ خود نہیں جانتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور زرعی قوانین میں کیاکیا ہے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی کے اشارہ پر مظاہرہ کررہے ہیں۔ہیما مالینی نے یہ بھی کہا کہ زرعی قوانین کے نفاذ کو روکنا اچھی بات ہے ، اس سے معاملہ کو رفع دفع ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کسانوں نے کئی مراحل میں مذاکرات کے بعد بھی کالے قانون کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔منگل کو سپریم کورٹ نے تینوں زرعی قوانین پر عمل درآمد پر روک لگادی، نیز اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے 4 ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ، لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ قوانین جب تک ختم نہیں کیے جا تے، تحریک ختم نہیں کریں گے۔خیال رہے کہ عدلیہ کے ذریعہ جن لوگوں کو کمیٹی کاممبر بنایا گیا ہے ، انہوں نے ماقبل میں ہی زرعی قانون کی حمایت کرچکے ہیں ۔ کسان رہنما راکیش ٹکیت اور ڈاکٹر درشن پال سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے چار ممبران نئے زرعی قوانین کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں، یہ سرکاری لوگ ہیں۔ لہٰذا یہ احتجاج ختم نہیں ہوگا ، 26 جنوری کو راج پتھ پر ٹریکٹر پریڈ کی تیاریاں تیز ہوگی۔