کسان تحریک:سپریم کورٹ نے مرکز،پنجاب اور ہریانہ کو جاری کیا نوٹس،جواب طلب،کل ہوگی سماعت

نئی دہلی:کسانوں کی تحریک سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت بدھ کوہوئی۔ عدالت عظمی نے بھارتی کسان یونین اور کئی دیگر کسان یونینوں کو اس معاملے میں فریق بنانے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے مرکز، پنجاب، ہریانہ کو نوٹس جاری کیا اور انہیں کل تک جواب دینا ہوگا۔ کل اس معاملے میں سماعت ہوگی۔سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے، جو معاملے کو حل کرے گی۔ اس میں کسان تنظیم، مرکزی حکومت اور دیگر لوگ ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فی الحال حکومت اور کسانوں کے مابین حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہاہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کی بات چیت ناکام ہوجائے گی اور یہ جلد ہی ایک قومی مسئلہ بن جائے گا۔ ہم کمیٹی تشکیل دے کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔درخواستوں پر غور کرنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کہ درخواست میں صرف ایک ہی بنیاد ہے کہ یہ مسئلہ آزاد تحریک کا ہے، جس کی وجہ سے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے سالیسٹر جنرل تاشرمہتا سے کہا کہ ہمارے سامنے وہ لوگ نہیں ہیںآپ کے سوا جنہوں نے راستہ روکا ہے ۔ ایس جی نے کہا کہ ہم نے راستہ نہیں روکا۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ راستہ تو آپ نے روکا کسانوں کو دہلی آنے سے ؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کون کون سے کسان یونین ہیں؟ ایس جی نے کہا کہ حکومت بات چیت کررہی ہے۔ایس جی نے بتایا کہ کسانوں کے ساتھ متعدد دور کی بات چیت ہوچکی ہے، لیکن کسان قانون کو منسوخ کرنے پر بضدہیں، وہ حکومت سے ہاں یا نہیں میں جواب چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ کسانوں کی تحریک سے متعلق سپریم کورٹ میں تین درخواستیں دائر کی گئیں ہیں۔ ان درخواستوں پر چیف جسٹس جے ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کی بنچ سماعت کررہی ہے۔ پہلی درخواست میں دہلی کے رہائشی رشبھ شرما نے دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے کسانوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مظاہرے سے کورونا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور لوگوں کو آمدورفت کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکام کو فوری طور پر بارڈر کھولنے کا حکم دیا جائے۔ نیز احتجاج کو معاشرتی فاصلے اور ماسک وغیرہ کے ساتھ کسی خاص جگہ پر منتقل کرنا چاہیے۔