کسان تحریک:سرکار کے ساتھ مذاکرات پھر بے نتیجہ ختم،۱۵ جنوری کو پھر ہوگی بات چیت

نئی دہلی:کسان تحریک کے پیش نظر حکومت سے مذاکرات کا ۸واں دور بھی غیر نتیجہ ختم ہوگیا۔ کسانوں نے حکومت کو واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ آپ کوئی حل تلاش نہیں کرنا چاہتے، اگرسچ مچ ایسا ہی ہے تو ہمیں تحریری طور پر بتادیں، ہم واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ اس میٹنگ میں کسان تختیاں لگاکر بیٹھے تھے ، جس پر پنجابی زبان میں یہ عبارت کندہ تھی :’ مریں گے یا جیتیں گے۔‘ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کسانوں اور حکومت کے مابین اگلا مذاکرہ 15 جنوری کو ہوگا۔آل انڈیا کسان سبھا نے کہا کہ مذاکرات کا ماحول گرم تھا، ہم نے کہہ دیا کہ قانون واپس لینے کے سوا کوئی بھی چیز منظور نہیں ہے۔ ہم کسی عدالت میں نہیں جائیں گے، قانون واپس لیں بصورت دیگر ہماری لڑائی جاری رہے گی، 26 جنوری کو ہماری احتجاجی ’پریڈ ‘ہوگی۔کسان رہنما بلبیر راجے وال نے وزراء سے کہا کہ آپ اپنی ضداور ’انا‘پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے سیکرٹری ، جوائنٹ سکریٹری مقرر لکادیں گے، بیوروکریٹس کوئی نہ کوئی منطق ایجاد کرتے رہیں گے۔ ہمارے پاس بھی ایک فہرست ہے،پھر بھی آپ کا فیصلہ ہے ،کیو کہ آپ حکومت میں ہیں، لوگوں کی بات شاید آپ کو کم لگتی ہے۔ اتنے دنوں سے بار بار میٹنگیں ہوئیں ، مذاکرات ہوئے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ اس معاملہ کا تصفیہ نہیں چاہتے ہیں ۔ تو پھر اس صورت میں وقت کیوں ضائع کیا جائے؟خیال رہے کہ تحریک کے 44 ویں روز ویگیان بھون میں حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر ریلوے کے وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش کے سامنے کسانوں نے زرعی قانون واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا، لیکن وزیر زراعت نے واپس لئے جانے سے صاف انکار کردیا۔وہیںپنجاب کے سابق وزیر سرجیت سنگھ جیانی اور ہرجیت سنگھ گریوال نے جمعرات کی شب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرکے پنجاب میں بی جے پی رہنماؤں کے گھیراؤ اور حملے سے متعلق نقض امن پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ خیا ل رہے کہ پہلے ریاستی بی جے پی صدر اشونی شرما پر حملہ ہوا ، پھر لوگوں نے سابق وزیر تکشن سود کے گھر پر گائے کے گوبر سے بھری ٹرالی پھینک دی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*