کسانوں کو زرعی قوانین پر گمراہ کیاگیا،تحریک صرف ایک ریاست تک محدود:وزیر زراعت

نئی دہلی:وزیر زراعت نریندر تومر نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں کہا کہ کسانوں کو مودی سرکار کے تین نئے زرعی اصلاحاتی قوانین پر اکسایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کی تحریک صرف ایک ریاست کے کسانوں تک ہی محدود ہے۔ اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان حکومت نے زرعی قوانین اور کسانوں کی تحریک سے متعلق حکومت کی وکالت کرنے کے لیے وزیر زراعت کا خطاب آج ایوان میں میں رکھا ۔وزیر نے زراعت اور دیہی علاقوں میں مودی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرنے کے بعد کسان تحریک پر تبصرہ کیا اور کہا کہ کسانوں کو ان قوانین کے بارے میں گمراہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان کی مخالفت کرنے والے انھیں کالا قانون قرار دے رہے ہیں ، لیکن اب تک کوئی بھی یہ نہیں بتا سکا ہے کہ اس میں کالا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دو ماہ سے حزب اختلاف اور کسان یونینوں سے پوچھ رہا ہوں کہ ان قوانین میں کیا کالا ہے تاکہ ہم اسے درست کرسکیں۔ لیکن کوئی بھی کچھ بتا نہیں سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہیں اور نئے قوانین کا مقصد کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہے۔ تومر نے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو ریاستی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین میں ایسی کوئی شقیں موجود نہیں ہیں جس سے کسانوں کی اراضی کے نقصان کا خطرہ ہو۔