کسانوں کاچکا جام اختتام پذیر،دباؤ میں حکومت سے بات چیت نہیں،قانون واپسی کےلیے 2 اکتوبر تک کا وقت:راکیش ٹکیت

نئی د ہلی:زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والی 40 کسان تنظیموں نے ہفتے کے روز دوپہر 12 سے شام 3 بجے تک ملک بھر میں چکا جام کیا۔ مظاہرین نے راجستھان اور ہریانہ کے درمیان شاہجہان پور بارڈر بلاک کردیا۔ ادھر پنجاب کے امرتسر اور موہالی میں کسان گاڑیوں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کے ساتھ ہی جموں پٹھان کوٹ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی متأثر رہی ، تاہم بند کے دوران ایمرجنسی سروس کی گاڑیاںں نہیں روکی گئیں۔ہفتے کے روز چکاجام کے دوران مظاہرین کو دہلی سمیت متعدد مقامات پر حراست میں لیا گیا تھا ، لیکن مجموعی طور پر یہ احتجاج پرامن رہا۔ کہیں سے بھی تشدد یا تخریب کاری کی کوئی خبر نہیں ہے۔ چکاجام کے خاتمے کے بعد ہندوستانی کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ وہ دباؤ میں حکومت سے بات نہیں کریں گے۔ حکومت کو قانون واپس لینے کے لیے 2 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔وہیں راجستھان میں مظاہرین نے کوٹہ میں ٹریکٹر ریلی نکالی، اور الور میں کسانوں نے 10 سے 12 مقامات پر پتھر اور کانٹے دار جھاڑیاں ڈال کر قومی اور ریاستی شاہراہوں کو بند کیا۔جب کہ کانگریس نے کسانوں کے چکاجام کی حمایت کی ہے۔ جب کہ ہریانہ میں کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر اسکولوں میں چھٹی دے دی گئی تھی، روڈ ویز بسیں بھی بند رہیں۔ جبکہ پنجاب میں بی جے پی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں چکاجام کی حمایت کرتی نظر آئیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ26 جنوری کو دہلی میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے پولیس زیادہ چوکس تھی۔ دہلی- این سی آر میں پولیس ، نیم فوجی اور ریزرو فورس کے 50 ہزار اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ دہلی میں تعینات سی آر پی ایف کے تمام یونٹوں سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہیں ۔ چکاجام کے دوران کسانوں کو دہلی میں آنے سے روکنے کے لیے روڈ نمبر 56 ، این ایچ 24 ، وکاس مارگ ، جی ٹی روڈ اور وزیر آباد روڈ پر فورس تعینات کی گئی تھی، ان علاقوں میں بیری کیڈنگ بھی کی گئی تھی۔ دہلی میں ٹکری بارڈر پر پولیس نے ڈرون کے ذریعہ مظاہرین کی نگرانی بھی کی ۔