کسانوں کو بھڑکانے کے بجائے ہمارے مثبت اقدام کا خیرمقدم کرے بی جے پی:اشوک گہلوت

جے پور:راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ پر بجلی کے معاملے پر کسانوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا۔وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے کسانوں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے اکسایا اور تمام اسٹیشنوں پر کسانوں کو احتجاج کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اگر ریاستی بی جے پی کے رہنما کسانوں کے بارے میں اتنا ہی پریشان ہیں تو انہیں اپنے مرکز کے قائدین کو مشورہ دینا چاہئے کہ وہ دہلی میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبہ کوقبول کو کرلیں۔سردیوں میں ایک مہینہ سے احتجاج کرنے کی وجہ سے دہلی میں 40 سے زائد کسان بھائی مر چکے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کاشتکاروں کو سردی کے دن میں رات کو کھیتوں کو سیراب کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ لہذا راجستھان حکومت نے فیصلہ کیا کہ کسانوں کو آبپاشی کے لیے دن میں تین فیز بجلی فراہم کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ یکم اپریل 2023 تک ریاست کے تمام اضلاع میں ایک دن میں تین مراحل یعنی تین فیز میںبجلی دستیاب ہوگی۔ اس کے لیے حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا کام بھی شروع کیا۔ گہلوت نے کہا کہ دباؤ کی وجہ سے کچھ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ انجینئرز نے اپنی سطح پر فیصلہ کیا اور دن کے وقت بغیر کسی بنیادی ڈھانچے کے بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اس سے بجلی کے پورے نظام میں خلل پڑا اور بجلی کی فراہمی میں پریشانی پیدا ہوگئی۔ اس کی وجہ سے ریاست کے بہت سے حصوں میں تین مرحلے کے ساتھ سنگل فیز بجلی فراہم کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔