کسانوں کی راہ میں کیلیں اور کانٹے – معصوم مرادآبادی

راجدھانی دہلی کی سرحدوں پرکسانوں کا ہجوم بڑھتاہی چلا جارہا ہے۔ کسان متنازعہ زرعی قوانین کی واپسی پراڑے ہوئے ہیں جبکہ حکومت ان قوانین کوہرصورت میں نافذکرنے پربضد ہے ۔حکومت کسانوں کے مطالبات پر کان دھرنے کی بجائے ان کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے، جو اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ احتجاج کو کچلنے کی جو راہ اختیار کی گئی ہے، اس نے حالات کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ کسانوں کا ہجوم پہلے ہریانہ سرحد تک محدود تھا ، لیکن یوم جمہوریہ پرتشددکے بعد اس کا دائرہ اترپردیش کی سرحد تک بڑھ گیا ہے اور احتجاج نے زیادہ وسیع شکل اختیار کرلی ہے۔پولیس نے کسانوں کی دہلی آمد کو روکنے کے لیے سنگھو بارڈر پر دس لیول کی بیریکیٹنگ کردی ہے ۔ مظاہرے کی جگہ نوکیلے تاروں سے گھیر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سڑکوں پربڑے بڑے ڈیوائیڈر رکھ کر راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔ کسانوں کے احتجاج کی جگہ سے میڈیا کو بھی دور رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا کو اسٹیج سے ایک کلومیٹر دور سے گھوم کرآنے کا راستہ دیا گیا ہے۔ سنگھو بارڈر کے آس پاس کی سبھی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، جس سے کسانوں کے علاوہ مقامی باشندوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لیے سنگھو، غازی پور اور ٹیکری بارڈر کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بندکردی گئی ہیں۔پولیس نے سڑکوں پر روڈ ڈیوائیڈر کے درمیان کنکریٹ ڈال کرراستوں کو جام کردیا ہے۔ ساتھ ہی روڈ پر کیلیں لگادی گئی ہیں تاکہ کسان دہلی کی طرف نہ آسکیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اپنے ہی شہریوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے صوبائی سرحدوں پر ایسی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہوں جو ملک کی سرحد پر دشمن کو روکنے کے لیے کھڑی کی جاتی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ سنگھو بارڈر پر حکومت نے ایسے مہلک نوکیلے تار اور آہنی انتظامات کیے ہیں کہ جو کوئی ان کی زد میں آئے گا اس کا گوشت جسم سے جدا ہوجائے گا۔
کسانوں کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے حکومت نے وہ تمام حربے اختیار کیے ہیں جو خوفزدہ حکمراں اختیار کرتے ہیں۔اس معاملے میں حکومت کے ردعمل کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں سے بھی خوفزدہ ہے جو اس تحریک کو کسی بھی قسم کی حمایت دے رہے ہیں۔ حال ہی میں فلم اور موسیقی کی بعض عالمی سطح پرمقبول شخصیات نے جب کسانوں کی تحریک پر زبان کھولی تو ان کی زبان بند کرنے کے لیے چاپلوس اداکاروں کی پوری ٹیم میدان میں اتاردی گئی اور سرکاری سطح پر ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا گیا ۔مشہور پوپ گلوکاریانا، امریکہ کی نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس کی بھانجی مینا ہیرس ، ماحولیات کے لیے کام کرنے والی گریٹا اور میا خلیفہ وغیرہ کے تبصروں نے کسانوں کی تحریک کے عالمی سطح پر مقبول ہونے کا ہی عندیہ دیاہے۔حالانکہ ہندوستانی وزارت خارجہ نے ان تبصروں کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے ان شخصیات کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی تحریکوں کو ہندوستان کی جمہوری سیاست کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے اور کوئی بھی تبصرہ کرنے سے پہلے حقائق کو سمجھنا چاہئے۔ حکومت کی اس وضاحت کے باوجود امریکہ نے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ پرامن احتجاج کی حمایت کرتا ہے۔ یہ جمہوریت کا حصہ ہے ۔ کوئی اختلاف ہوتو اسے بات چیت سے حل کرنا چاہئے۔بھارت کے سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے۔‘‘ دوسری طرف برطانیہ میں ای پٹیشن پر لاکھوں لوگوں نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں دستخط کئے ہیں۔اب وہاں کی پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوسکتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو عالمی حمایت حاصل ہورہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی جانی مانی شخصیات بھی اس پر کھل کر اظہارخیال کررہی ہیں۔
کسانوں کی تحریک والے مقامات پر انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی حکومت کی کارروائی پر ایک اخبار میں شائع شدہ مضمون کو شیئر کرتے ہوئے پاپ سنگرریانانے ٹوئٹ کیا’’ ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں؟‘‘انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں کسانوں کو ہیش ٹیگ بھی کیا۔واضح رہے کہ ریانا دنیا کی پانچ امیرترین شخصیات میں شامل ہیںاور ٹوئٹر پر ان کے فالورز کی تعداد دس کروڑ سے زیادہ ہے۔اس دوران ماحولیات کے لیے کام کرنے والی سوئڈن کی دوشیزہ گریٹا تھن برگ کے ٹوئٹ کے خلاف امن میں خلل ڈالنے کا مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ اس نے کہا ہے کہ میں اب بھی کسانوں کے احتجاج کی حمایت کرتی ہوں۔واضح رہے کہ اس قسم کے مقدمات بعض دیگر لوگوں کے خلاف بھی قائم کیے گئے ہیں۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر اترپردیش کے ایک کسان کی موت پر ٹوئٹ کرنے والے سرکردہ صحافیوں پر بھی پولیس نے مقدمات درج کیے ہیں۔ راجدیپ سرڈیسائی اور مرنال پانڈے جیسے صحافیوں کے خلاف مقدمات دہلی کے علاوہ پانچ صوبوں میں دائر کیے گئے ہیں۔ ان میں کانگریس لیڈر ششی تھرور بھی شامل ہیں۔کسانوں کے مطالبات اور احتجاج کی حمایت کرنے والوں کے خلاف جس تیزی کے ساتھ مقدمات قائم ہورہے ہیں اور انھیں سرکاری سطح پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت آخری سانسیں گن رہی ہے، کیونکہ جمہوری نظام میں شہریوں کو جو حقوق حاصل ہوتے ہیں‘ ان میں اظہارخیال کی آزادی بنیادی حقوق کے زمرے میں آتی ہے، لیکن جب کوئی حکومت بولنے، لکھنے اور احتجاج کرنے کی آزادی کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجائے تو پھر جمہوری قدروں کے تئیں اس کی وابستگی صفر ہوجاتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں اپنے بنیادی جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والوں کو اب ملک دشمنوں کے زمرے میں رکھا جارہا ہے اور احتجاج کرنا سب سے بڑا جرم قرار دیا جارہا ہے۔حال ہی میں بہار سرکار نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ جو کوئی کسی قسم کے احتجاج میں شریک ہو گا ، اسے پاسپورٹ ، اورسرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ یعنی پاسپورٹ کے لیے پولیس انکوائری کے دوران یا سرکاری نوکری کے لیے خفیہ رپورٹ کی تیاری کے دوران اگریہ انکشاف ہوا کہ متعلقہ شخص کسی احتجاج یا دھرنے میں شریک ہوا ہے تو اسے ’ مجرمانہ سرگرمی‘ میں شمار کرکے اس کی رپورٹ منفی لگادی جائے گی۔ جبکہ پاسپورٹ ایکٹ مجریہ 1967 میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ان لوگوں کو بھی ملک دشمنوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوسوشل میڈیا پرقابل اعتراض تبصرے کریں گے۔ایسے لوگوں کو پاسپورٹ، سرکاری ملازمت اور بینک لو ن لینے کے لیے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے برس اترپردیش سمیت بی جے پی کے اقتدار والے صوبوں میں ان لوگوں کے خلاف قرقی کی کارروائی کی گئی تھی جنھوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ایسے ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے جنھوں نے تفریق پرمبنی سی اے اے قانون کو واپس لینے کے لیے جمہوری طریقوں سے پُرامن احتجاج کیا تھا۔آج بھی اترپردیش میں ایسے لوگوں کی پکڑدھکڑ کاکام جاری ہے۔ان لوگوں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئی ہیں۔جبکہ یہ لوگ اپنے جمہوری اور دستوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے اور یہ پوری طرح پُرامن تھا، لیکن حکومت نے انھیں سبق سکھانے کے لیے ان پر مقدمات قائم کیے اور ان کی جائیدادیں قرق کی گئیں۔اب یہی صورتحال ان لوگوں کے ساتھ پیش آرہی ہے جو کسانوں کی تحریک میں شامل ہیں یا ان کو اخلاقی مدد فراہم کررہے ہیں۔جمہوریت میں احتجاج کا حق بنیادی آزادی کے ذیل میں آتا ہے اورپوری دنیا میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ عوام کے ووٹوں سے چنی گئی سرکاریں عوام کے تئیں جواب دہ ہوتی ہیں۔ عوامی احتجاج اور جمہوری آوازوں کوکچلنا کسی بھی طور جائز نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری حکومت جمہوریت کا لباس پہن کر غیرجمہوری راستوں پر چل رہی ہے۔ غیرجمہوری اور غیرانسانی طریقوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ملک دشمنی اورغداری سے تعبیر کرنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا ہم ایک اندھی سرنگ میں داخل ہوگئے ہیں؟