کسانوں کا تاریخ ساز احتجاج-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد

اور امیت شاہ کے ساتھ کسانوں کی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ احتجاج جاری رکھنے اس میں مزید شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ زرعی اصلاحات سے متعلق قوانین کی واپسی سے کم پر کسان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف میڈیا اس احتجاج کو دوسرا رنگ دے رہا ہے۔ چوں کہ ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اکثریت ہے اور اس میں سکھوں کی تعداد نمایاں نظر آرہی ہے تو اُسے خالصتانی تحریک سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک روایت بن گئی ہے کہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز چاہے وہ کسی بھی گوشے سے کیوں نہ ہو اُسے دیش سے غداری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس وقت کسانوں کا احتجاج ایک نئی تاریخ رقم کرچکا ہے۔ ماضی میں کم از کم کسانوں نے اس پیمانہ پر احتجاج نہیں کیا تھا۔ ویسے بھی یہ ہندوستان کے 146.45 ملین کسان خاندانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جس میں سے ایک ملین سے زائد کسان خاندان پنجاب میں رہتے ہیں۔ کسانوں کا یہ الزام ہے کہ زرعی سیکٹر کو بلکہ کسانوں کے مستقبل کو کارپوریٹ گھرانوں کو فروخت کردیا جارہا ہے۔ اڈانی اور امبانی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ابھی تک امبانی اور اڈانی کو بہت سارے شعبے کسی نہ کسی بہانے سے حوالے کیےجاچکے ہیں۔ حالانکہ اڈانی بینک ڈیفالٹرس میں شامل ہے۔ ملک کی معیشت کی تباہی میں ان کا بھی بڑا اہم حصہ ہے۔ مگر پیا جسے چاہے وہی سہاگن کے مصداق ایرپورٹ سے لے کر کئی پبلک سیکٹرس چند کارپوریٹ گھرانوں کے ذمےکیے جارہے ہیں۔ حالانکہ 9؍دسمبر کو اڈانی گروپ کی جانب سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کسانوں کے پراڈکٹس کی خریدی نہیں کرتے۔ صرف ماڈرن اسٹوریج کی سہولتوں کی فراہمی میں ان کی شراکت داری ہے۔ کسان کے ہاتھ میں صرف ہل نہیں ہے بلکہ ان کی نئی نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہے۔ انگریزی بات کرسکتی ہے۔ گلوبل ولیج میں رہتے ہوے وہ عالمی تبدیلیوں پر نظریں مرکوز کیے ہوے ہیں۔ اِن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جو اپنے کسان والدین کے احتجاج میں شامل ہوے ہیں میڈیا کچھ اور ثابت کرنا چاہتی ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ انگریزی بولنے والا کسان کیسے ہوسکتاہے۔ کسان برادری کے ساتھ ہندوستان کے اپوزیشن ہیں۔ اس احتجاج نے دم توڑتی ہوئی اپوزیشن کو ایک نئی توانائی عطا کی ہے۔ یوگیندر یادو جیسے جہاں دیدہ دانشور کسان تحریک کے چیف اڈوائزر ہیں جو مشورے بھی دے رہے ہیں اور حکومت سے کیے جانے والے سوالات مرتب کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسانوں کے حوصلے بلند ہیں۔ وقتی طور پر سہی‘ حکومت کسی قدر پریشان ضرور ہے مگر اپنے فیصلے پر اٹل ہے۔ کیوں کہ کسانوں کے اس زبردست احتجاج کے پس منظر میں راجستھان میں ہونے والے مجالس مقامی کے انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی ملی۔ حالانکہ وہاں حکومت کانگریس کی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک عوام دشمن جتنے بھی مودی حکومت کے اقدامات رہے‘ اس کے خلاف عوامی غم و غصہ تو رہا مگر ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ ویسے پنجاب اور ہریانہ کے الیکشن کو بھی کافی وقت ہے اس لیے بی جے پی حکومت بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ یا تو کسانوں کی تحریک میں پھوٹ ڈال دی جائے گی‘ کچھ لوگوں کو خرید لیا جائے گا یا خود کسان تھک جائیں گے۔ یاانہیں سنگھو سرحد سے واپس بھیجنے کے لیے ایک بار پھر کرونا لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جائے گا۔ جو بھی حالات بہتر نہیں ہیں۔ یوں تو ہندوستان میں کئی عوامی تحریکات کامیاب رہیں‘ جس کے آگے کبھی انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنا پڑا تو کبھی ہندوستانی حکومت کو یا ریاستی حکومتوں کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔ سودیشی تحریک (1905)، ستیہ گرہ (1930ء)، جئے پرکاش نارائن کی حکومت بہار کے خلاف تحریک (1974)، آسام میں بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے خلاف آل آسام اسٹوڈنٹ یونین کی تحریک (1979-85)، مخالف تحفظات بل 2006، تاملناڈو میں جلاکٹو کھیل پر پابندی کے خلاف چنائی کے میرینا بریج پر 2لاکھ سے زائد افراد کا اجتماع، اَنا ہزارے کا رشوت خوری کے خلاف جن لوک پال بل کے لیے تاریخ ساز احتجاج جس نے ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کی بنیادیں ہلادی اور آر ایس ایس‘ بی جے پی کو ایک نئی طاقت عطا کی‘ کیجریوال دہلی کے چیف منسٹر بن گئے‘ یہ اور بات ہے کہ انا ہزارے کو ان کی محنت کا صلہ یہ ملا کہ وہ 6سال سے گمنامی میں بلکہ کورنٹائن میں ہیں۔ ایک طویل عرصہ کے بعد وہ کسان احتجاج میں نظر آئے۔ تلنگانہ تحریک 1969، 1972 اور پھر 2013 جس نے آخرکار ایک نئی ریاست کو جنم دیا۔
کیا کسان تحریک اس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسان جو زمین کا سینہ چیر کر اناج آپ ہم کو فراہم کرتا ہے سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ ایک دور تھاجب ملک کی 75فیصد GDP اگریکلچرسیکٹر کی بدولت ہوا کرتی تھی جو گھٹ کر 14فیصد ہوگئی ہے۔ ہندوستان‘ چین کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہے جس کی سالانہ پیداوار367بلین ڈالرس کی ہے۔جبکہ چین کی پیداوار سالانہ 1005بلین ڈالرس کی ہے۔ ہندوستان کا زرعی سیکٹر ابھی بہت سے معاملات میں پوری طرح سے ماڈرن نہیں ہوسکا۔ پانی، بجلی، ماڈرن فارمنگ اکوپمنٹ کی ابھی بھی قلت ہے۔ روایتی فصلوں پر زیادہ تر کسانوں کا احصار ہے۔ کبھی خشک سالی، کبھی طوفان اور سیلاب سے فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا کسان خودکشی میں راہِ فرار ڈھونڈتا ہے۔ اسٹوریج کی سہولتیں ویسی نہیں ہیں جیسی ہونی چاہیے ۔ جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ٹن اناج تباہ ہوجاتا ہے۔ زرعی سیکٹر کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کےلیے  ماڈرن ٹکنالوجی، ہمہ رخی فصلیں اور ان کا انشورنس، واٹر مینجمنٹ ضروری ہے۔ فصلوں کی کم سے کم قیمتوں کے تعین پر بات چیت رکاوٹوں کا شکار ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے اکنامک پروفیسر اروند پناگڑیاکا ٹائمس آف انڈیا میں (9؍دسمبر 2020) ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ برسوں سے اگریکلچرل پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی ایکٹ APMC Act کے تحت ہر ریاست اپنے مکمل علاقہ کو مختلف مارکٹ ایریاز میں تقسیم کردیتی ہے۔ ہر ایک علاقہ کا انتظام اے پی ایم سی کرتی ہے۔ ریاستی حکومتیں اے پی ایم سی اور کمیشن ایجنٹس کاتقرر کرتی ہے اور ہول سیل ڈیلرس اناج کی خریدوفروخت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اے پی ایم سی مارکٹ یارڈس اور سب یارڈس کا نظم دیتی ہے۔ چنانچہ ہول سیل تجارت میں ان کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ کمیشن ایجنٹس اَناج کی خریدی کے لیے ویلیج کمیشن ایجنٹس کو کسانوں کے پاس بھیجتے ہیں اور یہ اَناج مارکٹ یارڈ لایا جاتا ہے۔ جہاں کمیشن ایجنٹس ہول سیل ڈیلرس کو یہ اَناج فروخت کرتے ہیں۔ جو سب ہول سیلرس کو اور یہ ریٹیلرس کو اور ریٹیلرس صارفین کو اَناج بیچتے ہیں۔ مارکٹ کمیشن ایجنٹس جس قیمت پر یہ پیداوار ہول سیلرس کو فروخت کرتا ہے اس کا تعین ہراج میں کیا جاتا ہے۔ اس درمیان میں کچھ اور عناصر بھی شامل ہوجاتے ہیں‘ ریاستی حکومت کے ٹیکس ، اے پی ایم سی کے ارکان، کمیشن ایجنٹس کی فیس کے نتیجہ میں صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ کسان کو بہت کم معاوضہ ملتا ہے۔ پروفیسر اروند کے مطابق حالیہ اے پی ایم سی قوانین کا مقصد کسانوں کو اگریکلچرل پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی کے چنگل سے نجات دلانا اور زیادہ سے زیادہ بولی لگانے والے کو راست فروخت کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اٹل بہاری واجپائی کے دورِ حکومت میں بھی اسی قسم کے قوانین پر عمل کیا گیا تھا۔ آخر کسان یہ بات کیوں سمجھ نہیں پاتے کہ پروفیسر کے لیے تعجب کی بات ہے۔
کروڑوں کسان نادان نہیں ہیں۔ان میں سے نسل درنسل اس پیشے کو اختیار کیے  ہوے ہیں۔ زمانہ کے اُتار چڑھائو کو جانتے ہیں۔ حکومتوں کے رویے سے واقف ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات حالیہ عرصہ میں مختلف شعبوں کا پرائیویٹائزیشن انہیں اندیشوں سے دوچار کیے ہوے ہیں۔ میڈیا حکومت کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ اپنے ایڈیٹوریلس اور موافق بی جے پی دانشوروں سے خصوصی مضامین لکھائے جارہے ہیں جس میں یہ کہا جارہا ہے کہ کسان احتجاج کامیابی ہوجائے تو پھر مستقبل میں حکومت کاہر اصلاحی اقدام ناکام ہوگا۔ اپوزیشن اسی طرح سے مخالفت کرتی رہے گی۔ ایمانداری سے اگر کسانوں کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو وہ حق پر نظر آتے ہیں۔ خود بی جے پی کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہا ہے کہ ڈیزل کی قیمت 40روپئے فی لیٹر ہونا چاہیے۔ کسان 50روپیے فی لیٹر کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اگر کسان تحریک کی حمایت کررہی ہے تو اس میں ان کی نیک نیتی ہونی چاہیے کیوں کہ کسی مفادات کی آمیزش ہو تو یہ تحریکات اپنے مقصد سے بھٹک جاتی ہیں۔ ہندوستان کے عوام کی اکثریت جن میں یقینا کارپوریٹ سیکٹر اور مٹھی بھر ارب پتی شامل نہیں ہیں‘ کسانوں کے ساتھ ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اپنے مطالبات میں منوانے میں کامیاب رہیں۔