کسان تنظیموں کا اعلان،مودی ہمارے من کی بات سنیں،مطالبات سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

نئی دہلی:نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کااحتجاج 11 ویں دن میں داخل ہو گیاہے۔ دہلی ہریانہ بارڈر پر ہزاروں کسان ہیں جوگذشتہ 10 دن سے 24 گھنٹے جمے ہیں۔ غازی پور بارڈر ، ٹکڑی بارڈرپربھی کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کسان براڑی گراؤنڈ میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کسان لیڈر جگموہن سنگھ نے کہاہے کہ ہم اپنی مانگ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ ہم مودی کے من کی بات سن رہے ہیں، اب ان کوہماری بات سننی چاہیے۔کسانوں اور حکومت کے مابین 5 دورکی بات ہوئی ہے لیکن تعطل جاری ہے۔ اب کسانوں نے 8 دسمبر کو بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب سب کی نگاہیں 9 دسمبر کو حکومت سے ہونے والی بات چیت پر مرکوز ہیں۔کسان لیڈر بلدیو سنگھ نہال گڑھ نے کہاہے کہ اس تحریک نے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں بیدارکیا ہے۔ وزرا حیرت زدہ ہیں کہ ہم نے بند کا مطالبہ کیوں کیا۔کسان لیڈر نے کہاہے کہ 8 دسمبر کو صبح سے شام تک بند رہے گا۔ سہ پہر تین بجے تک فلائی اوورجام رہیں گے۔ پرامن مظاہرہ ہوگا۔چنڈی گڑھ سیکٹر 17 کی گراؤنڈ میں ایک بڑا مظاہرہ ہوگا۔انتظامیہ سندھ سرحد پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ فورس کی پہلی حکمت عملی یہ ہے کہ اگر کسانوں کا ہجوم دہلی کی طرف بڑھتا ہے توپھر آگے میں آر اے ایف کی ایک ٹیم ہوگی جو بھیڑ کے سامنے بیٹھے گی ۔