کسانوں پر حملہ دہشت گردانہ عمل،سپا لو َ جہاد قانون کی مخالفت کرے گی:اکھلیش یادو

لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ہفتے کے روز کہا کہ کسی بھی حکومت میں کسان کے ساتھ اس قدر ناانصافی نہیں ہوئی ہوگی ،جیسا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہا ہے۔ یہ کسانوں پر دہشت گردانہ حملہ کے متراداف ہے ۔ اکھلیش نے کہا کہ یہ وہی بی جے پی حکومت ہے ، جس نے کہا تھا کہ ہم کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کردیں گے۔ اکھلیش نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے رہنما اور کارکن کسانوں کی حمایت کررہے ہیں ، اکھلیش یادو کی موجودگی میں چار سابق ایم ایل اے اور 2 سابق ممبران اسمبلی سمیت دو درجن دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی ایس پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔اکھلیش یادو نے کہا کہ میرا خواب وزیر اعظم بننے کا نہیں ہے،بلکہ میرا خواب ریاست کی ترقی ہے۔ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے ، بیشتر کسان اور غریب پریشان اور نالاں ہیں۔ کسانوں کو اپنے دھان کی قیمت نہیں ملی ہے ، اور کسان کالے قانون کیخلاف متحدہوکر شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو سولر پینل کے بارے میں نہیں معلوم، انہوں نے دس ہزار میگاواٹ بجلی بڑھانے کا جھوٹا وعدہ کیا ہے۔ گاؤں کی بجلی کیوں منقطع کردی گئی ۔ گاؤں میں مفت بجلی کیوں نہیں فراہم کی جارہی ہے ؟اکھلیش یادو نے باور کرایا کہ جب تک کاشتکاروں کو ’معاوضہ‘ نہیں مل جاتا،صوبہ کی معیشت بہتر نہیں ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ اکھلیش یادو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی اسمبلی میں لو َ جہاد جیسے قوانین کی سختی سے مخالفت کرے گی،نیز سماج وادی پارٹی کسان بل کی بھی مخالفت کرے گی۔ کم از کم کوئی قانون وضع کیاجائے ،تاکہ کسانوں کو ان کی واجب قیمت مل سکے۔ ایسا قانون ہو، جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے لو َجہاد کے نام پر آرٹیکل 21 دیکھے ، پھر قانون سازی کرے ۔ حکومت نے ابھی تک ریاست میں 1 کروڑ نوکریوں کی فہرست نہیں دی ہے اور وہ روزگار کی بات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق ریاستی وزیر اعظم خان کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے۔ہم اس کے بھی خلاف ہیں ۔ خیال رہے کہ بی ایس پی کے سابق وزراء چودھری لیاقت علی ، سابق ایم ایل اے ضمیر اللہ ، صغیر احمد اور سعید احمد ،جبکہ سابق ممبران اسمبلی وجندر سنگھ اور ٹھاکر رنویر سنگھ نے سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔